پاکستان کرکٹ ٹیم کا ایک یادگار ٹیسٹ میچ اور حنیف محمد کے ریکارڈ


سنہ 1957 کے آخر میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کا پہلا دورہ کیا۔ جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان پانچ ٹیسٹ میچ کھیلے گئے۔ یہ دورہ کئی اعتبار سے یادگار ثابت ہوا۔ خاص طور پر اس دورے کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم نے ایک ایسا غیر معمولی کارنامہ سر انجام دیا جس کی ٹیسٹ کرکٹ کی ساری تاریخ میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے کئی ریکارڈ قائم کیے۔ یہ کارنامہ ایسے غیر معمولی حالات میں سر انجام دیا گیا کہ شاید اب اسے دہرانا کبھی بھی ممکن نہ ہو۔ 1877 میں ٹیسٹ کرکٹ کے آغاز سے لے کر آج تک کسی ٹیم نے یقینی شکست سے بچنے کے لیے ایسی طویل، ناقابل یقین اور شاندار کامیاب جدوجہد نہیں کی جس کا مظاہرہ اپنی دوسری اننگز میں پاکستانی ٹیم اور اس ڈرامے کے مرکزی کردار پاکستان کے مایہ ناز اوپنر بیٹسمین حنیف محمد نے کیا۔

پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں ایک نئی اور کم تجربہ کار ٹیم تھی۔ پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ملک کا درجہ 1952 میں ملا تھا۔ جب کے ویسٹ انڈیز کی ٹیم 1928 سے ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے اس دورے سے قبل پاکستان نے کل 18 ٹیسٹ میچ کھیلے تھے۔ سوائے 1954 میں انگلینڈ کے پہلے دورے کے دوران چار میچ انگلینڈ میں کھیلنے کے، زیادہ تر میچ پاکستان اور ہندوستان میں کھیلے گئے تھے۔ ان دنوں پاکستان میں اکثر ٹیسٹ میچ میٹنگ پر کھیلے جاتے تھے۔

پاکستان ٹیم کو دوسرے ملکوں کی وکٹوں پر کھیلنے کا بہت کم تجربہ تھا۔ اس کے مقابلے میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم کا شمار دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیموں میں ہوتا تھا۔ جس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ پچھلے دس سال میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انڈیا کی ٹیموں کے خلاف کل دس ٹیسٹ سیریز کھیلے تھے۔ جن میں سے چھ ویسٹ انڈیز نے جیتے (دو انگلینڈ، دو نیوزی لینڈ اور دو انڈیا کے خلاف) ، تین ہارے (دو آسٹریلیا سے اور ایک انگلینڈ سے ) اور ایک سیریز (انگلینڈ سے ) برابر رہا۔

ویسٹ انڈیز کے اکثر کھلاڑی بین الاقوامی بہترین شہرت کے مالک تھے۔ اس زمانے کے ویسٹ انڈیز کے مشہور بلے باز تین ”W ’s“ میں سے ایورٹن ویکس (Everton Weekes) اور کلائیڈوالکوٹ (Clyde Walcott) ٹیم میں شامل تھے۔ تیسرے ”W“ فرینک وورل (Frank Worrell) نگلستان میں اپنی یونیورسٹی تعلیم کی مصروفیات کی وجہ سے اس سیریز میں نہیں کھیل سکے۔ ایورٹن ویکس اس سیریز سے پہلے لگاتار پانچ ٹیسٹ اننگز میں سنچری بنانے کا ریکارڈ قائم کر چکے تھے۔

چھٹی اننگز میں وہ 90 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے۔ اور اسی طرح کلائیڈ والکوٹ لگاتار آٹھ اننگز میں نصف سنچریاں، جن میں چار سنچریاں شامل تھیں، بنانے کا ریکارڈ بنا چکے تھے۔ دونوں کا ٹیسٹ کرکٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایورٹن ویکس کی کیرئیر بیٹنگ اوسط 58 : 61 اور کلائیڈ والکوٹ کی بیٹنگ اوسط 56 : 68 ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کے ایک اور بہترین کھلاڑی گیری سوبرز (Gary Sobers) بھی ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں شامل تھے۔ جنہوں نے اس سیریز میں شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے خلاف پہلی تین اننگز میں نصف سنچریاں اور اگلی تین اننگز میں سنچریاں بنائیں جن میں تیسرے ٹیسٹ میچ میں، جس میں پاکستان کے تین بولر زخمی تھے، 365 رنز بنا کر ورلڈ ریکارڈ قائم کرنا بھی شامل تھا۔

