پاکستان کرکٹ ٹیم کا ایک یادگار ٹیسٹ میچ اور حنیف محمد کے ریکارڈ


میچ کا تیسرا اور پاکستان کی دوسری اننگز کا پہلا دن

پاکستان نے اپنی دوسری اننگز شروع کی تو ابھی نصف دن کا کھیل باقی تھا۔ اور یہی خیال کیا جاسکتا تھا کہ پاکستان کی دوسری اننگز کے مکمل ہونے کی رسمی کارروائی باقی ہے ورنہ ویسٹ انڈیز یہ میچ جیت چکی ہے۔ کیونکہ میچ کا ڈرا ہونا ناممکن تھا۔ پاکستان اپنی پہلی اننگز کا اسکور ملا کر ویسٹ انڈیز سے 473 رنز پیچھے تھا اور میچ کے ساڑھے تین دن باقی تھے۔ 473 رنز کی کمی پوری کر کے بھی پاکستان کو مزید اتنا اسکور کرنا تھا اور اتنی دیر تک کھیلنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے پاس میچ جیتنے کے لیے وقت نہ بچے۔ دونوں ٹارگٹ حاصل کرنا ناممکن تھا۔ جن کو حاصل کرنے کے لیے ایک ایسے معجزے کی ضرورت تھی جو ٹیسٹ کرکٹ میں کبھی دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ پاکستان ٹیم جو اسی دن صبح تین گھنٹوں میں صرف 106 رنز بنا کر آؤٹ ہو چکی تھی، اس سے تو ایسے معجزے کی قطعی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

بعد میں امتیاز کا یہ کہنا تھا کہ وہ اور حنیف محمد جب دوسری اننگز شروع کرنے کے لیے اس دن دوپہر کو میدان میں اترے تو انہوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ اس میچ میں شکست نہیں کھانی۔ وکٹ کا ایک اینڈ حنیف محمد نے سنبھال لیا اور دوسری طرف سے امتیاز نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کھیلنا شروع کیا۔ ان کا اصل مقابلہ رائے گلکرسٹ کے خطرناک باؤنسرز سے تھا۔ جب تک گلکرسٹ کا خوف دور نہ ہوجاتا پاکستانی کھلاڑیوں کا میدان میں زیادہ دیر ٹکنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

امتیاز نے اپنے کلب کرکٹ کے زمانے سے ہی باؤنسر گیند کو ہک لگانے میں اتنی مہارت حاصل کر رکھی تھی کہ وہ اس وقت دنیا کے سب سے بہترین ہک شاٹ کھیلنے والے کھلاڑی بن چکے تھے۔ انہوں نے گلکرسٹ کے باؤنسرز کو ہک کر کے چوکے لگانے شروع کر دیے۔ فضل محمود جو پویلین میں بیٹھ کر میچ دیکھ رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ امتیاز نے اس دن بہت دلیری سے گلکرسٹ کا مقابلہ کیا۔ جب گلکرسٹ کا ایک تیز باؤنسر امتیاز کی ٹھوڈی کو چھو کر گزرا ہے تو فضل محمود کو فکر ہوئی کہ امتیاز زخمی ہو گئے ہوں گے ۔ لیکن امتیاز سر جھٹک کر پھر کھیلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ گلکرسٹ نے اگلے بال پر پھر باؤنسر پھیکا جو امتیاز نے ہک کر کے باؤنڈری کے پار پہنچا دیا۔ تب جا کر فضل محمود کو تسلی ہوئی۔

