کورونا۔ جنوبی پنجاب میں سہولیات اور مسائل
کورونا کے دوران صحت کے ساتھ دیگر ایسے مسائل پیدا ہوئے ہیں جو سرحدوں، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر پوری دنیا میں عام لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ یہ مسائل یوں تو پوری دنیا کو ہی درپیش تھے تاہم پاکستان جیسے پسماندہ ممالک میں ان مسائل کا جواب دینے کے لئے محدود مالی وسائل اور صحت کے بنیادی کمزور ڈھانچے کی وجہ سے عوام کو زیادہ خطرناک حالات کا سامنا رہا ہے۔ دنیا میں مجموعی طور پر 100 ملین سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہوئے اور اس کے نتیجے میں تقریباً سوا دو ملین افراد تھوڑے عرصے میں جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ یہ وبائی مرض معاشروں کے لئے غیر متوقع چیلنجز لائی ہے جس نے انسانیت اور معیشت کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ بہت سے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔
پاکستان نے ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی اس وبائی مرض پر قابو پانے کے لئے مکمل اور سمارٹ لاک ڈاؤن جیسے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ اس طرح پہلا لاک ڈاؤن ہٹانے کے بعد عوام کی جانب سے ایس و پیز کا خیال نہیں رکھنے اور شاپنگ کے لئے ٹوٹ پڑنے کے بعد مرض میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے بعد فوری طور پر دوسری لہر کی شدت سے نمٹنے کے لئے تمام تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا جبکہ تقریبات اور تفریح کے مقامات کو بھی بند کر دیا گیا جس سے جنوبی پنجاب میں روزگار اور کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
اسی وجہ سے جنوبی پنجاب میں پہلے سے خراب ملکی معیشت کی صورتحال کے باعث جنوبی پنجاب میں کاروبار بند ہونے اور دیگر اداروں کے خراب معاشی حالات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہونے لگے اور پہلے سے موجود مہنگائی نے بے روزگاری کے بعد لوگوں سے جینے کا ہی سامان چھین لیا۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا کی وبا میں سال 2020 ء سے اب تک جنوبی پنجاب میں تقریباً 50 ہزار لوگ بے روزگار ہوئے جبکہ 5 کروڑ سے زائد جنوبی پنجاب کی آبادی کی آمدن میں 20 سے 50 فیصد تک کمی اور اخراجات میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
جنوبی پنجاب میں جہاں ایک جانب لوگوں کو معیشت اور روزگار کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہوا اور ان مسائل کا کوئی حل بھی اب تک نہیں مل سکا ہے وہیں دوسری جانب مسائل کا یہ عالم ہے کہ جنوبی پنجاب میں تقریباً 10 ہزار بچوں پر سکولوں کے دروازے ہی بند ہو گئے ہیں جن میں سے بیشتر سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم تھے جن کو والدین نے خراب معاشی حالات کے پیش نظر تعلیم سے ہٹا کر روزگار پر جوت دیا یا بچیوں کی کم عمری میں شادی کر دی جس کی وجہ سے پنجاب میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کرنا پڑا اور انرولمنٹ مہم بھی شروع کی گئی ہے۔
عالمی صحت کے تحفظ کے انڈیکس میں صحت کی سہولیات کا بدترین عالم یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے ہر 10 لاکھ افراد پر 980 ڈاکٹر ہیں اور زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں میں دیکھ بھال کے لئے موثر نظام موجود ہی نہیں ہے کیونکہ ڈاکٹروں کی ساری توجہ پرائیویٹ پریکٹس کی جانب رہتی ہے جبکہ ہسپتالوں کے باقی عملہ کا رویہ غریب عوام کے ساتھ انتہائی درشت ہوتا ہے اور سرکاری ہسپتالوں پر عدم اعتماد و زہر کا ٹیکہ لگانے اور لاش واپس نہیں دینے جیسی افواہوں کے باعث کورونا میں مبتلا غریب مریض گھروں میں دم توڑ گئے۔
کورونا جیسے وبائی مرض کے باوجود جنوبی پنجاب میں پینے کا صاف پانی موجود نہیں ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 70 فیصد آبادی بیکٹیریا سے آلودہ پانی پینے پر مجبور رہتے ہیں۔ بڑے شہروں میں لگے واٹر فلٹریشن پلانٹس بھی زیادہ تر بند رہتے ہیں یا ان کی صورتحال ناقص ہے اور پانی بھی صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں ایک ایک گھنٹہ دستیاب ہوتا ہے جبکہ چولستان، مظفرگڑھ کے سیم زدہ علاقے، ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی علاقوں میں جانور اور انسان آج کے جدید دور میں بھی ایک ہی جگہ سے پانی پیتے نظر آتے ہیں اور اس صورتحال میں بیماریوں سے لڑنے کے لئے قوت مدافعت نہیں ہونے کے برابر ہے۔ اس لئے جنوبی پنجاب میں ملتان کا نشتر ہسپتال اور مظفرگڑھ کا طیب اردگان ہسپتال جنوبی پنجاب کے مریضوں سے ہر وقت بھرا ہی نظر آتا ہے۔
جنوبی پنجاب میں جہاں دیہی اور پہاڑی علاقوں میں بکھری آبادی کو اس وائرس کی آگاہی اور بچاؤ کے لئے اقدامات کی فراہمی مشکل رہی ہے وہیں شہری آبادی میں زیادہ تر آبادی کے چھوٹے گھروں میں مشترکہ طور پر رہنے کی وجہ سے ان میں سماجی فاصلہ اور ایک دوسرے کے وائرس سے بچاؤ کرنا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے اور یہی معاملہ بیماری کے پھیلاؤ کا باعث رہا ہے۔ انہی مسائل سے دوچار ملتان کے عامر حسین کا کہنا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بدولت پہلے اسے مہنگائی سے پیدا ہونے والی مشکلات کا سامنا تھا اور پھر سال 2020 ء میں اسے ادارے نے خراب معاشی حالات اور ادارے کے خسارے میں جانے کا کہتے ہوئے ملازمت سے جبری طور پر برطرف کر دیا تو اس پر جیسے مشکلات کے دروازے ہی کھل گئے ہیں۔ عامر نے بتایا کہ وہ اور اس کا بھائی اپنے 6 بچوں اور بیویوں کے ساتھ 3 مرلے کے ایک مکان میں ایک ایک کمرے میں رہائش پذیر ہیں اور ایک وقت میں گھر کے 4 افراد تک کورونا کا شکار رہے ہیں۔ یہ ایک بہت مشکل دور تھا جس سے انہیں خود ہی نکلنا پڑا ہے اور حکومت کی جانب سے انہیں کوئی سہارا فراہم نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم جنوبی پنجاب میں عوام کو کورونا سے بچاؤ کی سہولیات کی فراہمی بارے نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نشتر ہسپتال کم وسائل اور بجٹ کے باوجود ملک کے 3 صوبوں سے آنے والے مریضوں کا بوجھ خوشدلی سے اٹھا رہا ہے اور یہاں کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے اپنی جانوں پر کھیل کر کورونا کا شکار مریضوں کا علاج کیا اور بیشتر مریض صحت یاب ہوئے۔ اس کے علاوہ حکومتی ہدایات کی روشنی اور کورونا کے لئے بجٹ کی فراہمی کے باعث یہاں آنے والے تمام مریضوں کا بالکل مفت علاج کیا گیا ہے اور داخلہ، تشخیصی ٹیسٹوں، ادویات، آکسیجن کی 24 گھنٹے فراہمی اور وینٹی لیٹرز کے لئے کسی قسم کی کوئی بھی فیس نہیں لی گئی ہے۔


