کیا کبھی کسی موب لنچنگ کا حصہ کسی دینی جماعت کاسر براہ یا کوئی پیر بنا ہے


بی بی سی اردو نیوز کے مطابق توہین مذہب کے الزام میں قتل ہونے والے ایک ذہنی مریض مشتاق کے بھائی ذوالفقار نے بتایا کہ "جب میں نے مشتاق کو غسل دیا تو میرے لئے بہت تکلیف دہ وہ لمحہ تھا جب میں نے دیکھا کہ اس کے جسم کا کوئی ایک حصہ بھی ایسا نہیں تھا جہاں زخم نہ ہو” اس نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ "یہی نہیں بلکہ غسل دیتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ ظالموں نے اس کے ہاتھوں کی 10 انگلیاں ٹوکے سے کاٹ دی ہیں اور اینٹیں مار مار کر اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا” یہ پڑھنے کے بعد سوچ میں ڈوب گیا کہ کیسے انسان چند سیکنڈ میں درندے بن جاتے ہیں اور دوسرے انسان کو درندوں کی طرح نوچنے لگتے ہیں، اگر اس نے کچھ مقدس اوراق جلائے بھی تھے تو کیا اس مقدس کتاب کے خالق کے لیے یہ مشکل تھا کہ اس شخص کو کسی جانور میں تبدیل کر دیتا یا سزا کے طور پر فوری دردناک موت دے دیتا تاکہ دوسروں کو عبرت ہو؟ مگر خالق نے اس شخص کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اسی خالق کے پیروکاروں نے خود کو انصاف کا علمبردار گردانتے ہوئے اس کو ایسی دردناک موت دی کہ دنیا والے یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ کیا ہم واقعی انسان ہیں؟ اور اگر انسان ہیں تو یہ انسانوں کی کونسی نسل ہے جن کے ذہنوں میں اتنی درندگی اور نفرت بھری ہوئی ہے؟

ہر بار ان کی درندگی کا لیول اور شدت ایک نیا رخ یا انداز اختیار کرلیتا ہے؟ جب یہ لوگ درندگی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے ذہنوں میں بس ایک ہی بات چھائی ہوتی ہے کہ وہ ثواب کما رہے ہیں اور آخرت میں جنت کے حقدار ٹھہریں گے مگر درندگی کے بعد آخر ایسا کیا ہو جاتا ہے کہ جیسے ہی پولیس گرفتار کرنے ان کے دروازوں تک پہنچتی ہے تو یہ چھپنے لگتے ہیں، منت سماجت کرنے لگتے ہیں حتیٰ کہ صحت جرم سے ہی انکاری ہو جاتے ہیں؟ سیالکوٹ والے واقعہ کا مرکزی ملزم بھی برقعہ پہن کر فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا تھا آخر یہ کیسا عشق مذہب و خدا ہے جو چند سیکنڈ کے لئے طاری ہونے کے بعد جب عدالت یا جیل جانے کی باری آتی ہے تو یہی عشق رفو چکر ہو جاتا ہے؟ ان ظالمانہ واقعات میں جو بات کامن ملتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ موب لنچنگ کا حصہ بننے والے اکثر غریب غرباء، مزدور، دیہاڑی دار یا چٹے ان پڑھ ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں جنہیں دین تو ایک طرف، دنیا کا بھی کچھ پتہ نہیں ہوتا۔