حنیف محمد نے بھی ایک دو بار گلکرسٹ کے باؤنسر کو ہک کرنے کی ناکام کوشش کی۔ وہ اوور ختم ہوا تو والکوٹ نے پاس جاکر انہیں مشورہ دیا کہ وہ گلکرسٹ کو ہک نہ کریں ورنہ وہ آؤٹ ہو جائیں گے۔ کیونکہ گلکرسٹ کے گیندوں کی رفتار ان کے لیے بہت تیز ہے۔ حنیف محمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ نصیحت پلے باندھ لی اور گلکرسٹ کے باؤنسرز کو ہک کرنے کی بجائے ان سے خود کو بچانے کی مشق شروع کردی اور جلد ہی پیچھے ہٹنے کا ایک ایسا انداز اپنا لیا جو باؤنسرز سے بچنے کے لیے ان کے بہت کام آیا۔ اپنی حفاظت کے لیے حنیف کے پاس معمولی پیڈ اور گلوز ہی تھے۔ یا پھر اس کے علاوہ انہوں نے ہوٹل کے کمرے سے چھوٹے تولیے لے کر اپنی پتلون کی جیب میں ڈال رکھے تھے۔

امتیاز اور حنیف کی پارٹنرشپ اس دن کا کھیل ختم ہونے سے دو تین اوور پہلے تک جاری رہی۔ آخرکار ایمپائر نے گلکرسٹ کی ایک گیند پر امتیاز کو غلط آؤٹ دے دیا۔ حنیف محمد جو دوسرے اینڈ سے دیکھ رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ گیند امتیاز کے قریب پچ سے ٹکرا کر بڑی تیزی سے اوپر اٹھ رہی تھی اور امتیاز کے پیڈ سے بھی اوپر جاکر لگی تھی۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ گیند نے وکٹوں سے کافی اوپر سے گزر جانا تھا۔ لیکن امپائر نے امتیاز کو آؤٹ دے دیا۔ ان دنوں رواج تھا کہ ایمپائر میزبان ٹیم کے ہوتے تھے اور مہمان ٹیموں کو ایمپایئرنگ کے معیار پر اکثر شکایت رہتی تھی۔

امتیاز 91 رنز پر آؤٹ ہوئے اور سنچری بنانے سے محروم رہے۔ لیکن اپنے شاندار کھیل سے انہوں نے حنیف کی ساتھ اوپننگ پارٹنرشپ میں 152 رنز بنا کر پاکستان کی دوسری اننگز کی ایک مضبوط بنیاد رکھ دی تھی۔ اور پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں کو دکھا دیا تھا کہ گلکرٹ اور ویسٹ انڈیز کے دوسرے باؤلروں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ امتیاز کے خیال میں یہ ان کے کرکٹ کیرئیر کی سب سے بہترین اننگز تھی۔ کھیل ختم ہوا تو پاکستان کا اسکور ایک کھلاڑی آؤٹ ہونے پر 162 رنز تھا۔ حنیف 61 رنز پر اور علیم الدین 1 رنز پر کھیل رہے تھے۔

میچ کا چوتھا اور پاکستان کی دوسری اننگز کا دوسرا دن

چوتھے دن کا کھیل شروع ہوا تو اس دن شدید گرمی تھی۔ پاکستان کی شکست کا خطرہ جوں کا توں موجود تھا۔ ابھی تین دن کا کھیل باقی تھا۔ جو ویسٹ انڈیز کے لیے پاکستان کی ٹیم کو آؤٹ کرنے کے لیے کافی سے زیادہ وقت تھا۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ پاکستان کی ٹیم تین دن مزید کھیل سکتی تھی۔ کاردار نے حنیف کا زبانی حوصلہ بڑھانے کی بجائے گزشتہ رات اس کے کمرے میں یہ نوٹ لکھ کر چھوڑ دیا تھا کہ You are our last hope یعنی تم ہماری آخری امید ہو۔

حنیف محمد کو کاردار کی ہدایت تھی کہ زیادہ سے زیادہ گیندیں خود کھیلنے کی کوشش کرے۔ تاکہ دوسرے بیٹسمین کا باؤلروں سے کم سامنا ہو۔ حنیف میں concertation یعنی توجہ مرکوز کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت تھی۔ چوتھے دن کے آغاز سے ہی حنیف نے اپنی مکمل توجہ ہر گیند کو سمجھنے پر مرکوز رکھی اور کوشش کی کہ ذرہ برابر بھی ان کی توجہ ادھر ادھر نہ ہو۔ دوسری طرف سے علیم الدین بھی اپنے دفاعی کھیل سے حنیف کا ساتھ دیتے رہے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے کئی باؤلر آزمائے۔ چائے کے وقفے کے نزدیک جاکر علیم الدین 37 رنز بنا کر سوبرز کی گیند پر آ ؤٹ ہو گئے۔ حنیف اور علیم الدین کی پارٹنرشپ میں 112 رنز بنے تھے اور پاکستان کا سکور 266 تک پہنچ گیا تھا۔ علیم الدین کے آؤٹ ہونے پر سعید احمد حنیف کا ساتھ دینے کے لیے آئے اور اس دن کا کھیل ختم ہونے تک دونوں نے پاکستان کا سکور 339 تک پہنچا دیا۔ حنیف محمد نے اس دن پورے 100 رنز بنائے۔ وہ کھیل ختم ہونے پر 161 رنز پر اور سعید احمد 26 رنز پر کھیل رہے تھے۔

میچ کا پانچواں اور پاکستان کی دوسری اننگز کا تیسرا دن

اس دن بھی شدید گرمی تھی۔ سورج کی چمک سے حنیف کی آنکھوں کے نیچے سے جلد اترنی شروع ہو چکی تھی۔ میچ ہارنے کا امکان اسی طرح موجود تھا۔ وکٹ میں بھی ٹوٹ پھوٹ کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ کسی وقت بھی پاکستان کی وکٹیں گر سکتی تھیں۔ گزشتہ رات حنیف کو اپنے کمرے میں کاردار کے ہاتھ سے لکھا ہوا یہ نوٹ ملا تھا۔

You will have a big name in the world if you will save this match. Concentrate harder

یعنی اگر تم نے یہ میچ بچا لیا تو تم دنیا میں بڑا نام کماؤ گے۔ پہلے سے بھی زیادہ توجہ سے کھیلو۔

حنیف محمد پورے استقلال اور توجہ سے کھیلتے رہے۔ سعید احمد نے بھی ان کا اچھا ساتھ دیا۔ لنچ تک حنیف کا اسکور 186 ہو چکا تھا۔ تماشائیوں کو بھی اندازہ ہونے لگا تھا کہ حنیف کتنے مشکل حالات میں کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے بھی ان کا ساتھ دینا اور حوصلہ بڑھانا شروع کر دیا۔ گراؤنڈ کے گرد دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی اور کئی تماشائی باہر درختوں پر چڑھ کر میچ دیکھ رہے تھے۔ اس طریق سے میچ دیکھنے کا ویسٹ انڈیز میں بہت رواج تھا۔

درختوں پر بیٹھے ہوئے تماشائی بھی حنیف کے لیے تالیاں بجا رہے تھے۔ لنچ کے کچھ دیر بعد سعید احمد 65 بنا کر الیگزینڈر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ حنیف اور سعید کی پارٹنرشپ میں 154 رنز بنے تھے اور اس وقت پاکستان کا اسکور تین وکٹوں کے نقصان پر 418 تھا۔ اب وزیر محمد اپنے چھوٹے بھائی حنیف محمد کا ساتھ دینے کے لیے آئے۔ چائے سے کچھ دیر پہلے حنیف نے اپنی ڈبل سنچری مکمل کی۔ چائے کے وقفے پر ان کا سکور 216 تھا۔ کھیل ختم ہونے تک دونوں بھائی ابھی کھیل رہے تھے۔ حنیف کا اسکور 270 اور وزیر کا 31 تھا۔ پاکستان کاکل سکور 3 وکٹوں کے نقصان پر 525 ہو چکا تھا۔ او ر پاکستان کو رنز کی سبقت حاصل ہو چکی تھی۔

