بھارت کی مسکان جینز پہن کر اسکوٹی چلا سکتی ہے لیکن پاکستان کی نہیں


اللہ اکبر بمقابلہ جے شری رام کا یہ دنگل کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

انسانوں کی لڑائی نے اپنے اپنے بھگوان کو بیچ چوراہے لا کھڑا کیا ہے یا بھگوانوں کی لڑائی میں انسان بیچ چوراہے آ گیا ہے۔ کیا یہ سیفرون اور حجاب کی لڑائی ہے؟ کیا یہ انسان کی شخصی ٓزادی کا معاملہ ہے کہ وہ کیا پہننا اور کیا ترک کرنا پسند کرتا ہے؟ کیا یہ ایک لڑکی ایک خاتون کی عزت کا مسئلہ ہے کہ لڑکوں بیٹوں بھائیوں کو خواتین کے ساتھ برتاؤ کی تربیت دی جائے؟ جب سے بھارت کی مسکان نے جے شری رام کے مقابلے پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا ہے تب سے یہ تمام سوال لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے کہ آخر یہ مسئلہ کیا ہے۔

ہم نے تو فٹ سے بھارت کی مسکان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ملالہ کے خلاف فحش ٹرینڈ چلانے، ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کر کے شادی کرنے، پادریوں کو جان سے مارنے، احمدیوں کو دھڑا دھڑ قتل کرنے، اپنے گورنر کے قتل کو جائز کہنے، سری لنکن شہری کو جلا دینے، اپنی اقلیت کو چار فیصد پر پہنچانے کے بعد ہم اپنی کل آبادی کے برابر مسلمان اقلیت رکھنے والے بھارت کی مسکان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں اس میں کوئی شرم بھی نہیں۔

ویڈیو کا تجزیہ کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ بھارت کی مسکان بڑے دھڑلے سے اسکوٹی چلاتی ہوئی اپنی یونیورسٹی پہنچتی ہے پورے شہر میں اس کو اسکوٹی چلاتے دیکھ کر نہ تو اس پر کوئی آوازیں کستا ہے نہ ہی کوئی اسے عجوبہ سمجھتا ہے کہ لڑکی موٹر سائیکل چلا رہی ہے ہائے میرے خدایا کیا زمانہ آ گیا ہے۔ اب لڑکیاں بھی اسکوٹی چلائیں گی۔

مسکان کو بڑے مزے سے اسکوٹی سے اترتے دیکھ کر ہم تو حیران پریشان رہ گئے کہ حجاب پر برقعے پر پابندی لیکن ایک اکیلی لڑکی کو پورے شہر میں اسکوٹی پر پھرنے کی اجازت بلکہ اگر وہ جینز یا اسکرٹ پہن کر بھی اسکوٹی پر پورے شہر میں پھرے گی تو اس کو کوئی منع کرنے یا تنگ کرنے والا نہ ہو گا جبکہ ہماری طرف آپ کو ملک کے طول و عرض میں عام طور پر کوئی خاتون نہ ملے گی جو موٹر سائیکل اسکوٹر یا اسکوٹی چلاتی نظر آئے۔ ہاں البتہ ایسی لڑکیاں اور خواتین ضرور ملیں گی جو باہر نکلتے ہوئے اپنی حفاظت کے لیے اپنے نو دس سال کے بھائی یا بیٹے کو ساتھ لے کر نکلتی ہیں تا کہ مرد حضرات بچے کو ساتھ دیکھ کر خاتون کو تنگ نہ کریں۔

اس گمبھیر صورتحال کو ہم نے جاننے کی کوشش کی تو ہمیں ادراک ہوا کہ مسکان جس برقعے کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے وہ برقع اور حجاب پہن کر اس کو پورے ملک میں گھومنے کی اجازت ہے لیکن کرناٹک کے نئے قواعد کے مطابق اس کو کلاس روم میں یونیفارم میں آ نا ہو گا۔ گویا یہ پابندی صرف کالج اور کلاس روم تک ہے لیکن اس کے باوجود مسکان کو حق حاصل ہے کہ اس کے خلاف آواز بلند کرے۔

