پپراسر: ایک خوبصورت آبشار

سندھ پاکستان کے کیرتھر پہاڑی سلسلے میں بہت سے خوبصورت پانی کے چشمے اور آبشار ہیں۔ پپراسر ان میں سے ایک چشمہ اور دلفریب آبشار ہے۔ پپراسر کا آبشار سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے تاریخی شہر واہی پاندھی کے مغرب میں کیر تھر پہاڑی سلسلے میں قدیم قلعوں، میاں جو کوٹ اور کارو کوٹ قلعہ کے درمیاں برساتی ندی نلی یا نری کے بہاؤ کے قریب تر ہے۔
نلی ندی میں بارش کے پانی کے علاوہ پہاڑوں سے بہنے والے قدرتی چشموں کا پانی ہمیشہ بہتا رہتا ہے۔ پپراسر آبشار نلی ندی کے بہاؤ میں ہے اور پانی اونچی پہاڑی سے پپراسر چشمے میں گرتا ہے۔ یہ آبشار ایک حسین ترین تفریحی اور تاریخی جگہ ہے۔
پپرا سر سندھی زبان کا مرکب لفظ یا نام ہے۔ پپرا کا مطلب پیپل کا درخت ہے اور سر کا مطلب ہے جھیل یا چشمہ۔ جس کا مکمل مطلب ہوا پیپل کے درخت والی جھیل یا چشنہ۔ یہاں نلی ندی کے بہاؤ میں قدرتی چشموں کا پانی کافی اونچائی سے آبشار کی صورت اختیار کرتا ہے اور وہ پانی چھوٹی سی جھیل یا چشمہ بناتا ہے۔ اس آبشار والے کنب یا چشمے کے کناروں پر پیپل کے چھوٹے درخت ہیں۔ اس لیے اس چشمے اور آبشار پر نام پپراسر پڑا۔
مقامی روایات پپراسر کو غیر مسلم مذہب سے منسوب کرتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے قریب غیر مسلم لوگوں کی عبادت گاہ بھی تھی جو مسمار ہو گئی ہے۔ جب ہم پیپل کے درخت پر غور کرتے ہیں تو تاریخی طور پر پیپل کے درخت اور پتے کو بدھ مت میں بڑی مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس روایت کو تقویت ملتی ہے۔
پیپل کا درخت بدھ مت میں مقدس ہے۔ کچھ تاریخی بیانات کے مطابق مہا آتما بدھ نے اپنے پنتھ یا مت یا پیغام کا آغاز پیپل کے درخت کے نیچے بیٹھ کر کیا تھا۔ بدھ مت میں پیپل کے درخت کے پتے کو بھی تقدس حاصل ہے اور اسے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ سندھ میں قدیم آثاروں میں جہاں بدھ مت کے اور آثار ملے ہیں وہاں مٹی کے برتنوں پر پیپل کے پتے کے نقوش بھی ملے ہیں۔
تاریخی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں موریا گھرانے یا خاندان کے اشوک اعظم کے دور سے بدھ مت مذہب پھیلا تھا۔ سندھ کی تاریخ پر پہلی دستاویزی یا تحریر کردہ کتاب چچ نامہ میں بدھیہ علاقے کا ذکر ملتا ہے جو بدھ مت سے وابستہ لوگوں کا گڑھ تھا۔ بدھیہ کے اس علاقے سے پپراسر کا سحر انگیز آبشار کوئی بیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ کیرتھر پہاڑی سلسلے میں یا اس کے قریب صحرائے کاچھو میں طبعی طور تعمیر کردہ کئی اسٹوپا موجود ہیں جو بدھ مت کی مذہبی یادگار تعمیرات ہیں۔
سندھ میں بدھ مت سندھ میں رائے خاندان سے لے کر برہمن خاندان کی حکمرانی تک عروج پر تھا۔ سندھ کے معروف محقق ایم ایچھ پنہور کے مطابق بدھ مت مذہب یہاں اسلام آنے کے بعد 13 صدی عیسوی تک بھی رہا۔ تازہ تحقیق کے مطابق اب بھی بدھ مت سے منسلک لوگ سندھ میں رہتے ہیں۔ سندھ میں اسلام کے بعد بدھ مت کے لوگ مسلمان ہوئے اور اپنی ذات یا قبیلہ بدھ کہلایا۔ سندھ کے بہت اضلاع میں بدھ قبیلے کے لوگ رہتے ہیں۔
مجھے کیرتھر کے اس علاقے کی آس پاس اور قریب تر پہاڑوں پر قدیم نقش نگاری میں بدھ مت کے اسٹوپا، مقبرے (Buddhist Shrines) اور بدھ مت سے منسلک دوسری مذہبی علامات بھی کثیر تعداد میں ملی ہیں۔ اس تاریخی پس منظر میں گمان غالب ہے کہ پپراسر کا مقام اور آبشار قدیم زمانے میں بدھ مت کی اہم جگہ رہی ہوگی اور ہو سکتا ہے کہ اس زمانے سے پپرا سر نام رائج ہوا ہو۔
بہر حال پپرا سر سندھ، پاکستان کے کیر تھر پہاڑوں میں خوبصورت ترین اور سحر انگیز آبشار ہے۔ یہ آبشار سیاحتی اور ثقافتی مقام ہے جو ضلع دادو کے شہر واہی پاندھی کے نزدیک گورکھ ہل اسٹیشن کے راستے کے مغرب میں پہاڑوں میں قریب تر پڑتا ہے جسے حکومت سندھ کی طرف سے گورکھ ہلز کی طرح سیاحتی مرکز بنایا جا سکتا ہے۔



