کیل ٹھونکنا سیکھیے!


سب سے بڑا علاج تو ہم نے ابھی تک بتایا ہی نہیں!

دیکھیے بلی تب ہی شیر کی خالہ بنی نا جب ضرورت پڑنے پر بھاگ کر درخت پہ چڑھ گئی اور تعاقب کرنے والا منہ دیکھتا رہ گیا۔ سو ثابت ہوا کہ خاص نسخہ جات عوام الناس کی نظر سے اوجھل رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان کو خواص تک پہنچایا جانا وقت کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھنے کے مترادف ہے۔

اب کیا ہے کہ ہم سوچے بیٹھے ہیں کہ عورت تب تک اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑ سکتی جب تک اس کا ذہن اور جسم صحت مند نہ ہو اور اسے اپنے معاملات سے جدید سائنس کے مطابق آگہی نہ ہو۔

جس طرح نزلہ زکام کھانسی بخار کسی بھی انسان کو نڈھال کرتا ہے اسی طرح عورت کے تخلیقی اعضا میں کسی قسم کی تکلیف عورت کو محض نہ تو نڈھال کرتی ہے اور نہ ہی کسی ٹوٹکے سے بہتر ہوتی ہے بلکہ پوری توجہ چاہتی ہے۔ کیونکہ ان اعضا کے درست کام نہ کرنے سے عورت کا وجود ( Being) خطرے میں پڑ جاتا ہے اور اس کے ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

بانجھ عورت کا معاشرے میں مقام کسی سے مخفی نہیں۔ ماہانہ تکالیف سے نبرد آزما ہوتی عورت سے کسی کو ہمدردی نہیں ہوتی بلکہ انہیں استہزائیہ/ طنزیہ رویوں اور ایسی اقدار کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے جہاں انہیں زندگی کے رواں دواں دھارے سے کاٹ کر قید تنہائی کی سزا سنائی جاتی ہے۔ واپسی تب ہی ممکن ہوتی ہے جب وہ جسم سے خارج ہوتا وہ گند سمیٹ لیں جو حیات نمو کے لئے لازم تو ہے ہی لیکن جس کی غیر موجودگی عورت کے وجود کے لئے سوال بن جاتی ہے۔

یہی سب سوچ کر ہم نے گائنی فیمینزم کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے وہ سب لکھنا شروع کیا جسے لوگ سات پردوں میں مستور دیکھنے کے عادی ہیں۔ لوگوں کے بوکھلانے، سٹپٹانے، سر کھجانے، آنکھیں دکھانے، اور پھول عرف تیر و تفنگ برسانے کی ہم نے قطعی کوئی پرواہ نہیں کی۔

ہم نے چاہا کہ حمل، زچگی، ماہواری اور صنفی امتیاز کو آپ تک ہر شکل پہنچا دیا جائے جو عورت کی زندگی کے ہر پل کو پل میں بدل دیتا ہے اور پل بھی پل صراط!

لیکن دیکھیے ہم بھی بلی کی طرح نسخہ خاص چھپا گئے نا!

تو اب سنیے، اگر آپ کو لگے کہ عورت کا جسم آپ کی ضرورت کے مطابق پیداوار نہیں دے رہا، ہر حمل کے بعد اندر سے اسی کی ہم شکل ایک اور بدصورت عورت برامد ہو جاتی ہے۔ نہ کوئی مبارک دیتا ہے اور نہ مٹھائی بٹتی ہے۔ ایک اور ان چاہی کا بوجھ آپ کے کندھے جھکا دیتا ہے تو علاج تو آپ کو کرنا ہی ہے نا۔

اور اگر آپ کو یہ محسوس ہو کہ بیوی نامی عورت کی تکالیف/ شکایات کسی طرح کم ہونے میں نہیں آ رہیں اور ڈاکٹرز اس کا علاج کرنے میں ناکام رہے ہیں تو پھر آپ کو ہی کچھ کرنا پڑے گا نا۔

اور اگر آپ کو لگے کہ بیوی کی صورت میں گھر میں ایک تیز و طرار عورت موجود ہے جو کبھی کسی عمارت کی چھت سے چھلانگ لگا کر آپ کو زچ کرتی ہے اور کبھی اپنی مرضی کا راگ الاپتی ہے تو علاج تو کرنا چاہیے نا!