جبکہ ہمارے یہاں یونیورسٹیوں کے کلاس روموں کے بیچ و بیچ مردانہ و زنانہ کو الگ کرنے کے لیے پردے لٹکا دیے جاتے ہیں لیکن کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے خلاف چوں بھی کر سکے۔ کالجوں میں نوٹیفیکشن بھیجا جاتا ہے کہ لڑکیاں لپ اسٹک لگا کر نہ آئیں۔ ملک کی چند گنی چنی جامعات میں مخلوط تعلیم ہے۔

یہ منظر ہمیں بتاتا ہے کہ بھارت کی مسکان ہم سے کہیں زیادہ آزاد ہے۔ کیونکہ وہ بھارت کی اقلیت ہونے کے باوجود ہندو لڑکوں کے ایک جتھے کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتی ہے اور کوئی اس کو ہاتھ تک نہیں لگاتا۔ اس کے حجاب یا برقعے کو چھونے کی کسی کو ہمت نہیں ہوئی۔

اب ذرا تصور کیجئے ہمارے پیارے وطن عزیز میں مسلمان مردوں کا ایک جتھا ہو اور ایک ہندو لڑکی ساڑھی پہنے تلک لگائے جے شری رام یا ہر ہر مہا دیو کے نعرے لگاتے ہوئے سڑک پر آ جائے۔ اول تو یہاں کی اقلیت کی ایسی مجال نہیں بالفرض کوئی نادان ایسا کر ہی گزرے تو اگلے ایک گھنٹے میں لوگوں کا ہجوم سر تن سے جدا کا اصول بروئے کار لاتے ہوئے اس بد قسمت انسان کے حصے بخرے کر ڈالے گا اور پھر اس کے گھر والوں کو پریانتھا کمار کے گھر والوں کی طرح صرف راکھ ہی ملے گی۔ لیکن پھر بھی ہم بھارت کی مسکان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اور ہمارے علما اس کو امت مسلمہ کی حرمت قرار دیتے ہوئے انعام دینے کا اعلان کر رہے ہیں۔

بھارت کے شدت پسند گروہ کی جانب سے مسکان کو ہراساں کرنے کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں کسی بھی لڑکی یا خاتون کے ساتھ ایسا سلوک قابل مذمت ہے جس کا کوئی بھی معاشرہ اجازت نہیں دیتا ہمارے جیسے معاشروں میں لڑکوں بھائیوں اور بیٹوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ کیسے برتاؤ کیا جائے لیکن ساتھ ہی ہم شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ گروہ پاکستان کے شدت پسندوں کا گروہ نہیں تھا ورنہ اب تک مسکان کی فاتحہ خوانی ہو چکی ہوتی۔ کیونکہ ہماری تو عدالتیں بھی 26 سالہ انیقہ کو واٹس ایپ چیٹ کی بنا پر سزائے موت سنا دیتی ہیں۔

اس مسئلے کا یہ پہلو کہ ہر انسان کو اپنی پسند کا پہناوا پہننے کا حق حاصل ہے بالکل درست ہے۔ ایک لبرل انسان اپنے اور دوسروں کے لیے یہی پسند کرتا ہے کہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرنے کی اجازت انسان کا بنیادی حق ہے۔ بھارتی حکومت بے شک صرف کلاس روموں تک حجاب یا برقع پہننے پر پابندی لگائے لیکن تب بھی یہ نا قابل قبول ہے کیونکہ مودی حکومت کی جانب سے اس کو مسلمان اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ بھارت کو اپنے ملک میں خواتین اور اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندی کو روکنے کے لیے یہ اقدام واپس لینا ہو گا۔ بے شک مودی حکومت کی یہ کہتی رہے کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے یہ الیکشن کے نزدیک حکومت کے خلاف ایک ہتھکنڈا ہے لیکن اس طرح کے اقدام سیکولر کہلائے جانے والے بھارت کے لیے ایک بڑا داغ ہیں اور جہاں تک ہماری بات ہے تو ہمارے لیے تو سیکولر ازم کفر ہے الحاد ہے وغیرہ وغیرہ یہ الگ بات کہ ہمیں بھارت میں سیکولر ازم درکار ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عالیہ شاہ

On Twitter Aliya Shah Can be Contacted at @AaliyaShah1

alia-shah has 45 posts and counting.See all posts by alia-shah

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments