لوگوں کی نفرتیں بھی نامعقول اور محبتیں بھی نامعقول

جب میں محبت اور نفرت کے بارے میں سوچتا ہوں تو دونوں ایک ہی ڈور میں پروئے ہوئے بے رنگی، یک رنگی، طولانی محسوسات لگتی ہیں جو اپنے انتہائی مخالف سمتوں میں ہمارے وجود پر اثرانداز ہوتی رہتی ہیں۔ یہ دونوں احساسات بعض اوقات انتہائی شدت اختیار کر جاتی ہیں اور انسان کی عقلی صلاحیتوں اور منطقی فیصلہ سازی کو اجاڑ دیتی ہیں۔
نفرت بہت وجوہات کے بنا پے ہو سکتی ہے۔ نفرت کے جذبات سے مغلوب انسان ردعمل کی کیفیات میں جیتا ہے اور یہ ردعمل کسی ملک، نظریے، مذہب، عقیدے اور کسی سوچ کے خلاف ہو سکتا ہے۔ یہ نفرت باغیانہ روش کا روپ دھار لیتی ہے۔ نفرت زدہ شخص اپنے مخالف تصورات کے بارے میں سطحی انداز سے سوچتا ہے۔ وہ حالات واقعات کو ان کے اصل شکل میں دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ نفرت اس کو اندھے پن، ضد اور جہالت کی طرف دھکیلتی ہے اور اس کی عقلی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتی ہیں۔
یہی نفرت انسانوں میں بعض اوقات تاریخی جدوجہد کا روپ دھار لیتی ہے۔ کچھ لوگ اس جدوجہد میں کامیاب رہتے ہیں لیکن اس تبدیلی کا نفسیاتی کلائمکس اپنے سابقہ طبقے سے زیادہ نفرت کی صورت میں نکلتا ہے جس سے مزید طبقاتی تقسیم جنم لیتی ہے۔ انسانی نفرتیں کسی بھی چیز کے خلاف غلط فہمی کا رجحان پیدا کر دیتی ہیں۔ نفرت جسم کے ہر حصے کو متاثر کرتی ہے۔ انسان جب نفرت کرتا ہے تو اپنے جسم کے ہر حصے کو منفی سرگرمیوں پر مجبور کرتا ہے اور اس کے برے اثرات بیماریوں کی شکل میں نمودار ہو جاتی ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق نفرت سے تعصب جنم لیتا ہے اور یہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
اس کے بر عکس محبت کسی بھی شخص، ملک، مذہب، عقیدے، نظریے سے ہو سکتی ہے اور شدید محبت عقلی طور پر سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہے۔ ایسا شخص جذبات کی رو میں اس قدر بہہ جاتا ہے کہ دوسرے نقطہ نظر کو سمجھنے، پرکھنے اور کسی چیز کے بارے میں معروضی طور پر سوچنے کی استعداد کھو بیٹھتا ہے۔ وہ لفظی طور پر معذور ہو جاتا ہے۔
لوگ محبت کے کچھ رومانوی پہلوؤں پر عموماً تبصرے کرتے ہوئے اس کو ایک مثبت رویے کے طور پر اجاگر کرتے ہیں لیکن بعض اوقات یہی محبت بہت قریبی لوگوں کو نظر انداز ہونے کا باعث بنتی ہے اور کسی احمقانہ مہم جوئی میں اپنی زندگی داؤ پر لگا دیتی ہے۔ حد سے زیادہ محبت ایسا جذبہ ہے جسے عقلی سوچ مسترد کرتی ہے۔ محبت بھی نفرت کی طرح ایک موروثی خطرہ ہے اور یہ بھی نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔
جیسا مضمون کی شروعات سے میرا رجحان یہی ہے کہ لوگوں کی نفرتیں بھی نامعقول ہیں اور محبتیں بھی نامعقول ہیں۔ لوگ شدید نفرت اور شدید محبت کے احساسات میں جی رہے ہوتے ہیں۔ نفرت اور محبت دونوں ایک ہی تسلسل کی دو مختلف قسمیں ہیں۔ دونوں کے بیچ ایک ان دیکھی سرحد ہے۔ سرحد کے ایک طرف خوشی، سکون، محبت اور دوسری سمت غصہ، خوف، نفرت اور اسی سرحد کے درمیان ہمیں اپنے جذبات کو ایک درست پیمانے میں رکھنا ہو گا۔ یہ جذبات انسانی شخصیت کی معقول ذہن سازی کی پیداوار ہوں ناکہ محض جذباتی اور بے لگام احساسات کا مجموعہ کیوں کے نا معقولیت انسانی شخصیت کے لیے خطرناک ہے۔