بالکل جناب، علاج موجود ہے، مجرب نسخہ ہے بھئی!
پیشانی میں پانچ سینٹی میٹر یعنی دو انچ لمبی فولادی کیل ہتھوڑی کی مدد سے ٹھونک دیجیے!

ارے حیرت کاہے کی؟ جب آپ کے گھر میں کسی چیز کی مرمت کی جاتی ہے تو ہتھوڑی اور کیل کی مدد ہی لی جاتی ہے نا۔ جب گھر کے پچھواڑے بندھی اڑیل بھینس، بھیڑ یا بکری کو راہ راست پر لانا مقصود ہوتا تو پاؤں میں زنجیر یا رسی سے ہی کھونٹے سے باندھا جاتا ہے نا۔

جب مداری ڈگڈگی بجاتے ہوئے بندریا سے دل پسند کام کرواتا ہے تو حکم عدولی کی صورت میں مداری کے دوسرے ہاتھ میں تھامی چھڑی بندریا کو کچھ بھی نہیں بھولنے دیتی۔

عورت بھی تو ملکیت ہے، باپ، بھائی اور شوہر کی ملکیت جیسے میز کرسی، بھینس اور بکری! سو علاج بھی وہی مناسب جو دوسری ملکیتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

جب بھی آپ کی مرضی کے مطابق نہ چلے، اپنے دائرے سے نکلنے کی کوشش کرے، یا پیداوار آپ کی ضرورت کے مطابق نہ ہو۔ دیر کس لئے، ہتھوڑی اٹھائیے اور ٹھونک دیجیے پیشانی میں ایک سچ مچ کی فولادی کیل، دو انچ لمبی!

ویسے ضروری نہیں کہ فولاد کی بنی ہوئی کیل ہی استعمال کریں۔ کئی اقسام کی کیلیں پدرسری معاشرے میں پائی جاتی ہیں ہیں جنہیں آپ اپنی خواہش اور ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔

پہلی کیل وہ ضابطہ فوجداری ہے جو عورت کو بیوی بنانے کے فوراً بعد اس پہ لاگو کیا جاتا ہے۔ اس گھر میں بسنا ہے تو مرضی تو دور کی بات، چوں چرا کی بھی گنجائش نہیں۔ میرا گھر، میرے ماں باپ، میری مرضی، میری پسند ناپسند، کا خیال رکھو گی تو تمہیں رہنے کی جگہ دی جائے گی ورنہ لوٹ جانا واپس! واپس؟ واپس کہاں؟ وہ جنہوں نے رخصت کرتے وقت ہی کہہ دیا تھا، اپنا دل وہیں لگانا، پیچھے مڑ کر مت دیکھنا، ڈولی میں جا رہی ہو، ڈولے میں نکلنا۔ وہ دل ہی دل میں سوچتی ہے۔ اور چپ چاپ اپنی پیشانی پہ ٹھونکی ہوئی یہ کیل قبول کر لیتی ہے۔

دوسری کیل بھی نظر نہیں آتی مگر دماغ میں لگتی بہت زور کی ہے، وہ بھاری بھرکم الفاظ ہیں جو عورت کو اس کا مقام یاد دلانے کے لئے اکثر و بیشتر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ضرورت ہو یا نہ ہو، جب جی چاہے عورت کے جسم کے نازک اعضا کو اپنے الفاظ میں رگید ڈالیے، بلکہ ساتھ میں اس کے ماں باپ کو بھی شامل کر لیجیے۔ یقین جانیے فولادی کیل ٹھونکنے جیسا ہی اثر ہو گا اور عورت کو سیدھا کرنے میں آپ کافی حد تک کامیاب رہیں گے۔

اگر آپ کی بدقسمتی سے عورت کچھ اڑیل ہے اور زبانی کلامی ان کیلوں کا اثر زیادہ دیر تک نہیں رہتا تو پھر آپ کو اگلے درجے تک جانے کی ضرورت ہے۔

جب منہ کھولے، منہ توڑ دیجیے! تھپڑ، گھونسا، لات، کچھ بھی چلے گا، منہ بھی بند ہو جائے گا اور وہ عورت جس نے آپ کی زندگی کو جہنم بنانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، کامیاب نہیں ہو سکے گی۔

