پاکستان کرکٹ ٹیم کا ایک یادگار ٹیسٹ میچ اور حنیف محمد کے ریکارڈ
امتیاز احمد نے پاکستان کی پہلی اننگز میں 76 رنز بنائے اور نذر محمد کے ساتھ پارٹنرشپ میں 148 بنا کر انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی پہلی سنچری پارٹنرشپ اور دوسری اننگز میں کپتان میاں محمد سعید کے ساتھ پارٹنرشپ میں 205 اسکور کر کے پہلی ڈبل سنچری پارٹنرشپ بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ دوسری اننگز میں امتیاز احمد کا ذاتی اسکور 131 تھا جو انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی طرف سے پہلی سنچری تھی۔
1951 میں جواہر لال نہرو نے امتیاز احمد کو مہمان کھلاڑی کے طور پر کامن ویلتھ کی مضبوط ٹیم کے خلاف پرائم منسٹر آل انڈیا ٹیم کی طرف سے کھیلنے کی دعوت دی۔ امتیاز احمد نے پرائم منسٹر آل انڈیا ٹیم کی پہلی اننگز میں 300 ناٹ آؤٹ رنز اسکور کیے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں ایشیا کے کسی کھلاڑی کی پہلے ٹرپل سنچری تھی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں امتیاز احمد کی بیٹنگ کے جوہر 1955 نیوزی لینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کے دورے کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں کھل کر سامنے آئے۔
جب امتیاز احمد ساتویں نمبر پر کھیلنے کے لیے میدان میں اترے تو نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز کے 348 اسکور کے مقابلے میں پاکستان کے 111 رنز پر چھ کھلاڑی آؤٹ ہوچکے تھے۔ امتیاز احمد نے وقار حسن سے مل کر اپنی شاندار جا رہا نہ بیٹنگ سے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ امتیاز احمد اور وقار حسن کی ساتویں وکٹ کی پارٹنر شپ میں 308 رنز بنے۔ جو اس وقت تک کی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹنرشپ تھی۔ وقار حسن نے 189 اور امتیاز احمد نے 209 رنز اسکور کیے۔ یہ نہ صرف کسی پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی کی بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی وکٹ کیپر کی پہلی ڈبل سنچری تھی۔ اس کے علاوہ یہ آٹھویں نمبر پر کھیلنے والے ٹیسٹ کرکٹر کا سب سے زیادہ اسکور اور پہلی ڈبل سنچری تھی۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف اس پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ٹیم میں امتیاز احمد اور حنیف محمد کے ساتھ تجربہ کار بلے بازوں میں اوپنر علیم الدین، حنیف محمد کے سب سے بڑے بھائی وزیر محمد، والس میتھائیس اور آل راونڈر عبدالحفیظ کاردار شا مل تھے۔ پاکستان ٹیم کے چند اور اچھے بلے باز، جن میں وقار احمد، مقصود احمد اور چند اور کھلاڑی شامل تھے، ویسٹ انڈیز کے دورے سے پہلے ریٹائر ہو چکے تھے۔ ٹیم میں کچھ نئے کھلاڑی بھی شامل تھے جنہوں نے اس سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی تھی۔
ان میں لاہور کے نوجوان اسٹروک پلیئر سعید احمد جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے اس دورے میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا، پشاور یونیورسٹی کے آف سپنر حسیب احسن جو کراچی میں کلب کرکٹ کھیل چکے تھے اور 17 سال سے کچھ کم عمر کے کراچی کے بائیں بازو سے اسپن بولنگ کروانے والے نسیم الغنی شامل تھے۔ یوں پاکستانی ٹیم چند اچھے، کچھ درمیانے درجے کے اور تین نئے ٹیسٹ میچ کے کھلاڑٰیوں پر مشتمل تھی۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا پہلا ٹیسٹ میچ سولہ جنوری کو باربڈوس (Barbados) کے شہر برج ٹاؤن (Bridgetown) میں کنسنگٹن اوول (Kensington Oval) کے میدان میں شروع ہوا۔ اس سیریز کے لیے دونوں ٹیموں کے مابین طے ہوا تھا کہ ٹیسٹ میچ چھ دن کے ہوں گے ۔ اس میچ میں پہلے دو دن کے کھیل کے بعد تیسرے روز وقفہ تھا اور اس کے بعد اگلے چار روز پھر کھیل تھا۔ موسم کافی گرم تھا۔ اگلے دو تین روز میں گرمی میں اور بھی شدت آ گئی۔ وکٹ پر گھاس نہ ہونے کے برابر تھی اور بھاری رولر نے اس میں دھوپ کی چمک پیدا کر دی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
میچ کا پہلا دن
اوپنرز روہن کینہائی اور کونریڈ ہنٹ نے ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کا آغاز کیا۔ پاکستان کی طرف سے بولنگ کا آغاز فضل محمود اور محمود حسین نے کیا۔ روہن کینہائی محتاط انداز سے کھیلتے رہے جبکہ کونریڈ ہنٹ نے جلد ہی سٹروک کھیلنے شروع کر دیے۔ روہن کینہائی جب لنچ کے وقفے کے کچھ دیر بعد 27 سکور پر فضل محمود کی گیند پر آؤٹ ہوئے تو پہلی وکٹ کی پارٹنرشپ میں 122 رنز بن چکے تھے۔ اس کے بعد گیری سوبرز نے کونریڈ ہنٹ کے ساتھ مل کر اسکور 209 رنز تک پہنچا دیا۔
گیری سوبرز نصف سنچری مکمل کر کے محمود حسین کی گیند پر 52 رنز پر آؤٹ ہوئے تو ویکس کھیلنے کے لیے آئے۔ کونریڈ ہنٹ نے اپنی سنچری مکمل کی اور اپنی پہلی ٹیسٹ اننگز میں سنچری بنانے کا ریکارڈ بنانے والے کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے۔ پہلے دن کے کھیل کے اختتام پر ویسٹ انڈیز نے دو وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز بنائے تھے۔ کونریڈ ہنٹ 142 رنز پر کھیل رہے تھے۔ ویکس بہترین فارم میں تھے۔ انہوں نے پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک کونریڈ ہنٹ کے ساتھ 55 رنز کی پارٹنر شب میں سے تیز رفتاری سے 40 رنز بنائے تھے۔
میچ کا دوسرا دن
کونریڈ ہنٹ میچ کے دوسرے دن کھیل کے آغاز میں ہی اپنے اسکور میں مزید اضافہ کیے بغیر 142 رنز پر ، جن میں 17 چوکے شامل تھے، فضل محمود کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ ان کی جگہ کلائیڈ والکوٹ کھیلنے کے لیے آئے۔ ویکس پوری طرح جم کر کھیل رہے تھے اور باؤلروں پر چھائے ہوئے تھے۔ کلائیڈ والکوٹ اور ویکس کی پارٹنرشپ میں 90 رنز بنے۔ جس میں کلائیڈ والکوٹ کا حصہ 43 رنز کا تھا۔ جب کلائیڈ والکوٹ کاردار کی گیند پر آؤٹ ہوئے تو ویسٹ انڈیز کا اسکور 356 تھا۔
ان کے آؤٹ ہونے کے بعد کولی سمتھ اور ویکس کی کافی طویل پارٹنرشپ میں 185 رنز بنے۔ کولی سمتھ نے بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور 78 رنز بنائے۔ وہ چائے کے وقفے کے بعد علیم الدین کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ دو دن مسلسل باؤلنگ کرنے کے بعد پاکستانی بولرتھک چکے تھے۔ اس لیے علیم الدین کو بھی دو اوور کروانے پڑے جن میں اسے ایک وکٹ مل گئی۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا اسکور چھ کھلاڑی آؤٹ ہونے پر 551 تھا۔ سوائے ویکس کے سب اچھے بیٹسمین آؤٹ ہو چکے تھے۔
اس لیے اگلی تین وکٹیں جلدی گر گئیں۔ ویکس 197 رنز بنا کر آٹھویں نمبر پر محمود حسین کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ ان کی ڈبل سنچری صرف تین رنز سے رہ گئی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ویسٹ انڈیز نے نو کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد 579 رنز پر اپنی اننگز ختم کردی۔ یہ کسی بھی ٹیم کا اس وقت تک پاکستان کے خلاف سب سے بڑا اسکور تھا۔ اس سے قبل ایک بار انگلینڈ نے ایک میچ میں پاکستان کے خلاف 541 رنز بنائے تھے اور آسانی سے پاکستان کو ایک اننگز سے شکست دے دی تھی۔ ورنہ کبھی کسی اور ٹیم نے پاکستان کے خلاف ایک اننگز میں 400 سے زیادہ رنز نہیں بنائے تھے۔
پاکستان کی پہلی اننگز شروع ہوئی تو دوسرے دن کے کھیل کا بہت کم وقت باقی رہ گیا تھا۔ جس کے دوران حنیف اور امتیاز نے محتاط انداز سے کھیل کر 6 رنز بنائے تھے کہ کھیل کا وقت ختم ہو گیا۔ اگلے دن کھیل کا وقفہ اور کھلاڑیوں کے آرام کرنے کا دن تھا۔
میچ کا تیسرا دن۔ پاکستان کی پہلی اننگز
ایک دن کے وقفے کے بعد جب کھیل دوبارہ شروع ہوا تو حنیف اور امتیاز نے محتاط انداز میں کھیلنا شروع کیا۔ لیکن جلد ہی امتیاز 20 رنز بنا کر ، جو پاکستان کی اس اننگز میں کسی کھلاڑی کا سب سے زیادہ اسکور تھا، اور حنیف 17 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کے بعد بھی کوئی کھلاڑی ویسٹ انڈیز کے باؤلروں کے سامنے نہ ٹک سکا۔ اور لنچ کے وقفے سے کچھ دیر بعد ساری پاکستانی ٹیم صرف 106 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ رائے گلکرسٹ نے 32 رنز دے کر 4 کھلاڑی آؤٹ کیے اور کولی اسمتھ نے 23 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔ ویسٹ انڈیز نے فالو آن ڈکلیئر کر کے پاکستان کو دوبارہ کھیلنے کی دعوت دی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

