وزیر اول اور غریدہ فاروقی

ہینڈسم عوام کو ایک ایسا تحفہ ملا ہے جس کی سوچ، منطق اور دلیل کسی کے پلے ہی نہیں پڑتی، ساڑھے تین برس میں ایسے ایسے فیصلے کیے کہ عقل دنگ رہ جاتی رہی، کہتے ہیں زیادہ ذہانت بھی عذاب ہی ہوتی ہے اور یہ ذہانت کا عذاب عوام 2018 ءسے لے کر آج تک بھگت رہے ہیں، آبیل مجھے مار والا محاورہ صادق آنے کی تازہ ترین مثال وفاقی وزراء کو کارکردگی سرٹیفکیٹس دینے کی ہے، ایک نجی ٹی وی نے کیا خوب سرخی جمائی کہ ”اکبر اعظم کے 9 رتن اور وزیراعظم کے 10 رتن“ ، ہر رتن ایک سے بڑھ کر ایک
اول پوزیشن حاصل کرنے والے ”مرد مجاہد“ کا ذکر ابھی نہیں، پہلے یہ دیکھیں کہ جب سے ٹاپ ٹین وزراء کا اعلان ہوا ہے اس وقت سے دوسرے وزراء جو حکومت میں خود کو پھنے خان سمجھتے تھے وہ چیخ اٹھتے ہیں کہ ان کا نام ٹاپ ٹین میں کیوں شامل نہیں ہے، سب سے پہلے جان اللہ کو دینی ہے والے وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ کارکردگی ناپنے کا پیمانہ کیا ہے، پھر وزیراطلاعات فواد چودھری، جو وزیر اطلاعات ہوتے ہوئے بھی اینکر کو تھپڑ جڑ دیتے ہیں، بھی بول اٹھے۔ وزیرخارجہ اور تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شاہ محمود قریشی نے تو حد ہی کر دی انہوں نے کارکردگی کی رپورٹ کرنے والے ارباب شہزاد کو خط ہی لکھ دیا جناب ہمیں بھی بتائیں فارمولہ کیا اپنایا؟
کسی بھی حکومت کے لئے افسوس کا مقام ہے کہ اس کا وزیرخارجہ ٹاپ ٹین میں شامل نہیں جبکہ وزارت خارجہ ملک کی سب سے اہم وزارت ہوتی ہے، اس کے بعد وزارت داخلہ کا نمبر آتا ہے، حکومت کی ناکامی کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ وزیرداخلہ نویں نمبر پر ہیں، نویں پوزیشن ملنے پر شرمندہ ہونے کے بجائے وزیرداخلہ بڑے فخر سے مسکراتے ہوئے وزیراعظم سے سرٹیفکیٹ وصول کرتے دکھائی دیے
ساڑھے تین سال میں ہینڈسم نے جو ملک کا حال کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، حیران ہوتا ہوں کہ ہینڈسم کے دماغ میں یہ آئیڈیا کیسے آیا یا کس دوست نما دشمن نے وزیراعظم کو ٹاپ ٹین وزراء کا اعلان کرنے پر مجبور کیا، فہرست دیکھ کر یہ گمان ہوا کہ شاید یہ مراد سعید کا ہی مطالبہ ہو اگر میری کارکردگی بہترین ہے اور میرے مقابلے کا کوئی نہیں تو اس کا کھلے عام اعلان کیا جائے تاکہ سند رہے
وزیراعظم کے مطابق حکومت میں سب سے اچھی کارکردگی وزیر مواصلات کی رہی، وزیر داخلہ نویں پر رہے، وزیرداخلہ کی پوزیشن سے اندازہ لگا لیں کہ ملک میں امن وامان کی صورتحال کیا ہے، وزیر داخلہ کی ٹی وی چینلز پر باتیں سن لیں، اپوزیشن کے خلاف بڑھکیں مارتے پھرتے ہیں، وہ شاید یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے فرائض میں امن وامان شامل نہیں صرف اپوزیشن کو ڈنڈے سے ہانکنا ہے، دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات ان کی کارکردگی کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہیں، ان کی پوزیشن کابینہ میں 74 ویں پوزیشن پر ہونی چاہیے تھی مگر وہ پھر بھی نویں پوزیشن لے اڑے۔
پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے وزیر مواصلات کو سیکڑوں کلومیٹر سڑکیں بنانے اور محکمہ پوسٹ کی کارکردگی بہتر بنانے پر پہلا نمبر دیا گیا، ان کی کارکردگی کا اندازہ لاہور، راولپنڈی جی ٹی روڈ کی حالت سے ہی لگایا جاسکتا ہے، ملک کی اہم ترین جی ٹی روڈ پر سفر کرنا موت کے منہ میں جانے کے مترادف ہے، پھر بھی وہ پہلے نمبر پر ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رکن عبدالقادر پٹیل نے اسی وزیر کے بارے میں اسمبلی کے فلور پر جو تقریر فرمائی اسے کارروائی سے حذف نہیں کیا گیا۔
اس وقت اینکر غریدہ فاروقی زیرعتاب ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ ان کے پروگرام میں تجزیہ کاروں نے وزیر اول کے بارے میں جو باتیں کیں وہ اخلاق سے گری ہوئی ہیں، اس دو منٹ کے کلپ کی وجہ سے غریدہ فاروقی کو انتہائی گھٹیا القابات سے پکارا گیا جس میں حکومتی نمائندے بھی شامل ہیں، میں نے وہ کلپ دیکھا اور افسوس ہوا کہ اس میں کوئی نازیبا بات نہیں کہی گئی، پھر بھی ساتھی اینکرز نے غریدہ فاروقی پر تنقید کے نشتر چلائے اور اس گفتگو کو قابل مذمت قرار دیا۔
مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ نے ایک روز قبل ہی میڈیا کے سامنے کہہ دیا تھا کہ پہلی پوزیشن مراد سعید کی ہوگی، پھر وہی ہوا، وزیراعظم کو نویں پوزیشن پر آنے پر وزیرداخلہ اور ٹاپ ٹین میں نہ آنے پر وزیر خارجہ کو فارغ کر دینا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر سوال تو اٹھنا ہی تھے، کامران خان نے اپنے پروگرام میں ارباب شہزاد سے وزیر اول کے اول آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگے مجھے بھی علم نہیں، شکوک و شبہات تو حکومت نے خود پیدا کیے پھر اب رونا کس بات کا ہے
جب عبدالقادر پٹیل کی تقریر کو اسمبلی کا ریکارڈ بنایا گیا تو پھر اوپن سیکرٹ پر بات کرنے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے، محسن بیگ، افتخار احمد، جنرل امجد شعیب اور طارق محمود نے غریدہ فاروقی کے پروگرام میں مہذب انداز میں ایک کتاب کا حوالہ دیا۔ کسی نے بھی وزیر اول کے بارے میں کوئی نازیبا بات نہیں کہی مگر تنقید غریدہ فاروقی پر ہو رہی ہے جب اس طرح کا ماحول پیدا ہو جائے تو اینکر کا سوال کرنا تو بنتا ہے اور وہ سوال غریدہ فاروقی نے کیا جس پر ان کے ٹی وی چینل کی نشریات ہی بند کردی گئیں
غریدہ فاروقی نے اپنے پروفیشنل فرائض احسن طریقے سے سرانجام دیے اور ہاٹ ایشو پر مہمانوں سے رائے مانگی جس کو وزیر اول کی توہین سمجھا گیا، افسوس غریدہ فاروقی کے ہم عصر اینکرز پر ہے جو کہ اس کو بیہودہ سمجھ رہے ہیں، شاید ان کو اب بھی یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی اس لئے کچھ ہمدردیاں حکومت کی ابھی سے حاصل کرلی جائیں۔