اس میچ میں عبدالحفیظ کاردار کے انگوٹھے میں فریکچر تھا۔ محمود حسین کا اپنے پہلے اوور کے پانچویں گیند پر ہیمسٹرنگ مسل زخمی ہو گیا تھا۔ وہ گراؤنڈ سے باہر چلے گئے اور بقیہ میچ میں حصہ نہ لے سکے۔ اگلی صبح نسیم الغنی کی بھی انگلی فریکچر ہو گئی۔ پاکستان کے پاس صرف دو بولر فضل محمود اور خان محمد رہ گئے۔ سوائے وکٹ کیپر امتیاز اور وزیر محمد کے، اس میچ میں پاکستان کے باقی سب کھلاڑیوں کو بولنگ کروانی پڑی۔ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کی بولنگ کی کمزوری کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اور ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا چوتھا سب سے زیادہ ایک اننگز کا سکور 790 رنز بنایا۔ اگر کونریڈ ہنٹ اتفاق سے 260 رنز پر رن آؤٹ نہ ہو جاتے تو ممکن تھا اس میچ میں دو ٹرپل سنچریاں بن جاتیں۔

ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین دو بہترین کھلاڑی روہن کینہائی (Rohan Kanhai) اور کونریڈ ہنٹ (Conrad Hunte) تھے۔ ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر گیری الیگزینڈر (Gary Alexander) بھی اچھے بیٹسمین تھے۔ باؤلروں میں آف سپنر کولی سمتھ (Colie Smith) اور میڈیم پیس باؤلنگ کرانے والے ڈینس ایٹکنسن (Denis Atkinson) تھے جو دونوں اچھے بیٹسمین بھی تھے۔ الفریڈ ویلنٹائن (Alfred Valentine) بائیں بازو سے لیگ سپن کروانے والے سپنر تھے۔

ویسٹ انڈیز کے باؤلروں میں سے سب سے خطرناک باؤلر رائے گلکرسٹ (Roy Gilchrist) تھا جو اس وقت دنیا کا سب سے تیز رفتار باؤلر تھا اور 95 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینکتا تھا۔ اس کے بازو غیر معمولی طور پر لمبے تھے ء اور اس کے گھٹنوں تک آتے تھے۔ وہ انتہائی غصیلے مزاج کا تھا اور ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہوجاتا تھا۔

ان دنوں ٹیسٹ کرکٹ میں باؤنسر پھینکنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ بیٹسمین کی حفاظت کا بھی کوئی خاص بندوبست نہیں تھا۔ نہ ہیلمٹ پہننے کا رواج تھا نہ کہنیوں، رانوں اور چھاتی پر حفاظتی پیڈ لگانے کا ۔ بیٹسمین گلکرسٹ کے خطرناک باؤنسر کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے۔ پاکستان ٹیم کے کپتان کاردار کی اپنے کھلاڑیوں کو ہدایت تھی کہ گلکرسٹ کی گیند پر چوکا مارنے کے بعد اس کی طرف نہ دیکھیں۔ ورنہ وہ غصے میں آ کر باؤنسر مارنے شروع کر دے گا۔

گلکرسٹ اپنے غصیلے مزاج کی وجہ سے صرف 13 ٹیسٹ میچ کھیل سکا۔ اسی سال جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ہندوستان کا دورہ کیا تو نارتھ زون سے میچ کے دوران گلکرسٹ نے کسی بات پر غصہ کھا کر بیمر (beamer) یعنی سیدھے جسم پر تیز بال مارنے شروع کیے اور کپتان الیگزینڈر کے منع کرنے پر بھی باز نہ آیا۔ کپتان نے اسے گراؤنڈ سے باہر نکال دیا۔ اور اگلے دن واپس ویسٹ انڈیز بھجوا دیا۔ اس واقعہ کے بعد گلکرسٹ کے ٹیسٹ میچ کھیلنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگ گئی۔

انفرادی طور پر بھی پاکستان کا ویسٹ انڈیز کی ٹیم سے کوئی مقابلہ نہ تھا۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان عبدالحفیظ کاردار تھے۔ جو ان تین پاکستانی ٹیسٹ کھلاڑیوں میں شامل تھے جو تقسیم سے پہلے کل ہندوستان کی ٹیم کی طرف سے بھی ٹیسٹ میچ کھیل چکے تھے۔ دو ملکوں کی طرف سے ٹیسٹ میچ کھیلنے والے دوسرے دو کھلاڑی امیر الٰہی اور گل محمد تھے۔ (امیر الٰہی نے لیگ بریک اسپنر کے طور پر تقسیم سے پہلے ہندوستان کی ٹیم کی ایک ٹیسٹ میچ میں اور بعد میں پاکستان ٹیم کہ پانچ ٹیسٹ میچوں میں نمائندگی کی تھی۔

اسی طرح گل محمد نے بطور بیٹسمین کل ہندوستان ٹیم کی آٹھ ٹیسٹ میچوں میں اور بعد میں پاکستان ٹیم کی ایک ٹیسٹ میچ میں نمائندگی کی تھی) ۔ عبدالحفیظ کاردار 1946 میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی کل ہندوستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل تھے۔ انگلینڈ میں انہوں نے تین ٹیسٹ میچ کھیلے تھے۔ 1952 میں جب پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ سیریز ہندوستان کے خلاف کھیلا تو عبدالحفیظ کاردار پاکستان ٹیم کے پہلے کپتان مقرر ہوئے اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے بعد ریٹائر ہونے تک ٹیم کے کپتان رہے۔ بعد میں بھی لمبے عرصے تک پاکستان کرکٹ کی باگ ڈور کاردار کے ہاتھ میں رہی۔

پاکستان کی ٹیم میں اس وقت تک کے بین الاقوامی شہرت کے مالک ایک ہی کھلاڑی فضل محمود تھے۔ جنہیں میٹنگ کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔ وہ ہندوستان، آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے بہترین بلے بازوں کے مقابلے میں اپنی میڈیم فاسٹ بولنگ کا لوہا منوا چکے تھے۔ وہ صحیح معنوں میں پاکستان ٹیم کے پہلے ہیرو تھے۔ پاکستان کی کرکٹ کے میدان میں ابتدائی کامیابیوں کا سہرا بڑی حد تک فضل محمود کی بولنگ پر تھا۔

مثال کے طور پر پاکستان نے 1952 کے ہندوستان کے دورے کے دوران دوسرے ٹیسٹ میچ میں ہندوستان کو ایک اننگز سے شکست دی تھی۔ اس میچ میں فضل محمود نے مجموعی طور پر 12 اور ہندوستان کی دوسری اننگز میں صرف 42 رنز کے عوض 7 وکٹیں لیں۔ پاکستانی ٹیسٹ ٹیم نے دوسرا ٹیسٹ میچ 1954 میں انگلینڈ کے پہلے دورے کے دوران جیتا۔ جب اوول کے میدان میں فضل محمود نے اپنی شاندار بولنگ سے انگلینڈ کو شکست سے دوچار کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ٹیسٹ ٹیم نے انگلینڈ کے اپنے پہلے دورے میں انگلینڈ کو شکست دی تھی۔

آسٹریلیا کی ٹیم 1955 میں ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے پاکستان آئی۔ یہ ٹیسٹ کراچی میں کھیلا گیا۔ پہلی اننگز میں آسٹریلیا کی ٹیم صرف 80 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ دوسری اننگز میں رچی بینوڈ کی نصف سنچری کے علاوہ اس میچ میں کوئی بھی کھلاڑی فضل محمود کے سامنے نہ ٹک سکا۔ فضل محمود نے پہلی اننگز میں 6 اور دوسری اننگز میں 7 وکٹیں لیں۔ اور پاکستان یہ میچ آسانی سے جیت گیا۔

فضل محمود کا تعلق بھی پاکستان کی ابتدائی کرکٹ ٹیم کے کئی دیگر کھلاڑیوں کی طرح لاہور سے تھا۔ ان دنوں کراچی اور لاہور کرکٹ کے مرکز تھے۔ لاہور کے زیادہ تر کھلاڑیوں کی تربیت گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج کے آپس کے مقابلوں میں ہوئی تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب فضل محمود 1941 میں اسلامیہ کالج کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے تو ان کے ساتھ ٹیم میں کھیلنے والے کھلاڑیوں میں نذر محمد، عبدالحفیظ کاردار، مقصود احمد، امتیاز احمد، شجاع الدین اور ذوالفقار احمد تھے جن سب نے بعد میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی نمائندگی کی۔

