اغوا برائے تاوان اور کچے میں موجود گینگز


ضلع رحیم یار خان اور ضلع راجن پور کے درمیان دریائی پٹی میں ملحقہ علاقے کچے کا علاقہ کہلواتے ہیں جہاں جزیرہ نما کچا کراچی اور دیگر کئی چھوٹے چھوٹے علاقے موجود ہیں جو بدنام زمانہ ڈاکووں، جرائم پیشہ افراد اور اغوا کاروں کا مسکن رہے ہیں۔ ماضی میں بارہا ان افراد کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں اور ذرائع کے مطابق جب بھی پولیس ان کے پیچھے جاتی ہے تو یہ اپنا ٹھکانہ بدل کر کبھی سندھ کے کچے میں چلے جاتے ہیں تو کبھی بلوچستان کی طرف فرار ہو جاتے ہیں۔

اپریل 2016 میں ضرب آہن کے نام سے پولیس اور رینجرز کی جانب سے کچہ کے بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا جو بعد ازاں پاکستان آرمی نے سنبھال لیا۔ آرمی کے آنے کے بعد غلام رسول عرف چھوٹو اور اس کی گینگ کے ساتھیوں نے کچھ دن بعد پاک آرمی کو گرفتاری دے دی تھی اور یوں کچا سے چھوٹو گینگ کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کی گرفتاری کے بعد سمجھا جا رہا تھا کہ اب ضلع رحیم یار خان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ختم ہو جائیں گی لیکن کچھ عرصہ حالات پر امن رہے اور ایک بار پھر کچے میں بسنے والے اغوا برائے تاوان کرنے والے گینگز متحرک ہو گئے اور دوبارہ اغوا برائے تاوان کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے۔

جبکہ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کچے میں کوئی مستقل اغوا کار گینگز موجود نہیں ہیں اور پولیس نے کچا میں موجود تمام نو گو ایریاز ختم کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جزیرہ نما کچے میں موجود آج بھی مختلف گینگز ہیں جو اغوا برائے تاوان کے ساتھ مختلف سنگین جرائم میں شامل ہیں۔ کچھ عرصہ قبل کچے کے ایک اندھڑ نامی گینگ نے 9 افراد کو دن دیہاڑے قتل کر دیا تھا اور پورے علاقے میں آج بھی خوف ہراس ہے کیونکہ آج تک ان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے اور بعد ازاں تاوان ( 30 لاکھ روپے سے زائد) دے کر رہائی پانے والے دو افراد جن میں ایک ڈاکٹر اور ایک شہری نے نام نہ آنے کی شرط پر بتایا کہ اغوا کار انہیں جب اسلحہ کے زور پر اغوا کر کے لے گئے تو انہیں موٹر سائیکلوں پر لے جایا گیا اور وہ موٹر سائیکل دن رات مسلسل چلتے رہے۔ جن ڈاکوؤں نے ان کو اغوا کیا تھا انہوں نے آگے ان کو دے دیا تھا۔ پھر ان کو آہنی زنجیروں سے باندھ کر جھگیوں میں رکھا گیا۔

ان کے مطابق کبھی دن میں ایک ٹائم تو کبھی دو ٹائم تھوڑا سا کھانے میں دیتے تھے، اس کے بعد ان کو کچے کے جنگلوں میں لے جاتے تھے جہاں ان سے لکڑیاں کٹواتے تھے۔ دن بھر لکڑیاں کٹوانے کے بعد ان کو واپس لے آتے تھے۔ اگر کوئی نہیں کرتا تھا تو اس پر تشدد کیا جاتا تھا اور کھانا بھی کم دیتے تھے اور یہ کام تب تک کرواتے ہیں جب تک اغوا ہونے والوں کے ورثا پیسے نہیں دیتے تھے۔ بعض اوقات تو کچے کے اغوا کار پیسے نہ دینے والوں کے ورثا کو مغوی کی مار پیٹ کی ویڈیو بھی بنا کے بھیجتے ہیں اور کال پر بات بھی کرواتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکوؤں کے پاس جدید اسلحہ اور موبائل فون بھی ہیں اور موبائل کال کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کو مبینہ طور پر ہماری لوکیشن معلوم تھی لیکن پھر بھی پولیس ہماری مدد کے لیے کچے میں نہیں پہنچ سکی۔

اغوا کی وارداتوں کے حوالے سے صادق آباد سے ملحقہ کچے پر رپورٹنگ کا تجربہ رکھنے والے سینئر صحافی زاہد حسین سے جب اس سلسلہ میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صادق آباد میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بہت زیادہ ہیں لیکن پولیس اس بات کو نہیں مانتی۔ صادق آباد سے اغوا ہونے والے اکثر تاوان دے کر رہا ہوتے ہیں اور پھر وہ واپس آ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ یہ بات بھی وہ تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اغوا ہوئے تھے کیونکہ ان پر پریشر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار ماہ میں درجنوں اغوا کی وارداتیں ہوئی ہیں اور ان میں سے کئی لوگ تاوان دے کر رہا ہووے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لٹھانی گینگ اور جانو گینگ کچے میں خاصہ متحرک ہیں۔ اس سلسلہ میں جب پی آر او پولیس سیف علی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ڈی پی او کیپٹن (ر) علی ضیا کی تعیناتی کے بعد پولیس کچے کے اغوا کاروں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کر رہی ہے اور پولیس نے بہت سی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچے میں موجود اغوا کار گینگز اور ان کے نیٹ ورک جلد ختم کر دیا جائے گا اور اسی سلسلہ میں پولیس نے کچے میں موجود اغوا کاروں کے سہولت کاروں سمیت دیگر افراد کو بھی پکڑا ہے جن کو میڈیا کے آگے جلد پیش کیا جائے گا۔ اس وقت کچے میں کوئی نو گو ایریا موجود نہیں ہے۔

Facebook Comments HS