مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا سے کچھ باتیں


ہر سال کی طرح امسال بھی مدارس میں ختم بخاری/ کانوکیشن کے پروگرامات و تقربیات جاری ہیں اور طلبہ و فضلاء کی ایک بڑی تعداد اسناد و ڈگریاں وصول کر کے باقاعدہ علماء کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں جو کہ خوش آئند اور قابل تحسین ہے۔
ان عزیزان کی خدمت میں چند معروضات پیش خدمت ہیں۔
جو مقام ملا اس پہ اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرنے کا مطلب علم کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ خودی اور خود داری تو اہم ترین اوصاف ہیں ہی مگر علم، تقوی اور پارسائی کے زعم اور تکبر سے بچنا فرض ہے۔ عاجزی و انکساری، حلم و بردباری، صبر و برداشت اور تہذیب و شائستگی کے اوصاف اپنا کر علمی غرور وتکبر سے بچ کے رہنا ہے کہ یہ معاشرے سے کاٹتا ہے اور انسانوں سے دوری کا بڑا سبب ہے۔ یاد رکھئے عزت و تقدس کی بارش اہل علم پہ ہوتی ہے متکبرین پہ ہرگز بھی نہیں۔ تقوی و پارسائی کا زعم اور علمی غرور و تکبر شخصیت کو غیر متوازن بنا لیتی ہے جس کے سبب وعظ و نصحیت کی تاثیر ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔
قناعت، عجز و انکساری، خوش مزاجی اور خوش اخلاقی انسان کو محبوب بنا لیتی ہے۔ دلوں میں جگہ پانے کے لیے محبت، ہمدردی، خیر خواہی اور نرمی کے اوصاف سے مزین ہونا پڑے گا۔
 ابھی تک جو سب آپ نے پڑھا ہے وہ صرف فنون، اصول اور بنیادوں سے آگاہی ملی ہے بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ علم کے دروازے تک رسائی ملی ہے، اب علم کے شہر میں داخل ہونے کے لئے گہری، تحقیقی، دقیق، وسیع اور بلا امتیاز و بغیر تعصب کے کھلے ذہن کے ساتھ ہمہ جہت مطالعہ کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ  آپ کی پرورش ایک خاص مسلک، فکر اور فرقے کے زیر اثر ہوئی ہے۔ یہ بہت محدود دنیا ہے اس سے آگے بہت وسیع جہاں موجود ہے۔ اگر آپ ایک جید، معتدل، مصلح، مبلغ، حق پرست، عادل اور خدا ترس عالم دین بننا چاہتے ہو تو کھلے ذہن کے ساتھ بہت کچھ پڑھنا، اسے پرکھنا، سمجھنا اور ہضم کرنے کی ہمت پیدا کرنا ہو گی۔ تنقیدی نقطہ نظر کی بجائے، تحقیقی اور مثبت نقطہ نظر اور طرز عمل کے ذریعے ہی ایک معتدل، متوازن اور متاثر کن شخصیت وجود میں آتی ہے جو ایک داعی دین اور عالم دین کے لیے اہم ترین وصف ہے۔ معاشرے کی تعلیم و تربیت اور اشاعت دین کے لئے واجب ہے کہ مسلکی، فرقی، فکری اور سیاسی تعصب کی حصار سے باہر نکلا جائے اور وسیع النظری، وسیع القلبی اور وسیع الظرفی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے دین کی حکمت اور موعظہ حسنہ کے اصولوں کے مطابق اصل دین کو پیش کیا جائے۔ تدریج، ترتیب اور ترجیح کا خیال رکھنا بہرحال انتہائی لازمی ہوگا۔
