عمران خان کا رخصت ہونا ٹھہر گیا ہے
یہ ”ون ملین ڈالر“ سوال ہے کہ کیا وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی؟ یہ تو اب طے شدہ بات ہے کہ عمران خان کو ہٹانے کا فیصلہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی سیاسی نقشہ واضح نہیں کہ عمران خان کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے کون سا ”آئینی و قانونی“ آپشن استعمال کیا جائے گا؟ بظاہر عمران خان سے جان چھڑانے کی خواہش مند قوتوں نے تحریک عدم اعتماد لانے پر مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت کو آمادہ کر لیا ہے اور اس بات کا بھی فیصلہ ہو گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں عبوری مدت کے لئے وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا جو پارلیمان تحلیل کر کے ملک میں ”آزادانہ و شفاف“ انتخابات کا انعقاد کرائے گا سردست مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اسمبلیوں سے استعفے دینے کے آپشن کو استعمال کرنے کی بجائے وفاق اور پنجاب میں تحاریک عدم اعتماد لانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس مقصد کے لئے جہاں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ”گنتی“ پوری کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے وہاں جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ن) نے بھی حکومت میں شامل جماعتوں اور پی ٹی آئی کے ”ناراض“ ارکان سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے سینٹرل ایگزیکٹو اجلاس میں حکومت کے خلاف تمام فیصلوں کا اختیار نواز شریف کو دے دیا گیا ہے۔ وڈیو لنک نے ورچوئل اجلاس منعقد کرنے میں آسانی پیدا کر دی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اسلام آباد اور لاہور میں ورچوئل اجلاس کے انعقاد کے لئے انتظام کر رکھا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت پارٹی قائد نواز شریف نے لندن اور پارٹی صدر شہباز شریف نے لاہور سے کی۔ ورچوئل اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت، مرکزی عہدیداروں اور صوبائی پارٹی صدور نے شرکت کی۔ یہ اجلاس اتمام حجت کے لئے منعقد ہوا ہے۔ پارٹی کی سطح پر ایک رابطہ قائم کیا گیا جس میں پہلے سے طے شدہ امور پر ارکان کو اعتماد میں لیا گیا۔
اجلاس کے بعد کوئی پریس کانفرنس کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی بلکہ پارٹی کی ترجمان مریم اورنگ زیب کی طرف سے انگریزی میں پریس ریلیز جاری کرنے پر اکتفا کیا گیا۔ پریس کانفرنس سے اس لئے گریز کیا گیا کہ مسلم لیگی قیادت میڈیا کے ”چبھتے“ سوالات کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی سب سے زیادہ سوالات نواز شریف اور آصف علی زرداری کے تازہ ترین ”رومانس“ اور اس کے انجام کے بارے میں کیے جانا تھے جن کا مسلم لیگی قیادت فی الحال کوئی جواب نہیں دینا چاہتی۔ پارٹی اجلاس میں حکومت کے خلاف تمام آئینی و سیاسی فیصلوں کا اختیار نواز شریف کو دے دیا گیا ہے جب کہ شرکا نے نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے میاں شہباز شریف کو تمام سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا بھی مینڈیٹ دے دیا ہے۔ اجلاس میں شہباز شریف سے کہا گیا ہے کہ ”وہ عوام دشمن حکومت کے خلاف عوامی، سیاسی اور جمہوری اقدامات کے لئے تمام جماعتوں سے رابطے کریں“ ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر نے بھی سیاست دانوں کی عوام سے رابطے کی بڑی مشکلات دور کر دی ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے لکھا ہے کہ ”عوام کی حالت زار اور حکومت کی نا اہلی اور ہر میدان میں ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے پارٹی میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو جانا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے ہر مزید دن سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس رائے سے کسی ایک رکن نے بھی اختلاف نہیں کیا۔“
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کے شرکا نے کہا کہ ”جو بھی نواز شریف کا فیصلہ ہے وہی ہمیں قبول ہے۔ عمران خان سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ عمران خان سے نجات کے لئے جو بھی آئینی و قانونی طریقہ کار استعمال ہو، پارٹی کا بھرپور ساتھ دیں گے“ ۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ مجموعی صورتحال، ملکی تاریخ میں بدترین مہنگائی، عوام کو درپیش مسائل، معاشی تباہی، بے روزگاری کی صورتحال، منی بجٹ اور سٹیٹ بینک بل پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ملک میں دہشت گردی، بلوچستان میں حالیہ واقعات پر غور کیا گیا۔ سی ای سی اجلاس میں سیاسی جماعتوں سے ہونے والے رابطوں اور مختلف تجاویز پر اہم مشاورت کی گئی۔ شہباز شریف نے اجلاس کو پی پی پی قیادت سے ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں لیا۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کا ایک وفد عامر خان کی قیادت پنجاب کا دورہ کر چکا ہے۔ اس وفد نے اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقات کی ہے۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین و سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی (جو ان دنوں قائم مقام گورنر کے منصب پر فائز ہیں ) سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سے نالاں تو ہے ہی لیکن وہ ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار بھی کر رہی ہے اور کہا ہے کہ اختلاف رائے اچھی بات ہے، ملنے جلنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔ ہم حکومت کے اتحادی ہیں۔ بیڈ گورننس کا ہمیں سب سے شکوہ ہے۔ سردست کچھ معلوم نہیں کہ ایم کیو ایم پنجاب کے دورہ پر کیوں آئی اور اپوزیشن جماعتوں اور اتحادیوں سے ملاقاتوں میں کیا طے کیا ہے ویسے تو پاکستان مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور بی اے پی حکومت کی اتحادی جماعتیں ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ ان کے ”طوطے“ کی جان پنڈی والوں کے پاس ہے جو ”سیٹی“ بجتے ہی اپنی اڑان شروع کر دے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری کی پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں چوہدری برادران نواز شریف دشمنی میں اپنی ماضی کی تمام ”دشمنیاں“ بالائے طاق رکھ کر آصف علی زرداری کی قوت رہ چکے ہیں۔ چوہدری برادران ہمیشہ سوچ سمجھ کر سیاست کرتے ہیں۔ پنجاب میں ”نواز شریف دشمنی“ میں ان کو جس قدر سیاسی نقصان ہوا اس کا ازالہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سے ”دوستی“ کر کے کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے نواز شریف ان کی سیاست کا خاتمہ نہ کر سکے۔ آج پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کی وجہ سے ہی پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) جب چاہے پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت کا خاتمہ کرا سکتی ہے لیکن سوال یہ ہے اپوزیشن اس کے بدلے میں اسے کیا دے گی؟ اگر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کو وزارت اعلیٰ دینے پر معاہدہ ہو گیا تو پھر پنجاب میں سب سے پہلے تحریک عدم اعتماد آ جائے گی
شنید ہے میاں شہباز شریف چوہدری برادران سے ملاقات کے لئے جا رہے ہیں۔ کئی سال بعد یہ ملاقات ہو گی۔ مجھے یاد ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جاتی امراء میں چوہدری برادران کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر سے ملاقاتوں اور راہ و رسم بڑھانے پر ظہرانہ منسوخ کر دیا تھا جس کے بعد ایک طرف چوہدری برادران نے شریف خاندان سے قطع تعلق کر لیا تو دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی چوہدری برادران سے رابطے ختم کر لئے۔ کم و بیش 10 سال بعد مسلم لیگی دھڑوں میں دوبارہ رابطے قائم ہو رہے ہیں۔ ان رابطوں کی بحالی کے پیچھے کو ن سی قوت سرگرم عمل ہے، فی الحال کوئی بھی یہ بات زبان پر لانے کے لئے تیار نہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد کی ملاقات کے بعد چوہدری پرویز الہی نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق ایک اخبار نویس کے سوال کے جواب میں کہا کہ ”تحریک عدم اعتماد کے بارے میں اپوزیشن والے ہی بتا سکتے ہیں لیکن ابھی خدو خال سامنے نہیں آئے۔ کوئی چیز سامنے آ جائے۔ ابھی تو باورچی خانے میں سامان اکٹھا کیا جا رہا ہے، ابھی پکنا شروع نہیں ہوا، آپ کا ذہن ہے کہ کچا ہی کھا لیں۔ تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات نہیں ہوئی تاہم حکومتی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں“ ۔
وزیراعظم عمران خان نے بھی عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے واپسی پر پارٹی رہنماؤں اور ترجمانوں کا اجلاس بلا لیا۔ بظاہر وزیر اعظم اپوزیشن کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ تحریک عدم اعتماد لانے کی کوششوں سے پریشان نہیں لیکن عملی اقدامات سے ان کی پریشانی عیاں ہوتی ہے۔ حکومتی ترجمان فواد چوہدری نے بین السطور اتحادی جماعتوں کو عمران خان کا ساتھ چھوڑنے پر زیرو ہونے کی جو دھمکی دی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ ”کچھ ہونے والا ہے“ وزیر اعظم نے بلدیاتی انتخابات میں ایوان وزیر اعظم سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ آنے والے دنوں میں عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے۔
سٹنگ پرائم منسٹر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا آسان نہیں لیکن عمران خان جس طرح کی سیاسی صورت حال میں پھنس کر رہ گئے ہیں تو ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے قوی امکانات ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کے تازہ ترین ”رومانس“ کا انجام کیا ہو گا؟ کیا آصف علی زرداری اس نئی موو کی آڑ میں کوئی سیاسی سودے بازی تو نہیں کر لیں گے؟

