عمران خان کی ”گھبراہٹ“ اور چوہدری شجاعت حسین کا پیغام


بالآخر 14 سال بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی چوہدری برادران (چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی ) سے ملاقات ہو ہی گئی۔ یہ ملاقات کس سہولت کار نے کرائی ہے۔ اس ملاقات کے نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے البتہ پیغام رسانی اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے۔ دونوں اطراف نے طویل ناراضی کے بعد ملاقات کی ضرورت محسوس کی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا اور نہ ہی پریس کانفرنس کی عیاشی کی گئی ہے۔ میاں شہباز شریف خاموشی سے ملاقات کے لئے آئے اور خاموشی سے ملاقات کر کے واپس چلے گئے۔ ملاقات کا اہم پہلو یہ بتایا جاتا ہے کہ دونوں جماعتوں کے قائدین ماضی کے اچھے دنوں کو یاد کرتے رہے۔ استاد دامن کا یہ اشعار اس ملاقات کی عمدہ عکاسی کرتے ہیں۔

؂جاگن والیاں رج کے لٹیا اے۔
سوئے تسی وی او، سوائے اسی وی آں۔
لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے۔
روئے تسی وی او، روئے اسی وی آں۔

مجھے یاد ہے جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمہ کے بعد چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان فاصلے ختم کرنے کے لئے جاتی امرا میں ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا لیکن چوہدری نثار علی خان نے چوہدری برادران اور اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثر کے درمیان ملاقاتوں کے بعد ظہرانہ ہی منسوخ کروا دیا تھا جس کے بعد چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان ایسی خلیج حائل ہوئی جسے 14 سال بعد میاں شہباز شریف نے جرات مندانہ اقدام کر کے عبور کر لیا۔ دونوں اطراف برف پگھلی اے دوسرے کو گلے لگایا

اس ملاقات میں کیا طے پایا ہے وہ تو کسی کو معلوم نہیں البتہ وفاقی وزیر آبی وسائل چوہدری مونس الہی نے وزیر اعظم عمران خان کو حوصلہ دیا ہے کہ گھر آنے والوں کو ملنا اور ویلکم کرنا ہمارا کام ہے۔ وزیراعظم اپنے ساتھیوں سے بھی کہہ دیں گھبرانا نہیں۔ سیاسی لوگ تعلقات بناتے اور نبھاتے ہیں۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ لوگوں سے ملنا ہمارا کام ہے۔ گویا چوہدری مونس الہی نے اپوزیشن رہنماؤں کی چوہدری برادران سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اپنے آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں شکوک و شبہات دور کر نے کے لئے پالیسی بیان دیا ہے۔

یہ بیان چوہدری شجاعت حسین کا ہی منظور کردہ ہے جس میں چوہدری برادران نے اپنی پوزیشن کی وضاحت کی ہے۔ وزیر اعظم نے بھی چوہدری مونس الہی کی تقریر کے جواب میں کہا ہے کہ گھبرائی ہوئی اپوزیشن کو ایک دم چوہدری شجاعت کی صحت کا خیال آ گیا چوہدری شجاعت حسین بہترین انسان ہیں۔ چوہدری شجاعت کا سیاست کا بہترین تجربہ ہے۔ ہمیں مسلم لیگ (ق) اور چوہدری برادران پر پورا اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے تحریک انصاف کی ٹریننگ کرائی ہوئی ہے۔ مونس الہی کام کو جہاد سمجھ کر کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم کی طرف سے اپوزیشن رہنماؤں کے میل ملاقات کا نوٹس لینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انہیں تحریک عدم اعتماد کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ اس لئے انہوں نے اس بات کا کھل کر ذکر کیا اور ان کی یقین دہانی پر اظہار تشکر کیا ہے۔

پی ڈی ایم بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر متفق ہو گئی ہے۔ کم و بیش ایک سال قبل لانگ مارچ سے قبل اسمبلیوں سے استعفے دینے کے ایشو پر پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر مصر تھی۔ پی ڈی ایم سے روٹھ کر چلی گئی مولانا فضل الرحمنٰ نے آصف علی زرداری کو منایا اور نہ ہی اس کے بعد میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری کو کوئی فون ایٹنڈ کیا دونوں اطراف سے رابطے منقطع ہو گئے سیاسی اختلاف کے باعث سماجی تعلقات بھی متاثر ہوئے پی ڈی ایم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پیپلز پارٹی تعلقات کار میں کشیدگی پیدا ہو گئی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ایک دوسرے پر طنز کے تیر برسائے جاتے رہے لیکن اچانک کیا ہوا آصف علی زرداری بلاول بھٹو زرداری کو لے کر میاں شہباز شریف کے آستانہ پر حاضری کے لئے پہنچ گئے وہ جو کل تک آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر حرام کی ساری دولت نکالنے کا دعویٰ کرتے تھکتے نہیں تھے۔

ان کا نہ صرف اپنے گھر پہنچنے پر پر تپاک استقبال کیا بلکہ ان کی شکم پروری کا اہتمام بھی کیا یہ الگ بات ہے۔ آصف علی زرداری نے میاں شہباز شریف کے گھر کا نمک کھانے کی بجائے اپنے ساتھ پرہیزی کھانا لے کر آئے۔ اس ملاقات میں مریم نواز، حمزہ شہباز اور خواجہ سعد رفیق کو بھی مدعو کیا گیا بند کمرے میں شہباز شریف، آصف علی زرداری، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور حمزہ شہباز کے درمیان کیا طے پایا اس کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئیں صرف ایک سیاسی بیان جاری کیا گیا عمران خان کی حکومت ختم کرنے کے لئے تمام آئینی و قانونی آپشن استعمال کرنے پر اتفاق رائے ہوا ہے۔

