بہائی: وہ مذہب، جو انسانی اتحاد کو سب سے بڑی طاقت سمجھتا ہے


سنہ 1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے

بہائی مذہب کی بنیاد انیسویں صدی کے وسط میں مرزا حسیان علی نوری نے رکھی تھی، جسے بہا اللہ، خدا کی شان، کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بہائی عقیدے کے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ بہا اللہ اور اس کا پیش رو خدا کے مظہر تھے۔ اس مذہب کے مطابق، تمام مذاہب اور انسانیت کا اتحاد ہونا نہایت ضروری ہے۔ بہائی انسانیت کی یک جہتی پر یقین رکھتے ہیں اور نسلی، طبقاتی اور مذہبی تعصبات کے خاتمے کے لیے خود کو وقف کرتے ہیں۔ بہائی مذہب کی تعلیمات کا بہت بڑا حصہ معاشرتی اخلاقیات سے وابستہ ہے۔ ان کی تعداد پوری دنیا میں پچاس لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔

پاکستان میں بہائی عقیدے کا آغاز تقسیم ہند سے پہلے ہو گیا تھا۔ شیخ سعید ہندی جو ملتان سے تھے پاکستان میں اس فرقہ کے بانی مانے جاتے ہیں۔ ان کے بانی کا کہنا ہے کہ انسانی اتحاد میں اتنی طاقت ہے کی یہ پوری دنیا کو روشن کر سکتی ہے۔

بہائیوں نے 1986 میں دہلی کے اندر اپنی ایک عبادت گاہ بنائی جس کا نام اس کے ڈیزائن کی وجہ سے لوٹس ٹیمپل، یعنی کنول کا پھول رکھا گیا۔ اگر آپ نئی دہلی سے جنوب کی طرف چلیں تو پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر خواجہ نظام الدین کے مزار والے علاقے کے بعد یہ عمارت موجود ہے۔ ایک وسیع و عریض میدان کے درمیان میں یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے جو پنکھڑیوں کی شکل کی ہے اور اس کے اردگرد باغیچے اور لان ہیں۔


اس عبادت گاہ کی دو انفرادی خصوصیات ہیں۔ پہلی خصوصیت اس عمارت کا ڈیزائن ہے جسے کنول کے پھول کی طرح بنایا گیا ہے۔ اس کی تئیس پنکھڑیاں ہیں اور ان کے تین سیٹ بنائے گئے۔ اس عمارت کی اونچائی چالیس میٹر ہے۔ مرکزی ہال کا فرش بھی یونانی سنگ مرمر سے بنا ہوا ہے۔ اس جگہ کا کل رقبہ چھبیس ایکڑ ہے۔ دوسری اہم بات اس عمارت کی یہ ہے کہ اس عمارت میں داخل ہونے کے بعد آپ کو کسی بھی طرح کی گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سب کو خاموش ہو کر بیٹھنا ہوتا ہے۔ یہ شاید بہائی لوگوں کے عبادت کرنے کا طریقہ ہے۔

میں نے اس عمارت کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔ میرے پاس تھوڑا سا وقت بھی تھا لہذا اس وقت کا استعمال کرتے ہوئے اس جگہ جانے کا فیصلہ کیا۔ جب میں لوٹس ٹیمپل پہنچا تو دوپہر ہو چکی تھی اور وہاں پر خاصی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ میں عمارت کے مین ہال میں چلا گیا جو کہ خاصہ بڑا تھا۔ اس میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ ہال میں پچیس سو لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

میں نے دیکھا کہ مختلف جگہوں پر لوگ بیٹھے تھے، نا کوئی پڑھ رہا تھا، نا کوئی تسبیح کر رہا تھا اور نا ہی کوئی بول رہا تھا۔ ہال میں اتنی خاموشی تھی کہ جس کا اندازہ کرنا بے انتہا مشکل ہے۔ ایک تو یہ جگہ شہر سے دور ہے، دوسرا اس کے ارد گرد دور دور تک ٹریفک نہیں ہے، کوئی بھی گاڑی اس عمارت کے قریب نہیں آتی۔ لگتا ہے کہ یہاں پر خاموشی ہی عبادت سمجھی جاتی ہے۔ میں بڑی دیر تک لوگوں کو دیکھتا رہا، اکثر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے اور مسلسل کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ شاید یہ بھی ایک طرح کا نفسیاتی علاج ہوتا ہو گا۔ ایسی صورت حال میں لوگوں کو اپنے آپ کے متعلق سوچنے کا موقع ملتا ہے۔ میں بھی وہاں پر چلا گیا اور کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔ جب آپ کے سامنے بہت ہی خوبصورت عمارت ہو جس کی کسی بھی دیوار پر کوئی تحریر نہ ہو اور نہ ہی کوئی تصویر، ایسی صورت میں آپ خاموشی سے بیٹھیں تو لازمی بات ہے کہ آپ کو بھی بہت کچھ سوچنے کو ملتا ہے۔

جب میں ہال میں چپ چاپ بیٹھا تھا تو مجھے یاد آیا کہ جب پہلی مرتبہ میں عمرے کے لیے مکہ شریف جا رہا تھا تو میرے ایک دوست ڈاکٹر عبدالمتین، وہ لیفٹ کے بڑے نظریاتی لیڈر تھے اور اس کے ساتھ ساتھ کیمیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی اور پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر بھی تھے، نے مجھے یہ کہا کہ جب تم خانہ کعبہ جاؤ تو کسی کونے میں بیٹھ کر اللہ کے گھر کو دیکھنا اور اللہ سے باتیں کرنا۔ جو آپ کے دل میں آئے وہ کہنا، جو مانگنا چا ہو وہ مانگنا، جو گلہ شکوہ ہو وہ بھی کرنا لیکن یہ سب کچھ اپنے دل میں کہنا، آواز نہ نکلے، تمھیں جواب ملے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرا یقین ہے کہ اللہ تمہاری باتوں کا جواب دے گا اور تم اسے محسوس بھی کرو گے۔ میں نے ایسا ہی کیا اور ایک خوبصورت تجربے سے گزرا، ایسا کرنے سے ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی، جو اب تک یاد ہے۔

اس ٹیمپل میں آ کر بھی مجھے یوں ہی لگا کہ اس مذہب کے ماننے والوں نے خاموشی سے اپنے خدا سے باتیں کرنے کے لیے یہ ٹیمپل بنایا ہے۔ ہر مذہب میں خدا کا تصور موجود ہے کیونکہ یہ مذہب کی بنیاد ہے۔ خدا کا تصور کیسا ہے اس میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن خدا کے تصور کے بغیر کوئی مذہب نہیں ہو سکتا۔ مذہب کی بنیاد ہی یہ ہے کہ کسی ان دیکھی طاقت کو ماننا اور اس پر یقین کرنا۔

میرے لیے یہ تجربہ انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد منفرد بھی تھا۔ ٹیمپل میں دیواروں پر اسلام اور عیسائیت کے علاوہ بھی کئی اور مذاہب کے مقدس مقامات کی تصاویر لگی ہوئیں تھیں جو اس بات کو ظاہر کرتی تھیں کی اس مذہب کے ماننے والے دیگر مذاہب کا بھی احترام کرتے ہیں۔

آپ خاموش بھی ایک خاص وقت تک ہی رہ سکتے ہیں۔ خاموش رہنے کا یہ تجربہ بڑا ہی دلچسپ تھا۔ میں اب بھی کبھی کبھار یہ تجربہ کرتا ہوں جس سے بڑا روحانی سکون ملتا ہے۔ آپ بھی کر کے دیکھیں۔

بہائی لوگوں کے متعلق مزید جاننے کے لیے Warburg Margit
کی کتاب
Citizens of the World: A History and Sociology of the Bahaʹis from a Globalisation Perspective
بہت مفید ہے۔

Facebook Comments HS