ویل ڈن۔ اسلام آباد پولیس
پانچ جنوری کی سرد شام، بارش پورے زور سے جاری تھی، ہر لمحہ کے بعد بارش کو شیشے سے دیکھتا، پھر واپس اپنی چئیر پہ بیٹھ جاتا، بارش تھوڑی تھمی اور اس کے بعد پھر ہلکی بوندا باندی میں ہی آفس سے گھرi 11 سیکٹر کی راہ لی۔ جہاں رشتے دار کافی عرصے سے رہائش پذیر تھے رہائش نہ ہونے کی بناء پر کچھ دن وہاں رکا، تاکہ اپنے آفس سکریٹریٹ کے قریب رہائش کا کوئی بندوبست ہو جائے، کچھ تھوڑی دیر کے لئے سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد رک کے پھر فیض آباد سے ہوتے ہوئے، منڈی موڑ شیل پمپ سے پٹرول ڈلوا کے کیرج فیکٹری ہی پہنچا، جہاں روڈ کی انتہائی ابتری حالت ہونے کی وجہ سے آہستہ گزرنا معمول تھا وہاں تین لڑکے جیسے پہلے سے ہی میری اور کسی موٹرسائیکل کی تاڑ میں تھے۔
گن پوائنٹ پہ روکا، موٹرسائیکل سے اترنے کا کہا، کچھ ہی چند دن پہلے کی بات ہے میرے چاچو جو اپنے شہر پنڈی بھٹیاں ماڈل ٹاؤن میں رہائش پذیر اور شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں ان کے گھر ڈکیتی ہوئی، چوروں نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، انھوں نے آگے سے تھوڑی مزاحمت کی تو ڈاکووں نے فائرنگ کردی، جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوئے، گزشتہ روز ناشتہ کے دسترخوان پے میرے دوست جو گوجرانوالہ سے ہیں، بتا رہے تھے کہ آج ہمارے شہر میں ڈکیتی کے دوران ایک دوست نے آگے سے مزاحمت کی تو ڈاکووں نے فائرنگ کی، جس کی وجہ سے دوست موقع پہ جاں بحق ہو گیا۔ جب سے اسلام آباد آیا ہوں، اس شہر سمیت پورے پاکستان اور خصوص بالخصوص شہر کراچی میں آئے دن کوئی نہ کوئی ایسے واقعات نظر سے گزرتے ہیں۔ جس میں بہت سے لوگ جان سے بھی جاتے ہیں۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی، قارئین میں آپ کو بتا رہا تھا، کہ مجھے انھوں نے موٹر سائیکل سے اترنے کا کہا، تو میں چپ چاپ موٹرسائیکل سے اترا، وہاں ابھی کھڑے ہی تھے کہ میرے پاس سے ایک گاڑی اور موٹرسائیکل گزرا، جنھیں میں نے ہلکا سا اشارہ دیا، لیکن انھوں نے نا رکنا ہی مناسب سمجھا، اور ایسے موقع پہ کوئی بھی رکنا خطرے سے خالی نہیں سمجھتا، اور خاص طور پر شہر میں، کوئی کچھ بھی ہو جائے، کوئی یہاں خبر نہیں لیتا، ان میں سے دو لڑکے موٹرسائیکل کی طرف ہوئے، دوبارہ سٹارٹ کیا، اور تیسرا مجھ پہ پستول تان کے کھڑا رہا، جب موٹرسائیکل سٹارٹ ہوا، وہ بھی ان کے پیچھے ہوا، یہ جا، وہ جا۔
اور میری بے بس نظروں سے اوجھل ہو گئے، سوچا کہ انسان کتنا بے بس ہوتا ہے جب اس کے سامنے اسی کی خریدی ہوئی چیز، اس سے اگر کوئی چھین کے لے جائے، اور پھر صبح اس نے اسی کنوینس پہ آفس بھی جانا ہوں۔ میرے رشتے داروں کا گھر سٹاپ سے کوئی 25 منٹ پیدل مسافت پہ ہے۔ موٹرسائیکل سے زیادہ مجھے اس چیز کی فکر ہونے لگی، کہ صبح اتنا پیدل چلنا پڑے گا۔ 15 پہ کال کی، پولیس آئی، پولیس اسٹیشن آئے، ایف آئی آر خود لکھی، 10 بجے واپس رہائش پہنچا، بدھ کو یہ واقع ہوا، تو تین بعد اسی تھانے میں ڈی آئی جی آپریشن اسلام آباد نے کھلی کچہری لگائی، جس میں مجھ سمیت اور بھی بہت سارے لوگوں نے شرکت کی، سب لوگ اپنی اپنی روداد سناتے اور داد رسی کی امید باندھتے واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے، کافی ریکوری بھی ہوئی۔ ڈی آئی جی
صاحب کو اپنا قصہ سنایا تو انھوں نے میرا کیس سی آئی اے کے ڈی ایس پی رخسار مہدی کی نگرانی میں ایک اور تفتیشی افسر کو دیا، میرے بہت اچھے دوست خرم ملک جو کرائم رپورٹر ہیں، میں نے اپنا قصہ انھیں سنایا، تو انھوں نے بھی کافی تگ و دو کرتے ہوئے، ایس ایچ او اشتیاق شاہ کو میرے کیس کے حوالے سے بریف کیا۔ ایس ایچ او اشتیاق شاہ سے ملاقات کر کے مجھے لگا کہ پولیس میں ابھی بھی بہت اچھے افسرز ہیں، اخلاق ایسا کہ انسان کو اپنا گرویدہ کر لے، محبت سے بات کرنا، اور سننا شاید ان کی تربیت کا خاصہ تھا۔ مختصر یہ کہ اللہ کی مہربانی سے اور اسلام آباد پولیس اور سی آئی اے کی تگ و دو سے میرا موٹرسائیکل برآمد ہو گیا۔
مجھے تفتیشی افسر کا فون آیا، اور موٹرسائیکل مل جانے کی اطلاع دی۔ اللہ کا شکر ادا کیا، کہ اللہ کے فضل وکرم سے پاکستان میں گم ہوئی چیز واپس مل گئی، پولیس اسٹیشن پہنچا، موٹرسائیکل کو دیکھا، اور مشکل سے پہچان پایا۔ کیونکہ کچھ سامان سرے سے ہی غائب تھا۔ کہیں سے یہ انکشاف ہوا، کہ جو بھی گینگ موٹرسائیکل چھین لے جاتے ہیں، موٹرسائیکل تو بک نہیں سکتی تو وہ موٹرسائیکل کا پوسٹ مارٹم کر کے ہر چیز علیحدہ علیحدہ کر کے سیل کر دیتے ہیں۔
زندگی میں اس طرح کے واقعے سے پہلی دفعہ واسطہ پڑا تھا اس وجہ سے لاعلم تھا کہ موٹرسائیکل تو مل گیا۔ لیکن اب اس پہ دوبارہ بیٹھنا خاصہ مشکل تھا۔ دوست خرم ملک نے بتایا، کہ آپ کو پہلے شناخت پریڈ پہ لے جایا جائے گا، اور پھر ایف 8 کچہری علاقہ مجسٹریٹ سے سپرداری کروانی ہوگی۔
اب یہ کافی مشکل مرحلہ تھا، جمعہ والے دن تفتیشی افسر کے ساتھ شناخت پریڈ کے لئے اڈیالہ جیل روانہ ہوئے، سخت سکیورٹی اور چیکنگ سے گزرتے ہوئے، اس حال میں پہنچے جہاں آپ نے سول جج کے روبرو اپنے ملزم کی نشاندہی کرنی ہوتی ہیں، اگر آپ اپنا ملزم نہ پہچان پائے، تو آپ کا کیس ایک خالی کاغذ کی ہی مانند سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ آپ اپنا ملزم ضرور پہچان لیتے ہیں۔
شناخت پریڈ کے لئے اڈیالہ جیل میں ایک مخصوص علیحدہ جگہ ہوتی ہیں، جہاں لوگ ایک بڑے حال میں اکٹھے ہوتے ہیں اور پھر اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں ہم بھی اسی کمرے میں پہنچے، جہاں باہر ڈیوٹی پہ کھڑا بندہ حال میں نام لے کے آواز لگاتا ہے۔ ہم بھی بھوکے پیٹ اپنی باری کے انتظار میں مصروف عمل ہو گے، نہ وہاں بیٹھنے کی جگہ، نہ کھانے کے لئے کچھ اور نہ ہی نماز جمعہ کا وہاں کوئی بندوبست۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ڈکیتی ہماری ہوئی نہیں، بلکہ ہم نے کی ہے۔
وہاں کھڑے لوگوں سے گپ شپ کر کے پتا چلا، کہ یہاں آئے ہم اپنی مرضی سے، لیکن جائے گئے اب ان کی مرضی سے۔ انتظار کے دوران ہر کوئی ایک دوسرے کو اپنی اپنی روداد سنا رہا تھا، ایک مدائی کی کہانی بڑی عجیب تھی، جس سے راستے پوچھنے کے بہانے، اسے گن پوائنٹ پہ گاڑی میں بٹھایا لیا گیا اور حیران کن بات اس میں یہ تھی کہ اس سے اے ٹی ایم کا پاسورڈ پوچھنے کے لئے اس کا جسم لیٹر سے جلایا گیا۔ آخر کار وہ ملزم بھی گرفتار ہو گئے۔ برے کا انجام، آخر برا ہی ہوتا ہے۔
سوچا تھا کہ شناخت پریڈ صرف پندرہ منٹ کا کام ہے لیکن ہمارا اندازہ غلط نکلا، چار گھنٹے بعد ہمارے نام کی آواز ہوئی۔ شناخت پریڈ کے بعد سوموار کو ایف 8 کچہری علاقہ مجسٹریٹ کے پاس پہنچا، تمام قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے، سپرداری کروائی اور واپس پولیس اسٹیشن پہنچا، موٹرسائیکل ریسیو کیا۔
قارئین یہ تمہید باندھنا اس لیے ضروری سمجھا، کہ اللہ کبھی نہ کرے، کہ ایسا وقت کسی پہ آئے، لیکن جب تک یہ سانس کی تار چل رہی، آزمائش بھی ساتھ ہی رہتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آ بھی جائے، تو وہاں مزاحمت کی بجائے، خاموشی کو ہی فوقیت دے، کیونکہ چیزیں دیر یا سویر مل ہی جاتی ہے۔