تلمبہ میں ہونے والے ظالمانہ واقعہ کے بعد بالکل یہی صورت حال سامنے آرہی ہے کہ مارنے والے ہجوم میں چٹے ان پڑھ اور عام قسم کے لوگ ہیں جن کی ویڈیو فرانزک کے بعد جان پر بنی ہوئی ہے اور وہ اپنے اپنے وڈیروں سے مسلسل رابطہ میں ہیں کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے، خدارا ہمیں جیل اور عدالت کے چکروں سے بچا لیں۔ بہت سارے تو کانوں کو ہاتھ لگا کر دہائی دے رہے ہیں کہ ہم آئندہ سے ایسی سفاکیت کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ ایسے ظالمانہ واقعات میں عقل والوں کے لئے بہت سی نشانیاں چھپی ہوتی ہیں، تھوڑی سی ذہنی مشقت سے ڈاٹ سے ڈاٹ ملا کر معاشرتی رویوں کی واضح تصویر بنائی جا سکتی ہے جس سے یہ پتہ چل سکتا ہے کہ یہ غریب اور ان پڑھ لوگ کن کے لیے کام کرتے ہیں اور یہ کن کی آسان پہنچ میں ہوتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں سب کو چاہیے ہوتی ہیں اور تقریبا سبھی ان کے طالب بھی ہوتے ہیں مگر غریبوں کو اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے؟ اور یہ کیوں چند سیکنڈ میں آگ بگولہ ہو کر طاقتوروں کی طاقت میں مزید اضافہ کا سبب بنتے رہتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ان جنت کے طالبین میں پیش پیش وہ لوگ کیوں نہیں ہوتے جن کی یہ اصل اسکیم ہوتی ہے؟ پریانتھا کمارا، مشال خان یا تلمبہ کا مشتاق ان تینوں کی لنچنگ میں ہجوم کون ہے اور کس طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی اکثریت تھی؟ کیا اس موب کا حصہ مولوی، پیر یا تبلیغی مبلغ ہیں جو کہ وارثان دین کہلاتے ہیں؟ پاکستان میں ہونے والے ظالمانہ واقعات کی پوری فہرست نکال لیں مذہبی کارڈ کھیلنے والوں کے سربراہان آپ کو ممبر پر گرجتے ضرور ملیں گے مگر کسی ہجوم میں نہیں ملیں گے۔ کیا ان کو جنت کی ضرورت نہیں ہے؟

یہ سب عقیدتوں کا کھیل ہے اور سربراہان کھیل کو اچھے سے پتا ہے کہ ان کو اپنی ٹیم کے لیے پلیئرز کس طبقہ سے دستیاب ہوں گے اسی لئے یہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے ایسے طبقے کو ٹارگٹ کرتے ہیں جن کا دماغ غربت اور پریشانیوں کی وجہ سے مسخ ہو چکا ہوتا ہے اور وہ اپنے اس ذہنی سطح تک پہنچ چکے ہوتے ہیں کہ دنیا میں تو کچھ ملا نہیں سوائے بھوک کے، تو کیوں نہ جنت کے طالب بن کر اپنی مشکلات کا مداوا کر لیں۔ خادم رضوی، طاہر القادری یا تبلیغی اجتماعات یا چلوں میں ہمیشہ مزدور اور پسا ہوا طبقہ ہوتا ہےجو اس وجہ سے ان بابرکت ہجوم کا حصہ بنا ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے عبادات و ریاضت سے اس کے دن پھر جائیں مگر زمینی حقائق کا پورا ادراک اور سمجھ بوجھ صرف سربراہان مذہبی جماعتوں یا مالدار طبقے کو ہوتی ہے جو عبادات کے علاوہ دنیا داری بھی بخوبی نبھا کر دنیا و آخرت میں سرخرو رہتے ہیں۔

اس حقیقت کا مشاہدہ آپ سعد رضوی کی شادی کی تقریب و ولیمہ سے بخوبی کر سکتے ہیں جس میں پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ کیا کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ حضور کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ دنیا میں کامیابی کی دوسری مثال مولانا طارق جمیل کا ایم ٹی جے برانڈ ہے جو روز بروز ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ کاش ہمارے غریب طبقہ کی شعوری سطح بھی بلند ہو اور کسی روز ان کی آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اترے اور وہ اس حقیقت کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوں کہ انہیں ہر کوئی اپنی طاقت بڑھانے کے لیے ٹشو پیپر کی مانند استعمال کرکے پھینک دیتا ہے اور انہیں اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے کارل مارکس کا کہنا تھا کہ جس دن محنت کش طبقہ کو اپنی حقیقی طاقت کا گیان ہو گیا اسی دن غربت کی سطح کم ہونے لگے گی جو خوشحالی امیروں کا مقدر بنی ہوئی ہے وہ غریبوں کے در پر بھی دستک دے گی۔

ترقی کی اس نہج تک پہنچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جسے شعور کا راستہ کہتے ہیں۔ تلمبہ واقعہ کے بعد مولانا طارق جمیل اور طاہر اشرفی کے واضح بیانات میں بھی غریبوں کے لیے اہم نشانیاں چھپی ہوئی ہیں جس میں وہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ اس قسم کے ظالمانہ رویے کی مذہب میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور جنہوں نے بھی یہ ظلم کیا ہے، ان سے ہمارا یا مذہب کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments