اس خطے کا مسئلہ فقط عورت ہے


کل سے سوشل میڈیا پر ایک برقعہ پوش لڑکی کی گردش کرتی تصویر نے ذہن کو کچھ یوں الجھا دیا ہے کہ سوالات کی بوچھاڑ ہونے لگی ہے۔ لوگ واضح فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ کچھ اسے دلیری کی علامت کہہ رہے ہیں تو کچھ اسلام کی سپاہی تو کوئی اسے بھارت کی تقسیم کی داعی۔ میں تو حیران ہوں کہ پاکستانی جتنے نقاب اور برقعوں کے شیدائی سوشل میڈیا پر دکھائی دیتے ہیں وہ نہ جانے مجھے پاکستان میں نظر کیوں نہیں آتے۔

میں نے پاکستان کے ائرپورٹ پر پہنچتے ہی سعودیہ سے ہمارے ساتھ آنے والی اکثر خواتین کو برقعے فولڈ کر کے اپنے بیگز میں رکھتے دیکھا ہے اور یہی نہیں بلکہ خود میں نے وہاں اپنی آنٹیوں سے اکثر سنا کہ بیٹا عبایہ اتار دیں۔ آپ کو گرمی نہیں لگ رہی؟ خیر اس میں شک بھی نہیں کہ لباس کا براہ راست تعلق موسمی حالات سے ہوتا ہے اور یقیناً اس علاقے کے کلچر سے جہاں ہم رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں مذہب کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہوئے جتنی بے رحمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس سے کہیں بڑھ کر خواتین کو حیا اور بے حیائی کے ٹیگز لگاتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے نام پر بننے والا ہمارا نظریاتی ملک عملی طور پر کلچر میں بھارت سے کتنا مختلف ہے؟ کیا محض لباس سے آپ ایک مسلم یا غیر مسلم لڑکی کی شناخت کر سکتے ہیں؟ ڈرامہ، فلم، موسیقی اور دیگر کئی چیزیں تو ایک ہی جیسی ہیں۔ رہی بات اخلاقی برائیوں کی تو عملاً تو ہم سب اس میں ملوث ہیں جنہیں گنوانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔

اس خطے کا اصل مسئلہ بھوک، افلاس، بے روزگاری اور بدامنی ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے مگر لگتا ہوں ہے کہ مسئلہ بس عورت ہے۔ کون کتنا غیرت مند ہے اس کا فیصلہ عورت پر، کون کتنا مذہبی فیصلہ عورت پر، کون کتنا دکھی اس کا پیمانہ بھی عورت، قتل معاف کرانا ہے اس کے بدلے بھی عورت اور کسی کو قتل کرنا ہے اس کی وجہ بھی عورت۔ یعنی اس خطے میں باقاعدہ ایک ماحول بنایا گیا ہے کہ کیسے عوام کو ذات پات، مذہب اور لسانی تقسیم میں الجھائے ہی رکھنا ہے اور اصل ایشوز پر آنے ہی نہیں دینا۔

ہم اگر ترقی یافتہ قوموں کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کتنی مختلف نوع کے لوگ وہاں آباد ہیں اور مسلسل وہ ممالک دنیا کے دماغ اپنی طرف منتقل کیے چلے جا رہے ہیں۔ مختلف رنگ، مذاہب اور قومیتیں وہاں آباد ہیں مگر مجال ہے کہ آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ ہو کیونکہ انہوں نے ترقی کا راز پا لیا ہے اور انسان کی بقا کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ وہ مذہب کو مذہب کے خانے میں رکھنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور مرد و عورت کے چکر سے نکل کر انسانی زندگی کی ترویج، ترقی اور تکمیل کی جانب گامزن ہیں مگر ہم نے ہمیشہ لکیر کو پیٹا ہے اور پیٹتے رہنے ہی کا ارادہ ہے جس کی وجہ سے دنیا ہمیں اپنے پاؤں تلے روندتی ہے اور خطے سے برین ڈرین ہوتا ہے اور جو یہاں پیچھے رہ جاتے ہیں ان کا دائرے کا مکروہ اور منحوس سفر کبھی نہ ختم ہونے والی غلام گردش کی طرح جاری و ساری ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اس خطے کا مسئلہ فقط عورت ہے

  • 10/02/2022 at 12:07 صبح
    Permalink

    ہمارے ملک میں بلکہ زوال کے دور میں اکثر ممالک میں دین کی بنیادی تعلیمات کو بھول کر اس کو صرف اور صرف عورت کے معاملات تک محدود کر دیا گیا ہے۔

Comments are closed.