گلگت بلتستان کے لوگوں کی تحفظات اور صوبے کے مطالبے کی وجوہات



چوہتر سال گزرنے کے بعد بھی دوسرے لوگ گلگت بلتستان کو صرف اور صرف ایک خوبصورت اور دل کش خطے کے معنوں میں لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں اللہ تعالی نے اس خطے کو ناقابل فراموش حسن عطا کیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کے لئے حکومت پاکستان کے حکمرانوں نے 1947 سے لے کر اب تک کیا کیا ہے؟ حکومت پاکستان نے اس خوبصورت علاقے کے پسماندہ لوگوں کے لیے صحیح معنوں میں کیا کیا ہے، کیا گلگت بلتستان کی خوبصورتی کی طرح اس خطے میں رہنے والے لوگ بھی خوبصورت اور مسائل سے پاک ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ہر دور میں گلگت بلتستان کی خوبصورتی گلگت بلتستان کے لوگوں کی شکایات پر حاوی رہی ہے۔ جبکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ کسی نے کبھی بھی اس خطے کے اندرونی حصے کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی جہاں گلگت بلتستان کے باشندے رہتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح آئینی حقوق کے لیے مقامی لوگوں کی جدوجہد کو کوئی دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ظاہری طور پر دل کش دیکھنے والے اس خطے کے لوگ کتنے خوش حال ہیں یہ صرف وہ جانتے ہیں۔ اس سب کے باوجود آج ہم جی بی کے لوگوں کے حالات پر روشنی ڈالیں گے۔ اور ہم پاکستان کے ان لوگوں کو جواب دینے کی کوشش کرے گے جو ہم سے ایک ہی سوال کرتے ہیں۔ آپ لوگ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیوں کرتے ہو؟ وہ کیا چیز ہے جسے آپ لوگ صوبے کے ذریعے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ سب سے اہم اور پہلی بات جسے ہم سب کو سمجھنا ہو گا وہ یہ کہ دنیا بھر میں لوگ احتجاج اور مظاہرے کیوں کرتے ہیں؟ وہ کیا وجوہات ہو سکتی ہیں جو نوجوانوں سے لے کر بیواؤں کو اپنے بچوں کے ساتھ باہر نکلنے اور شور مچانے پر مجبور کرتی ہیں؟

یقینی طور پر، اس پہ کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اس کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں؟ وہ کیا بات ہے جو مقامی لوگوں کو یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کر رہی ہے؟ اس کا جواب تو سب کو معلوم ہے لیکن نا آشنا بننے والوں کو جواب دینا ہم لازم سمجھیں گے۔ جواب یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صوبائی حیثیت ان کے اب تک کے مسائل کو حل کر دے گی اور ہماری جو پسماندگی اور محرومی کی حیثیت ہے اس کو مٹا دے گی۔

لیکن اگر ہم تاریخ کا جانچ پڑتال کریں تو تاریخ بہت سی مثالوں سے بھری پڑی ہے، اب بھی پاکستان میں ایسے صوبے موجود ہیں جو پاکستان میں اپنی بقاء کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جس میں بلوچستان سر فہرست ہے۔ تاہم ایک غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ اگر گلگت بلتستان کو صوبائی حیثیت دی تو مسئلہ کشمیر پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے ۔ جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو اس وقت گلگت بلتستان تھا کیا وہ اس وقت ریاست کشمیر کا حصہ تھا؟

یہ ابھی تک ایک تاریخی بحث ہے۔ حقیقی طور پر دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ صوبے کا مطالبہ کبھی نہیں کرتے، اگر حکومت پاکستان ان کی محرومیوں اور تحفظات کو پورا کرتی۔ جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتی گئی۔ واضح طور پر، پہلی اور موجودہ سب حکومتوں نے گلگت بلتستان کے لوگوں کی پریشانیوں اور مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔ کچھ دھر کے لیے سوچیں، ہم یہ مان لیتے ہیں کہ آئینی ترمیم کرنے کی راہ میں بے پناہ رکاوٹیں ہیں لیکن حقوق دینے کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں؟

اس کا جواب کہیں سے نہیں ملتا اور کوئی پوچھے تو؟ اس بات پر ماضی سے لے کر اب تک کی تمام حکومتیں ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہیں؟ کیا حکومت پاکستان پارلیمنٹ سے ایسی کوئی قرارداد پاس نہیں کر سکتی جس سے گلگت بلتستان کے لوگوں کو پاکستان کے دوسرے صوبوں کے برابر حقوق مل سکے؟ جی بی کے لوگوں کی شکایات اور جی بی کی پسماندہ حیثیت یہی ظاہر کرتی ہے کہ ہم ضروریات زندگی کے لیے بھی سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ بظاہر، آپ لوگوں کو حیران نہیں ہونا چاہیے اگر میں ضروریات زندگی میں بھی مسائل ہیں کہوں تو۔

ہاں، آج کی اس ڈیجیٹل دنیا میں ہمیں ضروریات کی فہرست میں بھی کچھ آسائشوں کو شامل کرنا ہو گا جو کہ گلگت بلتستان میں نظر آنا مشکل ہے۔ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار نایاب اور نامعلوم ہے۔ اور اس کی وجہ حکومت پاکستان کے حکمرانوں کی غفلت اور جان بوجھ کر اس خطے کو پسماندگی کی طرف دھکیل دینا ہے۔ 1947 سے اب تک یہاں ایک بھی میڈیکل اور انجینئرنگ یونیورسٹی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان ہر وقت یہ ایک بات دہراتی ہے کہ گلگت بلتستان میں خواندگی کی شرح پاکستان کے دیگر صوبوں سے زیادہ ہے۔

یہ وہ خواندگی کی شرح ہے جو صرف سکولوں کے اندر جانے سے آتی ہے تاہم وہاں پہ کوئی استاد ہو یا نہ ہو آپ کے خواندگی کے رکارڈ میں آئے گی۔ اور سکولوں کے اندر کی حالت ہمیں پتہ ہے وہ بھی بہت اچھے سے۔ ہمیں ہر وقت تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کی طرف دیکھنا ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ ایک مستقل حل ہے؟ کب تک ہم محض بنیادی اور ثانوی تعلیم اور ضروریات کے لیے ہجرت کریں گے۔ بس آخر کار گلگت بلتستان کے لوگ 18 ویں ترمیم کے ذریعے وہ تمام اختیارات گلگت بلتستان کے لیے چاہتے ہیں جو دوسرے صوبوں کو دیا گیا ہے۔

اس نظام کی بات کرتے ہیں جو گلگت بلتستان والوں کو پاکستان کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے مقابلے میں بہتر کر سکے۔ افسوس کی بات ہے اس جدید اور ٹیکنالوجی سے بھری دنیا میں آج بھی ایک خطہ (گلگت بلتستان) موجود ہے جو آئینی حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کر رہا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ پاکستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگوں کو بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا پڑھتا ہے اور حکومت کی توجہ لینی پڑھتی ہے۔ آسائشوں کی بات بعد میں کریں گے ابھی بنیادی حقوق کی بات ہو رہی۔ نتیجتاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ یہ علاقہ کتنا خوشحال اور کتنا پسماندہ ہے۔

Facebook Comments HS