اگر تھپڑ گھونسے یا لات سے کام نہ چلے تو اگلے مرحلے پہ جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ توڑ دیجیے۔ بازو مروڑ دیں یا پسلیوں میں لات رسید کر دیجیے۔ اب دیکھیے نا بگڑی ہوئی عورت کو راہ راست پر لانا تو آپ کا فرض بھی ہے اور یہ ڈھول آپ کے گلے میں لٹک بھی چکا ہے کہ پیدا کرنے والے ہاتھ جھاڑ کر فراغت حاصل کرنے کے بعد نہ صرف آخرت کی تیاریوں میں مصروف ہیں بلکہ آپ کی زرخرید کو یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں۔ نہ نہ بیٹی واپس مت آنا، گھر عورت ہی بسایا کرتی ہے، ایک دن جیت تمہاری ہو گی، سب ٹھیک ہو جائے گا، برداشت کرو۔

جسم کے مختلف حصوں کا علاج کروانے کے بعد بھی اگر عورت سیدھے راستے پر نہ آئے تو یقیناً اس کا دماغ خراب ہے جو اپنے اڑیل پن سے باز ہی نہیں آتی۔

پہلا حل اس کا یہ ہے کہ نفسیاتی معالج سے ملیے لیکن اس میں بھی قباحتیں ہیں۔ خواہ مخواہ پیسے کا ضیاع اور ڈاکٹروں کے تاخیری حربے۔

آسان حل یہ ہے کہ وہ جگہ جہاں سے یہ خیال جنم لیتا ہے کہ کیوں؟ آخر کیوں؟ اسی کی مرمت کر ڈالیے۔ بس دو چیزوں کی تو ضرورت ہو گی ہتھوڑی اور کیل۔

اور ہاں کیل ٹھونکتے ہوئے عورت کے ہاتھ پاؤں پکڑنے کے لئے دو ساتھیوں کا بندوبست کر لیجیے گا۔ ہو سکتا ہے اس کی مزاحمت کی وجہ سے آپ کے لئے کچھ مشکل ہو۔

کیل ٹھونکے جانے کے بہت سے فوائد میں پہلا تو یہی ہے کہ محترمہ کا مزاج ٹھکانے لگ جائے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے ماہر روحانیات، جو خدا کی بارگاہ میں کیے گئے فیصلوں پر بھی دسترس رکھتے ہیں، کے مطابق پیداوار میں تبدیلی کی قوی امید ہے۔ اگر کیل حمل سے پہلے ٹھونکی جائے گی تو امکان غالب ہے کہ یہ کیل ان سپرمز کو رستہ دکھائے گی جو لڑکا بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ بیٹے کی خواہش رکھنے والے احباب متوجہ ہوں۔ کیل ٹھونکیے، مرد بنانے والے سپرمز کو رستہ دکھائیے۔

اگر عورت کی پیشانی میں کیل ٹھونکنے کا عمل اس وقت کیا جائے جب حمل ٹھہر چکا ہو اور اتفاق سے لڑکی ہی ہو تو امید ہے کہ کوکھ میں موجود زنانہ نطفہ کان پکڑتے ہوئے ویجائنا کو خصیوں میں تبدیل کر لے گا اور ایک اور کیل کانٹے سے لیس جری دنیا میں تشریف لے آئے گا۔ ہمیں یہ علم نہیں کہ کوکھ میں موجود لڑکا ماں کی پیشانی میں کیل ٹھونکنے کی صورت میں چلو بھر پانی میں ڈوبنا پسند کرے گا کہ نہیں؟

پشاور میں حاملہ عورت کی پیشانی میں کیل ٹھونکنے کا واقعہ معاشرے کے تعفن کی ایک مثال تو ہے ہی لیکن ایک زندہ جیتی جاگتی عورت کی پیشانی کو دیوار سمجھ کر ہتھوڑی اور کیل کا استعمال ہمارے دل کو لرزہ بر اندام کرتا ہے۔

ہم چیخ چیخ کر پوچھنا چاہتے ہیں کہ نفسیاتی مریض کون ہے؟ کیل ٹھونکنے والا یا وہ جس کی پیشانی پہ یہ کیل اندھا دھند ٹھونک دی جائے؟

Facebook Comments HS

One thought on “کیل ٹھونکنا سیکھیے!

  • 12/02/2022 at 6:44 شام
    Permalink

    بولڈ تحریر

Comments are closed.