سیاسی ملاقاتوں کا موسم
مفاہمت کا بادشاہ داتا کی نگری میں پہنچ کر ملاقاتیں کر رہا ہے۔ نون لیگ کی قیادت سے ملاقات کے دو روز بعد حکومتی اتحادی ق لیگ کی قیادت چوہدریوں سے ملاقات کی تفصیلات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ملکی سیاست میں بڑی ملاقاتوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ نون لیگ کی سی ای سی کی میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ کپتان کو گھر بھیجا جائے اور اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے اس کی ذمہ داری شہباز شریف کو سونپی گئی ہے۔ جبکہ قائد نون لیگ نے لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ظلم کی حکومت ہے اور نون لیگ عوام کو اس ظلم سے نجات دلائے گی۔ گجرات کے چوہدریوں کا دستر خوان کافی مشہور ہے تاہم اس بار سابق صدر زرداری کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کافی محبت سے کیا گیا۔ نون لیگی ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کا وفد بھی بڑے میاں صاحب کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ایک اور حکومتی اتحادی جماعت باپ کے گلے شکوے بھی میڈیا پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی 27 فروری کو لانگ مارچ کی کال دے چکی ہے جبکہ پی ڈی ایم مارچ میں لانگ مارچ کا اعلان کرچکی ہے۔ اپوزیشن کے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور حلیفوں کی طرف سے مخالفین کے لیے عشائیے اور گرمجوش استقبال کو دیکھتے ہوئے کپتان نے بھی عوام میں جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے عوامی جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ہے ملکی سیاست کا موجودہ منظر نامہ جس میں ایک لمبے سکوت کے بعد ہلچل پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے۔
اپوزیشن کی محفلوں میں اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بات ہو رہی ہے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے نمبرز پورے ہیں تو اس پر کوئی رائے دینا قبل از وقت ہے تاہم اگر حکومتی اتحادی جماعتوں میں سے کسی نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کر دیا تو حکومت کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت ہی گر جائے۔ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو آئینی راستہ یہ ہے کہ صدر مملکت ایوان میں موجود اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دیں۔ اگر اپوزیشن حکومت نا بنا سکی تو اس صورت میں ایک آئینی بحران پیدا ہو جائے گا اور وزیراعظم صدر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کا بھی کہہ سکتے ہیں۔
اس ساری صورتحال کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات طے ہے کہ اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کرانے کے نمبرز پورے نہیں ہیں۔ اس ضمن میں اپوزیشن کی کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہوگی جب کوئی حکومتی حلیف جماعت حکومت سے تعاون ختم کردے۔ اب یہ باپ پارٹی ہو ایم کیو ایم ہو یا ق لیگ اگر ان میں سے کوئی حکومت کا ساتھ چھوڑتا ہے تو حکومت کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ تو یہ طے ہوا کہ حکومت کو نا صرف اتحادیوں کو قابو کرنا ہے بلکہ اپنی پرفارمنس کو بھی بہتر کرنا ہے۔ بظاہر بیک وقت دونوں کام مشکل نظر آرہے ہیں۔
اپوزیشن کے مطابق پرفارمنس تو خیر پہلے دن سے ہی بری تھی اب ایسا وقت آ گیا ہے کہ اسی پرفارمنس کی بنیاد پر اتحادی بھی مزید ساتھ دینے کو تیار نظر نہیں آرہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر اتحادی مطمئن ہوتے تو اپوزیشن کے ساتھ رابطہ کیوں کرتے خفیہ ملاقاتیں اور سرعام عشائیے اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ حکومت نے بھی جلسے جلوسوں کا اعلان کر کے بتا دیا ہے کہ نا کھیڈاں گے نا کھیڈن دیاں گے۔ اگر اپوزیشن آخری ایک ڈیڑھ سال میں حکومت کو بھی سڑکوں پر لے آئی تو یہ سیاسی طور پر اپوزیشن کی کامیابی ہوگی۔ کیونکہ آخری سال میں حکومت اپنی کارکردگی پر توجہ دیتی ہے اور جلسے جلوسوں سے حکومت کی توجہ بہرحال کارکردگی بہتر بنانے سے ہٹ جائے گی۔
تو یہ طے ہو گیا کہ رواں سال سیاسی طور پر ہنگامہ خیز بننے جا رہا ہے۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں سڑکوں پر ہوں گی۔ اپوزیشن مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے خلاف احتجاج کرے گی اور حکومت خدا جانے کس بات پر جلسے کرے گی اور عوام کو مزید کب تک تلقین کرے گی کہ اس نے گھبرانا نہیں ہے۔ مگر یہ ناشکری پبلک ہے کہ حکومتی ہدایات اور تلقین کے باوجود گھبرا رہی ہے بلکہ اب تو اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے حالانکہ انہوں نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ سکون صرف قبر میں ہے مگر پھر بھی بزدلوں کی طرح گھبرائے جا رہے ہیں
قصہ کوتاہ یہ کہ اس سیاسی دھینگا مشتی میں عوام کا رگڑا مزید نکلے جا رہا ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کا یہ سال بھی گزشتہ سال کی طرح مشکلات میں بسر ہو گا۔ بجلی کے فی یونٹ نرخوں میں اضافہ کے اثرات آنے والی گرمیوں میں ظاہر ہونا شروع ہوں گے مطلب جیسے جیسے موسمی درجہ حرارت بڑھتا جائے گا عام آدمی کا بھی غصہ بڑھتا جائے گا۔ آٹا، دال، چینی، گھی، پٹرول کے نرخوں میں کمی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ تو ان حالات میں کیا وزیراعظم عوامی جلسے کر کے عوام کو مطمئن کر سکیں گے۔
کیا پبلک مہنگائی کے بدترین طوفان سے متعلق حکومتی بیانیہ تسلیم کر لے گی۔ بالفرض اگر حکومت کو سکون سے کام کرنے دیا جائے تو کیا مہنگائی کنٹرول ہو جائے گی کیا بیرونی قرضوں میں کمی ہو جائے گی۔ کیا کرپشن میں ہونے والا اضافہ کم ہو جائے گا۔ اگر خراب کارکردگی کو عوامی جلسوں سے چھپایا جاسکتا ہے تو حکومت ضرور جلسے کرے اگر نہیں چھپایا جاسکتا تو پھر حکومت کو چاہیے کہ اپنی کارکردگی کو بہتر کرے۔ آج بجلی، پٹرول اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی کردے کل اپوزیشن کی بات سننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہو گا۔ کیا حکومت نے ضمنی انتخابات کے نتائج سے بھی سبق نہیں سیکھا کہ پبلک کیا سوچ رہی ہے اور کس طرح کا ردعمل دے رہی ہے۔


