لتا منگیشکر: جب انڈین بارڈر سکیورٹی اہلکاروں نے پوچھا ’نورجہاں نے پیکٹ میں چھپا کر آپ کو کیا دیا ہے‘
لتا منگیشکر کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا نامور غزل گائیک جگجیت سنگھ نے۔ لتا منگیشکر نے اپنی 92 برس کی زندگی میں لگ بھگ 60 برس تک گائیکی کی۔
برصغیر میں شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو گا جس نے لتا منگیشکر کی آواز سُنی اور اس سے متاثر نہ ہوا ہو۔ گائیکی کے فن سے وابستہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ لتا منگیشکر جیسی مدھر اور پاکیزہ آواز، سروں کی پختگی اور باجے کی تین سپتک تک آسانی سے گانا ان کا خاصا تھا۔
کس قدر عجیب بات ہے کہ انھوں نے لگ بھگ پوری دنیا میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن وہ پاکستان میں اپنے ان گنت چاہنے والوں کے روبرو اپنی پوری زندگی نہ ہو سکیں۔
’لتا منگیشکر کی خواہش تھی سرکاری سطح پر ریاست پاکستان کی طرف سے دعوت دی جائے‘
لتا منگیشکر کی خواہش تھی کہ انھیں سرکاری سطح پر ریاست پاکستان کی طرف سے دعوت دی جائے لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ سنہ 1996 میں اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ بیان دیا تھا کہ ’میرا دل چاہتا ہے کہ لتا منگیشکر پاکستان آئیں اور وہ لاہور میں اپنی آواز کا جادو جگائیں۔‘
نوازشریف کا یہ بیان پاکستان کے تمام اخبارات نے شہ سرخیوں میں شائع کیا۔
تب میں نے لتا منگیشکر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔ مجھے یاد ہے لتا منگیشکر نے معصومیت سے بتایا تھا کہ ’مجھے پاکستان سے ابھی کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔‘ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے یہ ایک ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ضمن میں دیا گیا بیان تھا۔
میں نے لتا جی سے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سمیت 18 کروڑ (اس وقت پاکستان کی آبادی) پاکستانی عوام کی طرف سے آپ کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی ہے، بتائیں کہ کیا آپ پاکستان آنا پسند کریں گی؟ لتا منگیشکر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے پوری دنیا میں لوگ ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور آپ کا گانا بہت پسند کرتے ہیں لیکن عجب اتفاق ہے کہ میں اپنے کیریئر کے دوران پاکستان میں کبھی بھی نہ گا سکی۔‘
لتا منگیشکر نے بتایا کہ ایک مرتبہ استاد نصرت فتح علی خاں نے انھیں اپنی بیٹی ندا نصرت کی سالگرہ پر لاہور آ کر گانے کی دعوت دی تھی۔ ’استاد نصرت فتح علی خاں نے ایک مرتبہ مجھے اپنے والد استاد فتح علی خاں اور تایا استاد مبارک علی خاں کی برسی، جو وہ اپنے آبائی شہر لائل پور میں منعقد کرواتے تھے، میں شرکت کرنے کی دعوت دی تھی لیکن بدقسمتی سے میں پاکستان نہ جا سکی۔‘
وزیر اعظم پاکستان محمد نوازشریف کی طرف سے پاکستان آ کر لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے حوالے سے لتا منگیشکر کا کہنا تھا کہ ’مجھے اگر سرکاری سطح پر پاکستان آنے کی دعوت دی گئی تو اسے بخوشی قبول کروں گی۔‘
لتا جی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’برصغیر کے گانے بجانے والے لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کو عزت افزائی سمجھتے ہیں۔ میں بھی ایسا ہی سمجھتی ہوں اور اگر مجھے پاکستان اور پاکستانیوں نے بلایا تو ضرور آؤں گی۔‘
لیکن وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے یہ دعوت نامہ بعدازاں صرف ایک بیان ہی ثابت ہوا اور باقاعدہ طور پر لتا منگیشکر کو کوئی دعوت نامہ نہ بھیجا گیا اور لتا اپنی زندگی میں پاکستان نہ آ سکیں۔
’بچھڑتے وقت ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے‘
لیکن ایسا ضرور ہوا کہ وہ اپنی طویل زندگی میں ایک مرتبہ اپنی پسندیدہ سینیئر، گرو اور بہت پیاری سہیلی ملکہ ترنم نورجہاں سے ملاقات کرنے پاکستان اور انڈیا کی سرحد واہگہ تک آئی تھیں۔
لتا منگیشکر نے بی بی سی اُردو کو اس ملاقات کا قصہ اپنی وفات سے چند ماہ قبل سُنایا تھا۔
لتا منگیشکر نے بتایا کہ ’یہ سنہ 1953-54 کی بات ہے، میں اپنی ایک فلم کی تیاریوں کے سلسلہ میں امرتسر میں تھی۔ امرتسر اور لاہور میں بہت کم فاصلہ ہے، امرتسر میں مجھے ہر وقت دیدی نور جہاں یاد آتی تھیں، ٹیلیفون پر بات ہو رہی تھی، لیکن دل نہیں بھرتا تھا۔ دیدی نورجہاں کو تقسیم کے وقت دیکھا تھا اور اب دل چاہ رہا تھا کہ اپنی دیدی کو گلے لگاؤں۔‘
لتا جی نے بتایا کہ جب وہ نور جہاں سے بات کرتی تھیں تو وہ ایک دوسرے کو اپنے مشہور گیت سُناتی تھیں۔ ’ایک دن یونھی امرتسر سے نورجہاں سے ٹیلی فون پر بات ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ میں آپ کے اتنی قریب آئی ہوں، کیوں نہ ایک دوسرے سے ملاقات کی جائے۔ نورجہاں یہ سُن کر بہت خوش ہوئیں اور انھوں نے اپنی جانب انتظامات کے لیے کہہ دیا۔ وقت اور دن طے پایا، اس جانب میں نے بھی پرمٹ کے لیے کہہ دیا۔ ان دنوں پرمٹ آسانی سے مل جاتے تھے۔‘
’پھر وہ دن آیا جب واہگہ باڈر پر میں اور نورجہاں ایک دوسرے کے گلے ملیں۔ نومین لینڈ پر ہم نے ایک دوسرے سے بہت باتیں کیں لیکن یہ وقت آنکھ جھپکتے گزر گیا، کبھی کبھار تو مجھے یہ وقت ایک زندگی سا لگتا ہے اور سوچوں تو یہ وقت ایک لمحہ بن کر زندگی سے خارج ہو گیا تھا۔ بچھڑتے وقت ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔‘
’بارڈر سکیورٹی نے پوچھا کہ نورجہاں نے مجھے پیکٹ میں چھپا کر کیا دیا ہے‘
وہ بتاتی ہیں کہ ’باڈر کے اس طرف آنے سے پہلے دیدی نورجہاں نے مجھے ایک چھوٹا سے پیکٹ دیا، انڈین بارڈر سکیورٹی نے دریافت کیا کہ نورجہاں نے مجھے پیکٹ میں چھپا کر کیا دیا ہے؟ پیکٹ کو کھولا گیا تو اس میں بریانی اور آموں کے گودے سے تیار کردہ ایک ڈش نکلی۔ دیدی کو علم تھا کہ دونوں ڈشیں میری پسندیدہ ہیں اور وہ بطور خاص میرے لیے اپنے ہاتھوں سے بنا کر لائی تھیں۔‘
لتا جی نے یہ واقعہ اپنی بائیو گرافی میں بھی بیان کیا ہے۔ لتا منگیشکر نے واہگہ بارڈر پر نورجہاں سے ملاقات اور اپنی پسندیدہ ڈشیں جو نورجہاں ان کے لیے بارڈر پر لے کر آئیں، اس حوالے سے بیان کیا ہے کہ ’یہ کھانے نہ ہندو تھے نہ مسلمان، نہ انڈین تھے نہ پاکستانی۔۔۔ یہ نازک اور پیار بھرے ہاتھوں نے تیار کیے گئے تھے جو چھوٹے چھوٹے اختلافات کی حدوں سے بہت اوپر اٹھ جاتے ہیں۔‘
لتا منگیشکر نے پاکستان کی طرف ہمیشہ پیار اور احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہیما منگیشکر المعروف لتا منگیشکر کو لافانی گائیکہ بنانے کا سہرا میوزک ڈائریکٹر ماسٹر غلام حیدر کے سر ہے جن کا تعلق لاہور کے علاقہ چونا منڈی سے تھا۔
ماسٹر غلام حیدر نے لتا منگیشکر سے پہلے نورجہاں اور شمشاد بیگم کو بھی متعارف کروایا تھا۔ لتا منگیشکر نے بی بی سی اُردو کو دیے گئے انٹرویو میں یہ قصہ خود سنایا تھا۔
لتا جی کا یہ انٹرویو ماسٹر غلام حیدر کی برسی کے موقع پر ٹیلی فون پر کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’یہ سنہ 1947 کا زمانہ تھا اور فلم ‘شہید’ کی تیاریاں عروج پر تھیں ۔اس زمانے کے سٹار میوزک ڈائریکٹر ماسٹر غلام حیدر نے مذکورہ فلم کے ایک گیت کے لیے میرا آڈیشن لیا۔‘
وہ بتاتی ہیں ’ماسٹر صاحب کو میری آواز بہت پسند آئی اور میرے کہے بغیر انھوں نے اپنے من میں یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ مجھے پروموٹ کریں گے، انھی دنوں کی بات ہے کہ فلمستان سٹوڈیو کے مالک اور مشہور پروڈیوسر شیشدھرمکھر جی نے ریہرسل میں میری آواز سُنی اور مجھے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ’اس لڑکی کی آواز بہت باریک اور چبھتی ہوئی ہے۔‘
’ایک دن آئے گا کہ پروڈیوسر لتا کے دروازے پر قطار باندھے کھڑے ہوں گے‘
شیشدھر مکھر جی آج کی معروف اداکارہ رانی مکھر جی کے پڑدادا تھے جو اپنے وقت کے بہت بڑے فلمساز تھے۔ لتا منگیشکر کے مطابق ’ماسٹر غلام حیدر نے شیشدھر مکھر جی سے کہا کہ وہ گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ لڑکی (لتا) برصغیر کی میوزک مارکیٹ میں اچھا اضافہ ثابت ہوں گی لیکن وہ نہ مانے۔‘
’شیشدھر کے انکار پر ماسٹر غلام حیدر ناراض ہو گئے اور کہا ’مکھرجی صاحب ویسے تو آپ کو اپنی رائے قائم کرنے کا پورا حق ہے لیکن میرے الفاظ نوٹ کر لیں ایک دن آئے گا کہ پروڈیوسر، لتا کے دروازے پر قطار باندھے کھڑے ہوں گے۔‘
لتا کے مطابق یہ کہہ کر ماسٹر غلام حیدر نے فلمستان کے دفتر میں شیشدھر کو اپنا استعفیٰ تھمایا اور اسی وقت میرے ساتھ بمبئی ٹاکیز سٹوڈیو کی جانب چل پڑے۔
لتا جی بتاتی ہیں کہ ‘بمبئی ٹاکیز سٹوڈیو شہر کے مضافات میں ملاڈ کے علاقے میں تھا۔ میں ماسٹر صاحب کے ساتھ میںگور گاؤں ریلوے سٹیشن پر کھڑی ٹرین کا انتظار کر رہی تھی کہ فلم ’مجبور‘ کے گیت کی پہلی دھن انھوں نے مجھے وہیں یاد کروائی۔ گیت کے بول تھے ’دل میرا توڑا ،مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔۔‘ یہ گیت ہی دراصل پلے بیک سنگنگ میں میرا بھرپور تعارف بنا۔‘
یہ بھی پڑھیے
سلامت علی خان نے لتا منگیشکر کی شادی کی پیشکش کیوں ٹھکرائی
واہگہ پر لتا منگیشکر اور نور جہاں کی وہ ملاقات جس پر دونوں طرف کے فوجی بھی روئے
برصغیر کو نورجہاں اور لتا جیسی آوازیں دینے والے موسیقار جو ریکارڈ معاوضہ لیتے تھے
لتا جی بتاتی ہیں ’ماسٹر صاحب یہ دھن سناتے ہوئے اپنے ہاتھ میں سگریٹ 555 کی ڈبی پر ردم بجا کر مجھے یاد کروا رہے تھے وہ ایک، ایک مصرع سناتے رہے اور میں ان کے ساتھ گنگناتی رہی۔ سٹوڈیو پہنچ کر ماسٹر غلام حیدر نے یہ گیت میری آوازریکارڈ کیا اور اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔‘
یاد رہے کہ فلمساز شیشدھر مکھر جی نے لتا منگیشکر کی آواز مسترد کرنے کے واقعہ پر باقاعدہ افسوس کا اظہار کیا تھا اور اس کے بعد جو فلم بھی بنائی اس میں لتا منگیشکر کی آواز ریکارڈ کرنے کے لیے اس قطار میں کھڑے ہوتے رہے جو اس عظیم مغینہ کے گھر کے باہر لگی رہتی تھی۔
اپنے عظیم محسن اور استاد ماسٹر غلام حیدر، دیدی نور جہاں، اپنے پسندیدہ غزل گائیک مہدی حسن اور استاد سلامت علی خاں کی نسبت سے لتا منگیشکر پاکستان کی جانب ہمیشہ محبت اور احترام کے ساتھ دیکھتی رہیں لیکن یہ سچ ہے کہ دونوں ملکوں کے ٹوٹتے بنتے تعلقات کے باعث وہ کبھی بھی پاکستان کی دھرتی پر قدم نہ رکھ سکیں۔

