پاکستان کو بھارت میں مدغم ہونے سے بچائیں


الم انگیز ہونے پر کیا دلچسپ ہوتا ہے
چراغ انجمن کا ذکر، پروانے کا فسانہ

سرسید نے آج سے قریب ایک سو پچاس برس پہلے، اپنے انگریز کلکٹر سے کہا تھا کہ آپ لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں، کہ ہندوستان میں ایک قوم بستی ہے۔ یہاں دو الگ الگ قومیں بستی ہیں، اگر آج کوئی اس حقیقت سے اغماض برتتا ہے تو آنے والا زمانہ اس سے اس حقیقت کو خود منوا لے گا۔

سر سید نے یہ اعلان، جنگ آزادی 1857 سے چند برس بعد کیا تھا، جب حالت یہ تھی کہ انگریز اور ہندو کی متحدہ سازش، بھارت سے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹانے کے لئے برسر کار تھی۔ سر سید کے اس انقلابی اعلان سے ان کے کان کھڑے ہوئے اور انہوں نے متحدہ قومیت کا جال بننے کے لئے گہری تدبیریں سوچنی شروع کر دیں۔ 1880 میں کانگریس کا قیام اسی سازش کی ایک کڑی تھا،

سر سید نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ وہ ہندو اور انگریز کے تیار کردہ اس دام ہمرنگ میں نہ پھنسیں اور اس کانگریس میں قطعاً شامل نہ ہو جو بھارت کے تمام باشندوں کو ایک قوم کے افراد قرار دے کر، اپنے آپ کو ”نیشنل“ کہتی ہے۔

اس کے بعد جب بھارتیوں کو شریک حکومت کرنے کی اصلاحات کا پہلا قدم اٹھایا گیا تو سر سید نے انگریز سے بر ملا کہہ دیا کہ جب تک مسلمانوں کو جداگانہ نیابت نہیں دی جائے گی، ہم اس میں شرکت نہیں کریں گے۔ سر سید کے بعد اقبال بھی اسی پیغام کو دہراتا رہا کہ

بنا ہمارے حصار ملت کے اتحاد وطن نہیں ہے

اور ہندو، اس کے خلاف متحدہ قومیت کا راگ الاپتا رہا، تا کہ 1930 میں اقبال نے اس نظری تصور کو عملی پیکر میں تبدیل کرنے کے لئے، مسلمانوں کی جداگانہ قوم کے لئے ایک جداگانہ خطہ زمین کے مطالبہ کی بنیاد رکھی۔

بات آگے بڑھتے چلی گئی تا کہ ہندو اور انگریز دونوں کو، مسلمانوں کے اس متحدہ مطالبہ کے سامنے جھکنا پڑا، اور 1947 میں مسلمانوں کے لئے خطہ زمین کو الگ کر دیا گیا اور اس طرح ہندوستان کے تقسیم عمل میں آ گئی۔ یوں تو یہ تقسیم انگریز، ہندو اور مسلمانوں کے مشترکہ معاہدہ کی رو سے عمل میں آئی تھی، لیکن ہندو اور انگریز دونوں کے دل پر کیا گزری تھی، اس کا اندازہ اس اعلانات سے لگائیے، جس سے انہوں نے اس معاہدہ کی رسم افتتاحیہ ادا کی تھی۔

یہ معاہدہ مسلم لیگ اور کانگریس کے مابین ہوا تھا۔ 3 جون 1947 کو اس پر دستخط ہوئے اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 14 جون کو حسب ذیل قرار داد پاس کی۔

” آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو پورا پورا یقین ہے کہ جب موجودہ جذبات کی شدت میں کمی آ جائے گی تو ہندوستان کے مسئلہ کا حل صحیح پس منظر میں دریافت کر لیا جائے گا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے دو الگ الگ قومیں ہونے کا باطل نظریہ مردود قرار پا جائے گا۔“

پنڈت جواہر لعل نہرو ایک طرف اس معاہدہ پر دستخط کر رہا تھا اور دوسری طرف قوم سے کہہ رہا تھا کہ۔

” ہماری اسکیم یہ ہے کہ ہم اس وقت جناحؔ کو پاکستان بنا لینے دیں اور اس کے بعد معاشی طور پر اور دیگر انداز سے ’ایسے حالات پیدا کرتے جائیں جن سے مجبور ہو کر مسلمان گھٹنے کے بل جھک کر ہم سے درخواست کرے کہ ہمیں پھر سے ہندوستان میں مدغم کر لیجیے۔“

یہ قوم پرستوں کے نیتاؔ تھے۔ ہندو مہا سبھا کے سرپنچ، ڈاکٹر شیاما پرشاد مکر جی، اپنی جاتیؔ کو یہ تلقین کر رہے تھے کہ۔

”ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پھر سے ہندوستان کا حصہ بنالیا جائے، اس حقیقت سے متعلق میرے دل میں ذرا سا بھی شبہ نہیں کہ ایسا ہو کر رہے گا، خواہ یہ معاشی دباؤ سے ہو یا سیاسی دباؤ سے، یا اس کے لئے دیگر ذرائع استعمال کرنے پڑیں۔“

گو کہ پاکستان کا قیام ماضی کی تاریخ سے مستقبل کی جانب گامزن ہے، لیکن سوچنا یہ ہے کہ کیا بھارت واسیو کے دل میں پاکستان سے نفرت کو بھڑکنا والے، اس آگ کو کبھی بجھنے بھی دیں گے کہ نہیں، یا یہ آتش فشاں ہر وقت پھٹتا رہے گا۔

پاکستان کے سرخیلوں نے ماضی سے نکل کر مستقبل کے لئے اب کیا سوچا ہے، اس پر نوجوان نسل نے کبھی غور کیا کہ نہیں یا، باریاں کی آنیاں اور جانیاں لگی رہے گی۔ ذرا نہیں پورا سوچو، لیکن ایک بار صرف نوجوان کے مستقبل کے لئے، پاکستان کے لئے۔ پاکستان کو بھارت میں مدغم ہونے سے بچائے۔ کیونکہ مملکت واقعی نازک دور سے گزر رہی ہے۔ معاشی اور سیاسی تباہ حالی کے پل صراط سے۔

Facebook Comments HS