اگلے روز آصف علی زرداری چوہدری برادران کے پاس پہنچ گئے اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی منظوری دے دی یہ سب کچھ جس تیز رفتاری سے ہو رہا ہے۔ اس سے تحریک عدم اعتماد بارے اپوزیشن کی سنجیدگی نظر آتی ہے۔ مولانا فضل الرحمنٰ جن کا میاں نواز شریف سے مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ لانگ مارچ، اسمبلیوں سے استعفوں سے کم بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اچانک وہ بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم لانے پر تیار ہو گئے انہوں نے بھی پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلا کر تمام جماعتوں سے تحریک عدم اعتماد کی توثیق کرا دی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی کے اجلاسوں میں میاں نواز شریف کو آن بورڈ رکھا گیا معلوم نہیں کہاں سے اشارہ ملنے پر اپوزیشن کی جماعتوں نے اپنے اصولی موقف میں 180 ڈگری کی تبدیلی کر لی۔

دلچسپ امر یہ ہے ایم کیو ایم جو ہے تو حکومت کی اتحادی جماعت لیکن اکھڑی اکھڑی نظر آتی ہے۔ جمعیت علما اسلام، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کی اعلی قیادت سے ملاقاتوں کے لئے اسلام آباد اور لاہور پہنچ گئی مولانا فضل الرحمٰن نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد کہا کہ وفاق سے لے کر صوبوں تک جہاں ممکن ہوا تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔ اس کے لئے حکومتی اتحادی جماعتوں سے وفد رابطہ کریں گے۔ پہلے گراؤنڈ بنایا جائے گا پھر تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی

پی ڈی ایم نے انفرادی سطح پر پی ٹی آئی سمیت کسی رکن اسمبلی سے رابطہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئی خود سے رابطہ کرے گا تو اس کو ویلکم کہا جائے گا۔ عام تاثر یہ تھا۔ شاید پی ڈی ایم 23 مارچ 2022 ء کو ہونے والے لانگ مارچ کو موخر کر دے گی لیکن پی ڈی ایم نے سٹنگ پرائم منسٹر کے خلاف عدم اعتماد کا ایڈونچر کرنے کے ساتھ لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے دلچسپ پیرائے میں گفتگو کی ہے کہ حکومت کب جائے گی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کو علم ہے لیکن کروڑوں عوام آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کون آگے بڑھے گا اور ظالم حکومت سے جان چھڑائے گا مولانا فضل الرحمنٰ تاحال پیپلز پارٹی بارے حسن ظن رکھتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ سیاست میں جب بڑے اقدامات او ر فیصلے کرتے ہیں تو پھر بڑا دل بھی کرنا پڑتا ہے۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہم اتفاق رائے اور سوچ سمجھ کر اقدام کریں گے۔ میاں شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمٰن اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے پیپلز پارٹی سے تعلقات تو میرے سے بھی پرانے ہیں۔

پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس وڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا اجلاس کے آغاز سے قبل میاں شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں میاں شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمن کو پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور ایم کیو ایم کے وفد سے ہونے والی ملاقاتوں سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت کے درمیان ملاقات کے دو سیشن پر مشتمل تھی۔ دوسرے سیشن میں مولانا فضل الرحمن، چوہدری شجاعت، پرویز الٰہی اور اکرم درانی شامل تھے۔ مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد پر مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے حمایت مانگی ہے۔ سب اہم سوال یہ ہے کہ چوہدری برادران نے سوالی کے دامن میں کچھ ڈالا بھی ہے کہ نہیں اس بارے میں چوہدری برادران کچھ بتانے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی ملاقاتیوں کے پاس کچھ بتانے کے لئے ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے پاس وفاق میں 5 بیساکھیاں ہیں جن کے سہارے پر عمران خان کی سلطنت کھڑی ہے۔ یہی صورت حال ایم کیو ایم پاکستان کی ہے۔ وہ بھی عمران خان کا اقتدار قائم رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ شنید ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے ملاقاتیوں سے کہا ہے وہ ان کی مانگیں پارٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں رکھیں گے پھر کوئی جواب دیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) سے بڑا فیصلہ کرنے کی توقع رکھنے والوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ جن قوتوں نے پی ٹی آئی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے درمیان 2018 ء کے متنازعہ انتخابات میں سیاسی نکاح کرایا تھا۔ ان کی منظوری کے بغیر وہ علیحدٰگی اختیار نہیں کرے گی۔ وہ سیاسی منظر پر ہونے والی تبدیلیوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی چوہدری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی سے ایک گھنٹہ 20 منٹ طویل ملاقات میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا تاہم دونوں جانب سے سیاسی روابط قائم رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں خاندانوں کی ملاقات کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری کے علاوہ تبلیغی مرکز رائے ونڈ سے منسلک بعض شخصیات نے بھی کردار ادا کیا میاں شہباز شریف نے چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کی اور ان کو نواز شریف کی طرف سے گلدستہ پیش کیا 14 سال بعد چوہدری پرویز الٰہی اور شہباز شریف نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔

مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی چوہدری برادران سے ملاقات کی غیر مصدقہ اندرونی کہانی سامنے آئی ہے۔ شہباز شریف نے چوہدری برادران کو اپوزیشن کے فیصلوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا، شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن بھی آپ سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اپوزیشن یکسو ہے کہ حکومت کو گھر جانا چاہیے۔ چوہدری برادران سے مسلم لیگ (ن) کے وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی کا دوسرا رخ یہ بتایا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے ان سے کوئی بات ہی نہیں کی شہباز شریف اور چوہدری برادران پرانی باتیں یاد کرتے رہے یہ ملاقات تجدید تعلقات تک محدود رہی۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی قیادت تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

Facebook Comments HS