آئینہ بس عکس دکھاتا ہے


لڑکپن کے دور میں اک کہانی سنی تھی ’جانے اس سادہ سی کہانی میں ایسی کیا بات تھی کہ وہ نا صرف یاد رہ گئی بلکہ گاہے بگاہے‘ کسی نہ کسی موقعے پہ یاد بھی آ جاتی ہے۔ کہانی سنانے سے پہلے اک گزارش کر لیتے ہیں کہ ممکن ہے یہ کہانی سینہ بہ سینہ سفر کے دوران اپنی اصلی حالت میں نہ رہی ہو اور اس میں ناموں اور شہ پاروں کی تفصیل میں تبدیلی ہو چکی ہو تو اس تبدیلی کو اپنی اپنی کہانی کے مطابق پڑھ لیا جائے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ جاپان اور چین دونوں ہی قدیم تاریخ اور جداگانہ ثقافت کے حامل ممالک ہیں۔ ان کے مابین اپنا اپنا شاہکار تخلیق کرنے کا مقابلہ ہونا طے پایا کہ دیکھیں کون زیادہ شاندار اور بہترین شاہکار تخلیق دیتا ہے۔ دونوں ممالک کی ٹیموں کو اپنا شاہکار بنانے کے لئے ایک کمرے کی دو الگ الگ دیواریں دے دی گئیں اور درمیان میں پردہ کھینچ دیا گیا۔ شاہکار کو مکمل کرنے کا وقت متعین کر کے مقابلہ شروع ہوا۔

دیوار کی جھاڑ پونچھ ’چھان پھٹک‘ صاف ستھرائی سے دونوں ٹیمیں اپنے کام کا آغاز کرتی ہیں۔ ایک طرف کی ٹیم رنگ و روغن اور مطلوبہ سامان کی بروقت دستیابی اور انتظام و انصرام میں جت جاتی ہے کہ مقررہ وقت میں بہترین شاہکار بنا سکے کہ کہیں پہ بھی کوئی کمی کوتاہی یا لغزش اسے مقابلے میں شکست سے دوچار نہ کر دے۔ آس پاس گزرنے والے لوگ بھی تجسس اور دلچسپی سے پردے کے پیچھے رواں ہاتھوں اور حرکت کرتے پاؤں کو دیکھتے کہ جانے کیسا شاہکار دیکھنے کو ملے۔

دوسری طرف کی ٹیم بھی پوری شد و مد سے اپنے کام میں مصروف دکھائی دیتی ہے ’بلکہ ان کے ہاں آمدورفت دوسری کی ٹیم کی نسبت زیادہ ہے اور اسی آنے جانے کے باعث پردہ بار بار سرکتا ہے تو باہر سے اندر کی کارروائی نظر آتی رہتی ہے۔ شاید ان کے حصے میں جو دیوار آئی ہے وہ زیادہ شکست و ریخت کا شکار تھی یا ممکن ہے ان کو اپنے شاہکار کے لئے مخصوص قسم کی باہری پرت درکار تھی۔ مختصراً یہ کہ ایک طرف کام شروع ہو چکا تھا تو دوسری طرف ابھی کام شروع کرنے کے لئے بنیاد ہی بنائی جا رہی تھی۔

پردے کے پیچھے ہونے والی حرکات اور ہلچل اندر کی داستاں بیان کرتی تھیں لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ ایک طرف والی ٹیم ہنوز صفائی پہ ہی لگی ہوئی تھی اور وقت تھا کہ اپنی رفتار سے گزر رہا تھا۔ وقت کا بھی کیا ہے اچھا ہو تو گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا ’برا ہو تو گزرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ایسے میں باہر موجود لوگوں کو بھی تشویش ہونے لگی کہ یونہی صفائی میں ہی سارا وقت گزر گیا تو شاہکار کس وقت مرتب کیا جائے گا‘ اور اگر اسی رفتار سے صرف صفائی ہی ہوتی رہی تو مقابلہ یک طرفہ ہو جائے گا اور ہار تو جو ہونی ہے سو ہونی ہے لیکن ایک شاہکار بھی تخلیق ہونے سے محروم رہ جائے گا۔

وقت مقررہ پہ اعلان ہوا کہ کام روک دیا جائے اور اپنا اپنا شاہکار پیش کیا جائے تا کہ فیصلہ ہو سکے کہ کس نے میدان مارا ’کون آج کا فاتح ہو گا۔ مقابلے کا اعلان کرنے اور فیصلہ سنانے پنچایتی پہنچ گے۔

پہلا پردہ اٹھا تو سامنے دیوار پہ پینٹنگ کا شاہکار کھڑا تھا۔ کناریوں پہ دیدہ زیب پچی کاری ’دلفریب رنگوں کا امتزاج‘ پانی کی سی روانی ’بادلوں کی سی ملائمت اور پرندوں کی سی اڑان والے شاہکار کو دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیا۔ کوئی بھی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ پیش کیا گیا منظر اس خوبصورتی سے بنایا گیا تھا کہ آنکھیں اس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں اور بلاشبہ سب لوگ اسے ہی جیت کا حقدار سمجھ رہے تھے۔ اپنے شاہکار کے لئے ایسی تعریف اور ستائش دیکھ کے جاپانیوں کے دل کھل اٹھے اور اس شاہکار کے بنانے والے سبھی جھک جھک کے داد سمیٹنے لگے۔

دوسری طرف والوں کے لئے لوگوں کے دل میں کئی وسوسے تھے کہ سارا سمے تو صفائی میں ہی گزر گیا ’تھوڑے سے وقت میں بھلا کیا شاہکار تخلیق کیا ہو گا اور چونکہ پہلا شاہکار دیکھ چکے تھے تو اس کی خوبصورتی کے آگے باقی سب ہیچ ہی محسوس ہو رہا تھا۔

پردہ اٹھا تو وہاں سوائے خالی سپاٹ دیوار کے اور کچھ نہیں تھا۔ کسی کو بھی ایسے شاہکار کی توقع نہیں تھی یعنی تمام وسوسے سچ ثابت ہو گئے کہ صرف صفائی ہی کی ہے اور بنایا کچھ نہیں۔ دل کا غبار نکالنے کو ایک پینچی بولا: یہ کیا کیا ہے ’کچھ بنایا ہی نہیں۔ ٹیم میں سے ایک نے عرض کی کہ حضور غور سے دیکھیں اس دیوار کو اس قدر صاف کیا گیا ہے کہ آئینہ بنا دیا ہے اور سامنے والی دیوار پہ بنے شاہکار کا عکس اس دیوار پہ نظر آ رہا ہے۔

رنگین و شاندار شاہکار کا عکس جب سامنے دیوار پہ نظر آیا تو سب ششدر رہ گے کہ آنکھیں جھپکنا بھی یاد نہ رہیں۔ بلاشبہ چینیوں کا یہ شاہکار پہلے والے کی نسبت زیادہ دلدادہ ’دلفریب اور دیدہ زیب تھا۔

اپنے اندر کی صاف صفائی ’جھاڑ پونچھ‘ چھان پھٹک بھی ایسے ہی ضروری ہے کہ آئینہ بنا جائے ’کوئی دیکھے تو اسے اپنا ہی عکس دکھے۔ آئینہ بولتا نہیں‘ خود سے کچھ نہیں کہتا ’جھوٹ نہیں بولتا‘ جو سامنے آئے گا ہوبہو ویسا اس کو دکھا دے گا ’وہ تو بس عکس ہی دکھاتا ہے۔ آئینہ سبھی کو اچھا بھی نہیں لگتا لیکن آئینہ ساز کے ہاں اس کی قدر بہت زیادہ ہے۔

Latest posts by توصیف رحمت (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments