گردوارہ سیس گنج صاحب: اورنگزیب کے ہاتھوں گرو تیغ بہادر سنگھ کا قتل
1996ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
چاندنی چوک کی سنہری مسجد کے قریب ایک تاریخی گردوارہ موجود ہے جس کا نام سیس گنج گردوارہ ہے۔ میری اگلی منزل یہی گردوارہ تھا۔ بھارت میں کسی بھی گردوارے میں جانے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔
لیکن اس سے پہلے کہ میں آپ کو گرودوارہ سیس گنج صاحب کے متعلق کوئی بات بتاؤں، میں آپ کو یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تاریخی کتب خاص طور پر سکھوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اورنگزیب اور اور سکھوں کے درمیان شدید کشمکش پائی جاتی تھی۔ اسی کشمکش کے نتیجے میں اورنگزیب نے بہت سے سکھوں کو قتل کیا۔ ان میں سے ایک قتل سکھوں کے نویں گرو، گرو تیغ بہادر کا بھی ہے، جس کا سکھوں کو سب سے زیادہ دکھ ہے۔
یہ ایک اتفاق ہے کہ مجھے بھارتی پنجاب کے شہر سرہند میں اس گردوارے جانے کا بھی اتفاق ہوا ہے جہاں پر گرو گوبند صاحب کے بچوں کو دیوار میں زندہ چنوایا گیا تھا۔ یہ بات بہت حد تک سچ ہے، سکھ اس بات کا بڑے زور و شور سے دعویٰ کرتے ہیں کہ مغل بادشاہ نے یہ جرم کیا تھا۔
میں پیدل چلتا ہوا سیس گنج گردوارہ پہنچ گیا۔ ایک بڑی تعداد میں وہاں لوگ موجود تھے اور ایک خاص پروٹوکول کے تحت لوگ گردوارے کے درمیان میں واقع ہال کی طرف جا رہے تھے۔ جب سب لوگ کوئی ایک کام کر رہے ہوں تو آپ کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ وہاں سب سے پہلا کام ایک واش بیسن پر ہاتھ اور منہ دھو نا ہوتا ہے، اس کے بعد صاف پانی کی ایک چھوٹی نالی چل رہی ہوتی ہے جس میں پاؤں دھوئے جاتے ہیں۔ ہاں یاد آیا ایک جگہ جس کا نام جوڑا گھر ہے، وہاں پر آپ کو اپنے جوتے بھی جمع کروانے ہوتے ہیں اور جرابیں بھی اتارنی ہوتی ہے۔
ہر گردوارہ میں جوڑا گھر کی روایت بڑی دلچسپ ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہاں پر کام کرنے والے افراد، گردوارہ میں آنے والوں کے جوتے لے کر ریکس میں رکھتے ہیں اور ایک ٹوکن دے دیتے ہیں۔ میں نے جوڑا گھر میں دیکھا کہ ایک آدمی، جو شکل و صورت سے خاصہ پڑھا لکھا اور خوشحال لگ رہا تھا، وہ بھی وہاں پر لوگوں کے جوتے پکڑ کر رکھ رہا تھا۔ جبکہ ہمارے ہاں تاریخی مقامات کے باہر یہ کام عام سے لوگ کرتے ہیں اور ہم ان کو اس کام کی ادائیگی بھی کرتے ہیں۔ مجھے کچھ عجیب لگا۔
میں نے ایک صاحب سے اس بارے میں پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ اس نے مجھے بتایا کہ سکھ لوگ جوڑا گھر میں کام کرنے اور لوگوں کی خدمت کرنے کی منت مانتے ہیں۔ اس سے ان کے نفس کی تربیت ہوتی ہے اور اس سب کچھ کرنے کا مقصد اپنے اندر سے غرور یا تکبر کو ختم کرنا بھی ہوتا ہے۔ یہ ہمارے بابا گرو نانک کی تعلیم ہے۔ اس نے مجھے اشارے سے بتایا کہ جو صاحب سفید کپڑوں میں لوگوں کے گندے جوتے پکڑ کر رکھ رہے ہیں وہ ایک بہت بڑے سیٹھ ہیں۔ انھوں نے دس دن کے لیے جوڑا گھر کی خدمت کرنے کی منت مانی ہوئی ہے۔ یہ بھی تزکیہ نفس کا ایک انداز ہے۔ میں اس پروٹوکول سے گزر کر اندر ہال میں چلا گیا۔ اندر داخل ہونے سے پہلے دوسرا اہم کام سر پر رومال رکھنا ہوتا ہے۔ میں نے بھی وہاں پر پڑے ہوئے ریشمی رومالوں میں ایک رومال اپنے سر پر رکھ لیا۔
ایک بہت بڑے ہال کے درمیان اونچے چبوترے پر ایک سکھ گرنتھ صاحب جو کہ سکھوں کے نزدیک سب سے مقدس کتاب پڑھ رہے تھے اور باقی لوگ اردگرد بیٹھے سن رہے تھے۔ کچھ لوگ گرنتھ صاحب کو پنکھا بھی جھل رہے تھے۔ میں نے ایک سردار سے پوچھا کہ کتاب کو پنکھا جھلنے کا کیا مطلب ہے؟ انھوں نے بتایا کہ ہم کتاب کو اپنا زندہ گرو سمجھتے ہیں اور اس کا اسی طرح احترام کرتے ہیں جیسے زندہ گرو کا احترام کیا جاتا ہے اور اسی طریقے سے اس کی حفاظت بھی کرتے ہیں جس طرح سے ایک انسانی جسم کی حفاظت کی جاتی ہے۔
میں کچھ دیر گردوارہ ہی میں رہا، جہاں مجھے دو بے حد دلچسپ چیزیں نظر آئیں۔ ایک تو یہ کہ سب لوگ خاموش بیٹھے تھے اور صرف گرنتھ صاحب پڑھنے والوں کی آواز سنائی دیتی ہے اور لوگ آپس میں کوئی بات چیت نہیں کر رہے تھے۔ یہ ایک طرح سے گرنتھ صاحب کے احترام کا طریقہ ہے۔ دوسرا یہ کہ وہاں پر بڑے پیمانے پر کھانے کا بندوبست تھا۔ دال روٹی کے ساتھ ساتھ حلوہ بھی تھا جسے وہ پرشاد کہتے ہیں۔
ایک سردار نے بتایا کہ دنیا بھر میں موجود گردواروں میں ایسا ہی کھانا پکتا ہے اور ہر وقت دستیاب بھی ہوتا ہے۔ یہ ہمارے گرو کا حکم ہے کہ جو بھی گردوارہ میں آئے اسے ہر حالت میں کھانا ملنا چاہیے۔
میں نے ایک بات نوٹ کی ہے کہ سکھوں کے علاوہ، ہندوؤں کی عبادت گاہوں اور اکثر مسلمان بزرگوں کے مزارات پر دال اور سبزی ہی پکائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کوئی ایسا شخص جو گوشت نہ کھاتا ہو وہ بھوکا نہ رہے۔ مسلمان مزارات میں داتا صاحب اور حضرت نظام الدین اولیا ء کا میں عینی شاہد ہوں۔
اس وقت سی ڈی کا رواج نہیں تھا بلکہ ٹیپ ریکارڈر کی کیسٹس ملتی تھی۔ میں نے گردوارے کے باہر سے چند کیسٹس خریدیں، جو بہت ہی سادہ پنجابی زبان میں وعظ و نصیحت پر مبنی تھیں۔ میں ان کو خاصے عرصہ تک اہتمام کے ساتھ سنتا رہا۔ اس کے علاوہ میں نے وہاں سے ایک کڑا بھی خریدا جو میں پاکستان آ کر پہنتا بھی رہا۔ کچھ اہل ایمان نے اسے سکھوں کی نشانی سمجھ اس پر اعتراض کیا اور میرے ایمان کے اوپر بھی شک شروع کر دیا۔ کچھ نے کہا کہ کیونکہ تمہارے آباؤ اجداد سکھ تھے، اس لیے تم یہ کڑا پہن رہے ہو۔ میں نے اپنے ایمان کو کڑے پر ترجیح دی اور ایک دن کڑا اتار دیا۔
گردوارے کی سیر کے بعد میں باہر نکل آیا اور ایک تھڑے پر بیٹھ کر میں نے اس گردوارہ کی تاریخ کو جاننا چاہا جو گردوارہ کے پاس سے لی ہوئی ایک کتاب میں درج تھی۔ اس کتاب کے مطابق اس جگہ پر 1675 ء میں گرو تیغ بہادر کو قتل کیا گیا تھا۔ قتل سے پہلے گردوارہ سے ملحقہ کوتوالی میں انھیں قید بھی رکھا گیا تھا۔ اورنگ زیب کی فوج نے گرو کا قتل کر دیا لیکن لاش کے بارے میں وہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ اس دوران رات بھی ہو گئی۔
سکھوں کو خیال آیا کہ کہیں ان کے گرو کی لاش کے ساتھ کوئی برا سلوک نہ ہو جائے۔ اسی خوف سے گرو کے ایک ساتھی نے گرو کی لاش کو رات کے وقت اٹھایا اور اپنے گھر میں رکھ لیا۔ یاد رہے کی سکھ مردوں کو جلاتے ہیں۔ اس شخص نے ان کی میت کو جلانے کے لیے اپنا پورے کا پورا گھر جلا دیا۔ لاش کو کسی متوقع توہین سے بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ اس بنا پر سکھ ایسا کرنے والے سکھ کی بے حد قدر کرتے ہیں۔
جب مغلوں کی حکومت کمزور پڑ گئی تو ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سکھوں نے دلی پر حملہ کیا اور انھوں نے اس جگہ پر جہاں گرو صاحب کو قتل کیا گیا تھا ایک گردوارہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ مغلوں نے انھیں اس بات کی اجازت دے دی اور اس طرح یہ گردوارہ 1783 ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس گردوارہ کی تعمیر کا سہرا سکھوں کے ایک جرنیل بیگھل سنگھ کو جاتا ہے۔ بعد میں مسلمانوں نے اس جگہ پر ایک مسجد بھی بنائی اور اس طرح یہ جگہ ایک جھگڑے کا باعث بھی بنی رہی۔ انگریزوں کے دور میں اس جگہ کا فیصلہ سکھوں کے حق میں ہو گیا۔ گرو کے قتل کی وجہ سے سکھ اس جگہ کا بے حد احترام کرتے ہیں۔
میں جب بھی تاریخ پڑھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ تاریخ پڑھنے کے لیے بہت زیادہ حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے طے شدہ نظریات اور احساسات کے ساتھ تاریخ کو پڑھیں گے تو آپ کو تاریخ پڑھنے کا مزا نہیں آئے گا اور نہ ہی آپ کبھی سچ جان سکیں گے۔
آپ صرف اپنے ہی نظریات کو پڑھ رہے ہو گے لیکن اگر آپ غیر جانبدار ہو کر تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو اپنوں اور غیروں کے کردار کا صحیح معنوں میں اندازہ ہو گا۔ میرے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ تقسیم ہند کے وقت جب سکھ مسلمانوں کو مارتے تھے تو ساتھ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ اورنگزیب کے مظالم کا بدلہ ہے۔ انھی خیالات اور سوچوں کے ساتھ میں وہاں سے اپنی اگلی منزل کی طرف چل پڑا۔
(مصدق سانول مرحوم کی آواز میں گرو تیغ بہادر کا کلام ملاحظہ فرمائیے)