میچ کا چھٹا اور پاکستان کی دوسری اننگز کا چوتھا دن

آخری دن جب حنیف اور وزیر نے کھیل کا آغاز کیا تو حنیف کو کھیلتے ہوئے ڈھائی دن ہو چکے تھے۔ ایک اننگز سے شکست ہونے کا خطرہ تو ٹل چکا تھا۔ لیکن ابھی پاکستان کی لیڈ صرف 52 رنز کی تھی۔ اور ابھی اس بات کی ضرورت تھی کہ اتنا سکور کیا جائے اور اتنی دیر تک کھیلا جائے کہ ویسٹ انڈیز کے میچ جیتنے کا امکان ختم ہو جائے۔ اس دن کے لیے کاردار نے حنیف کو یہ پیغام دیا تھا:

You ’ve got to stay till tea time, then we will save the game

یعنی تمہیں آج ضرور چائے کے وقفے تک کھیلنا ہے۔ تب ہی ہم شکست سے بچ سکیں گے۔

حنیف نے پہلے کی طرح مکمل توجہ سے کھیل شروع کیا۔ وہ ہر گیند کو پوری احتیاط سے کھیلتے رہے۔ وزیر کھیل شروع ہونے کے کچھ دیر بعد 35 رنز پر آؤٹ ہو گئے۔ حنیف اور وزیر کی پارٹنرشپ میں 121 رنز بنے تھے۔ یہ حنیف کی لگاتار چوتھی سنچری پارٹنرشپ تھی۔ اس وقت پاکستان کا اسکور 4 وکٹوں پر 539 تھا۔ وزیر کے بعد والس میتھائیس کھیلنے کے لیے آئے۔ لنچ کے وقفے پر حنیف کا اسکور 297 تھا۔ صبح سے اس وقت تک انہوں نے صرف 27 رنز بنائے تھے۔

لنچ سے کچھ عرصے بعد حنیف نے 300 اسکور پورے کر لیے۔ یہ 30 سال کے بعد ٹرسٹ کرکٹ کی پہلی ٹرپل سنچری تھی۔ اس سے قبل 1938 میں لین ہٹن نے آخری ٹرپل سنچری اسکور کی تھی۔ حنیف کی ٹرپل سنچری سے پہلے صرف 5 ٹرپل سنچریاں بنائی گئی تھیں۔ جن میں سے 2 ڈان بریڈ مین نے بنائیں تھیں۔ یوں حنیف ٹرپل سنچری بنانے والے پانچویں کھلاڑی تھے۔

چائے کے وقفے پر حنیف کا اسکور 334 تھا۔ جو ڈان بریڈ مین کا سب سے زیادہ سکور تھا۔ چائے کے وقفے کے بعد حنیف نے پہلے ڈان بریڈ مین کا 334 کا ریکارڈ توڑا اور اس کے بعد والی ہیمنڈ کا 336 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ اب صرف لین ہٹن کا کا ریکارڈ توڑنا باقی تھا۔ حنیف کے ذہن میں اس وقت لین ہٹن کے ریکارڈ یا اسے توڑنے کا خیال نہیں تھا۔ وہ اب مطمئن تھے کہ شکست کا خدشہ بال آخر ساڑھے تین دن کی جدوجہد کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ حنیف کا سکور 337 تھا جب ڈینس ایٹکنسن کی ایک گیند وکٹ کی ٹوٹ پھوٹ سے بنے ایک گڑھے سے ٹکرا کر اور بہت سی گرد اڑا کر حنیف کے بیٹ کو ہینڈل کے قریب چھو کر وکٹ کیپر کے ہاتھ میں چلی گئی۔