کالج کے بعد تین سال فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے بعد فضل محمود کو 1947 میں آسٹریلیا کے دورے پر جانے والی کل ہندوستان کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن ٹیم کی آسٹریلیا روانگی سے چند دن پہلے ہی ہندوستان کی تقسیم ہو گئی۔ فضل محمود نے اس خیال سے کہ اب یہ ٹیم صرف ہندوستان کی نمائندہ ہوگی آسٹریلیا جانے سے انکار کر دیا۔ اور پونا میں ٹیم کے ٹریننگ کیمپ ختم ہونے پر کپتان لالہ امرناتھ کے اصرار کے باوجود لاہور آ گئے۔

لالہ امرناتھ نے مشرقی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے ذریعے مغربی پنجاب کے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کو پیغام بھجوایا کہ وہ فضل محمود کو ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا جانے پر راضی کریں۔ لیکن فضل محمود نے افتخار حسین ممدوٹ کی بات بھی یہ کہہ کر نہیں مانی کہ اگر انہوں نے آسٹریلیا میں کوئی کارنامہ سرانجام دیا تو وہ ہندوستان کے کھاتے میں جائے گا۔ جس پر افتخار حسین ممدوٹ نے بھی مزید اصرار نہ کیا۔ بعد میں فضل محمود کا کہنا تھا کہ انہیں اس فیصلے پر کبھی افسوس نہیں ہوا۔ باوجود اس کے کہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لیے مزید پانچ سال انتظار کرنا پڑا، جب تک پاکستان کو 1952 میں ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کہ درجہ نہ مل گیا۔ یوں ان کے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے پانچ بہترین سال ضائع ہو گئے۔ فضل محمود کو صرف اس بات کا افسوس تھا کہا نہیں بریڈ مین کو بولنگ کروانے کا موقع نہ مل سکا۔

فضل محمود کے ساتھ دوسرے فاسٹ بولر خان محمد اور محمودالحسن تھے۔ بیٹنگ کا زیادہ انحصار حنیف محمد اور امتیاز احمد پر تھا۔ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں ٹیم کے سب سے بہترین بلے باز حنیف محمد تھے جو ٹیم کے اوپننگ کھلاڑی تھے۔ وہ ایک بہترین سٹروک پلیئر تھے لیکن کپتان کاردار نے ان کی یہ ڈیوٹی لگا رکھی تھی کہ وہ طویل عرصے تک اپنی وکٹ کا دفاع کریں۔ اس ڈیوٹی کو اپنے سارے کیریئر میں انہوں نے خوب اچھے طریق سے نبھایا۔

پاکستان ٹیم کی پہلے نصف سنچری حنیف محمد نے ہندوستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں بنائی تھی۔ اسی دورے کے تیسرے میچ میں وہ 96 سکور پر آؤٹ ہوئے۔ اپنے کیریئر کی پہلے سنچری، 142 رنز، انہوں نے 1955 میں ہندوستان کے جوابی دورے کے تیسرے ٹیسٹ میچ میں، جو بہاولپور میں کھیلا گیا تھا، بنائی۔ اسی سال جب نیوزی لینڈ کی ٹیم تین ٹیسٹ میچ کھیلنے کے لیے پاکستان آئی تو دوسرے ٹیسٹ میچ میں حنیف محمد نے 103 رنز اسکور کیے۔ ویسٹ انڈیز کے دورے سے پہلے حنیف محمد نے یہی دو سنچریاں بنائیں تھی۔

امتیاز احمد بھی ابتدائی دور میں پاکستان ٹیم کا ایک اہم ستون تھے۔ پاکستان کے پہلے تین ٹیسٹ میچوں کے علاوہ جن میں حنیف محمد وکٹ کیپر تھے، امتیاز احمد اپنے باقی سارے کرکٹ کیرئیر میں ٹیم کے وکٹ کیپر رہے۔ وہ ایک جارحانہ انداز سے کھیلنے والے بلے باز تھے۔ خاص طور تیز بولنگ کے خلاف ہک شاٹ کھیلنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا درجہ دلوانے میں امتیاز احمد کا نمایاں کردار تھا۔ 1948 میں انگلینڈ اور ہندوستان کو شکست دینے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے لاہور میں پاکستان کی ٹیم کے خلاف بھی ایک غیر سرکاری ٹیسٹ میچ کھیلا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3