علم کو اتحاد، اتفاق، رواداری اور یکجہتی کا ذریعہ بنانا ہے نہ کہ انتشار، افتراق اور جنگ و جدل کا وسیلہ مناظرہ بازی اور فتوی بازی کی روش ہرگز بھی کوئی معقول اور سنجیدہ عمل نہیں ہے ایسا غیر پسندیدہ عمل اہل علم کو بے وقعت کرتی ہے۔ دوسرے مسلک، نظریے اور فکر کو  ہرصورت کمزور اور کم تر ثابت کرنا اور اپنے اکابر اور اساتذہ کے علاوہ دیگر اہل علم کی تحقیر کرنا اور اسے گمراہ تک ثابت کرانے کے لئے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنا یعنی کانٹ چھانٹ کر اور سیاق وسباق سے کاٹ کر عبارات پیش کرنا، اپنی معنی و مطالب پہنا کر دیگر کو گمراہ کرانے کی جسارت کرنا اور جھوٹ، بہتان اور الزامات تک کا سہارا لینا بہت بڑی حماقت ہے۔ یاد رکھئے اب زمانہ بدل گیا ہے اور بہت کچھ ہی کیا سب کچھ عیاں ہو چکا ہے اور عام لوگوں تک کی دسترس میں آ چکا ہے۔ اصل منہج تک پہنچنا، حقائق کو جاننا اور موازنہ کرنا بہت ہی آسان ہو چکا ہے۔ کمزور اور سطحی باتوں کے ذریعے بندہ بے وقعت اور بے توقیر ہوجاتا ہے۔ اس لئے حق کو پانے اور اسے تسلیم کرنا ہی دانش مندی ہے۔ کنویں کا مینڈنگ بننے کی بجائے وسیع سمندر کا شناور بننا ہی عقل مندی ہے۔
دین کا درست اور حقیقی تصور پیش کرنا آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دین کے بہت ہی محدود اور سطحی تصور پہ قناعت کرکے غالب رہنے والا دین مغلوب، مقہور اور مفلس ہو کر رہ گیا ہے۔ اسلام ایک روایتی مذہب سے بہت ہی آگے ایک مکمل نظام حیات ہے۔
توحید کا درست اور مکمل مفہوم یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالٰی خالق، مالک اور رازق ہے ہی  لیکن وہ حاکم بھی ہے۔ یہی وہ اصل مفہوم ہے جو ناپید ہے اور جس پہ گرد پڑی ہوئی ہے۔ اللہ تعالی کی حاکمیت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے بندوں پر ان ہی کا قانون نافذ ہو۔ بلاشبہ دین کی تبلیغ اور اشاعت اپنی جگہ لازمی ہے لیکن دین کی اقامت تو فرض ہے۔ فریضہ اقامت دین کی ادائیگی اہل علم کی بنیادی اور اہم ترین زمہ داری ہے۔ اقامت دین کے لیے اجتماعی جدوجہد کا حصہ بننا ناگزیر ہے۔
آخری بات،
علم کے بغیر زندگی جہالت اور عمل کے بغیر علم زحمت ہے” اسی نقطے کو سمجھ کر آگے کا سفر آسان بھی ہوگا اور ثمرآور بھی۔ حکمت، محبت، خیر خواہی، نرمی، ہمدردی اور موعظہ حسنہ کے بغیر انسانوں کی اصلاح اور معاشرے کی تطہر اور تعمیر خام خیالی ہے۔
پڑھنے، سمجھنے اور پرکھنے کےلئے بہت کچھ مواد اور موضوعات موجود ہیں مگر ابتدائی اور اہمیت کے حامل  چند اہم ترین یہ ہیں۔
تقابل ادیان، دین میں ترجیحات، دین میں اعتدال، جدید مسائل اور ان کا حل، تجدید واحیائے دین، جدید نظریات، اسلامی تحریکات کا موازنہ اور سماجیات ونفسیات کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے۔
یاد رکھئے،
مساجد، اداروں اور محلوں کو فتح و قبضہ کرنا اور لوگوں کی اصلاح و تربیت کرنا اور قرآن کی روشنی کو بکھیرنا الگ الگ چیزیں ہیں اور اس کے الگ الگ تقاضے ہیں۔ عمارات کی بجائے دلوں کو فتح کرنا اہل علم اور مبلغین کا شان امتیاز اور خوبصورت وصف ہے اور ہونا چاہیے۔
Facebook Comments HS