اور حنیف محمد ٹیسٹ کرکٹ کی طویل ترین اور تاریخی اننگز کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔ بعد میں ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں خیال ہوتا کہ لین ہٹن کا 364 کا ریکارڈ صرف 27 رنز دور ہے تو وہ پوری توجہ سے کھیلتے رہتے اور اس کا ریکارڈ توڑنے کی ضرور کوشش کرتے۔ حنیف کے آؤٹ ہونے کے بعد کاردار  نے 657 رنز پر پاکستان کی اننگز ڈکلیئر کردی۔ پاکستان کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ باقی جو وقت بچا تھا اس میں بغیر کسی وکٹ کے نقصان پر ویسٹ انڈیز نے 28 رنز بنائے۔ یوں یہ یادگار ٹیسٹ میچ ڈرا ہو گیا۔

حنیف محمد کی شکست سے بچنے کی یہ ناقابل یقین طویل اور کامیاب جدوجہد آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی بہترین اننگز میں شمار کی جاتی ہے۔ پیٹر روئے بک (Peter Roebuck) نے اسے اپنی کتاب (Great Innings) عظیم ٹیسٹ اننگز میں ہمت اور ہیرو ازم کے لیے سب سے زیادہ نمبر دیے۔ وزڈن کی عظیم ٹیسٹ اننگز کی رینکنگ میں حنیف کی اس اننگز کو کرکٹ کی تاریخ کی تین بہترین دفاعی اننگز میں شامل کیا گیا ہے۔ کرکٹ کے مشہور نقاد ایناتھا نارایانن (; 65 (Anantha Narayanan) کا کہنا ہے کہ ”بارباڈوس کے اس میچ میں جو ہوا وہ ایک معجزہ تھا۔ ایک عام جسامت کے کھلاڑی نے دفاع کا عزم کر لیا اور وہ سولہ گھنٹے سے زیادہ کھیلتا رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرکٹ کے میدان میں اس سے بڑی ہمت اور حوصلے کی کوئی مثال دیکھنے میں نہیں آئی“ ۔


اس یادگار میچ میں بننے والے کچھ ریکارڈ

1۔ حنیف محمد نے کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی طویل ترین 16 گھنٹے 39 منٹ کی اننگز کھیلی۔ یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔ گو بعد میں ریکارڈ بکس میں اس کا دورانیہ نصف گھنٹہ کم کر دیا لیکن حنیف محمد اس بات پر مصر رہے کہ میچ ختم ہونے پر ان کی اننگز کے وقت کا جو اندازہ لگایا گیا تھا وہی درست تھا اور ان کے پاس اس بات کے ثبوت بھی تھے۔ لیکن بہرحال آدھا گھنٹہ کم کر کے بھی اب اس ریکارڈ کے ٹوٹنے کا بہت کم امکان ہے۔

2۔ حنیف محمد پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے ٹیم کی دوسری اننگز میں ٹرپل سنچری بنائی۔ یہ ریکارڈ 56 سال تک اسی طرح قائم رہا۔ حنیف کے بعد میں نیوزی لینڈ کے برینڈن میکمیولن (Brendon McCullen) دوسرے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 2014 میں دوسری اننگز میں 302 رنز کی ٹرپل سنچری بنائی۔ حنیف محمد اب بھی دوسری اننگز میں سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں۔

3۔ حنیف محمد ٹیسٹ کرکٹ کے پہلے کھلاڑی ہیں جنہوں نے ایک اننگز میں لگا تار چار سنچری پارٹنرشپ بنائیں : امتیاز کے ساتھ پہلی وکٹ کی شراکت میں 152 رنز، علیم الدین کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 112 رنز، سعید احمد کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 154 رنز اور وزیر محمد کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں 121 رنز۔

4۔ حنیف محمد کے 337 رنز آج بھی کسی ٹیسٹ بیٹسمین کا اپنے ملک سے باہر ایک اننگز میں بنایا ہوا سب سے بڑا اسکور ہے۔

5۔ پاکستان کی ٹیم کا فالو آن کے بعد دوسری اننگز میں سب سے زیادہ اسکور کرنے کا ریکارڈ آج بھی قائم ہے
6۔ پاکستان کی پہلی اور دوسری اننگز کے سکور کا فرق 551 تھا۔ جو آج بھی ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3