پی ٹی ایم کا دھرنا، کیا غلط کیا درست؟


پچھلے اتوار سے منظیر پشتین کے سربراہی میں کراچی میں سندھ اسمبلی کے بلڈنگ کے سامنے پہلے پی۔ ٹی۔ ایم کے کارکن جلوس کی شکل میں آئے اور پھر وہی پر دھرنا دینے کے لئے بیٹھ گئے جو تاحال جاری ہے۔ ان کا مطالبہ علی وزیر کے رہائی کا ہے یا پھر یوں کہئے کہ ان کا مطالبہ سندھ حکومت سے علی وزیر کو بے گنا قید میں ڈالنے، رکھنے اور جھوٹے کیس کے بنانے کا ہے جس کا پی۔ ٹی۔ ایم ان کے رہائی کی شکل میں پورا ہونا چاہتی ہے۔ میں ذاتی طور پر جو مطالبات منظیر پشتین حکومت سے کرتے آئے ہیں اور جو وہ ایک پر امن جدوجہد کے سہارے چلے آ رہے ہیں کے ساتھ جذباتی طور پر ہمدردانہ تعلق یا وابستگی رکھتا ہوں۔

لیکن میرے ذہن میں جو اس دھرنے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں وہ مجھے منطقی، قانونی اور وزڈم کے حوالے سے مجبور کرتا ہے کہ وہ لکھ ڈالوں اور کوئی منطق کا ماہر، کوئی قانون دان اور کوئی اہل دانش اس کا جواب دیں۔ وہ یہ کہ کیا سندھ اسمبلی کے سامنے ان کو دھرنا دینا چاہیے۔ اور سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے سے ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ کیا سندھ اسمبلی کے پاس ان کے مسئلے کا حل موجود ہے۔ ؟ کیا سندھ حکومت کے پاس اس مسئلے کا حل ہے اور وہ کر کے دے گی؟ یا اس دھرنے کی کوئی سیاسی پشت پناہی ہے؟

لیکن سب سے پہلے آتے ہیں کیس کی طرف، اس میں کوئی شک نہیں کہ علی وزیر پر مقدمہ سندھ صوبہ میں بنا اور سندھ ہی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ لیکن اس دوران جو تازہ ایشو اٹھا ہے وہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے علی وزیر کی ضمانت گرانٹ کی لیکن سننے میں آیا ہے کہ وہ آرڈر غائب ہو گیا ہے جس پر علی وزیر کا ریلیز کیا جانا تھا۔ اس کا تو اسان سا جواب بحیثیت وکیل یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ہزار بار سیاسی ایشو ہو لیکن حل اس کا قانونی ہے وہ اس طرح کہ متعلقہ کورٹ سے اس آرڈر کی استدعا کی جا سکتی ہے۔

اور اگر ریلیز میں کوئی ایشو ہے جو بھیجا گیا ہو اور اس پر ملزم رہا نہ ہو تو اس کا جواب متعلقہ کورٹ کو واپس اتا ہے کہ کس وجہ سے ملزم کو رہا نہیں کیا گیا۔ خدانخواستہ دوسرے کسی کیس میں انوالو ہے یا ریلیز آررڈر میں کوئی غلطی یا سقم ہے۔ وہ دور کیا جا سکتا ہے۔ یا اگر دوسرا مسئلہ ہے جو پی۔ ٹی۔ ایم اکثر سمجھتی ہے تو پھر تو سپریم کورٹ اور دوسرے مداخلت کار اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں ہیں دھرنا تو پھر ادھر بنتا ہے نہ کہ کراچی میں سندھ اسمبلی کے بلڈنگ کے سامنے۔

پھر یہ کہ کیا سندھ اسمبلی یا سندھ حکومت اس مسئلے کا حل نکال سکتی ہے۔ تو اس پر رائے یہ ہو سکتی ہے کہ علی وزیر کا کیس انسداد دہشت گردی کے قانون کا ہے اور انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں نہ اسمبلی اور نہ حکومت کچھ کر سکتی ہے۔ ہاں البتہ کورٹ سے زیر دفعہ دو سو پینسٹھ۔ کے اور ہائی کورٹ سے زیر دفعہ پانچ سو اکسٹھ۔ اے ضابطہ فوجداری کے تحت کویش یا کواش کیا جاسکتا ہے۔ یا پھر زیر دفعہ دو سو چورانوے ضابطہ فوجداری کے تحت پبلک پروسیکیوٹر عدالت کی کونسنٹ سے کیس فیصلے سے پہلے ود ڈرا کرا سکتا ہے جو ایکوٹ کہلائے گا کیونکہ ملزم پر فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

اب آتے ہیں کہ کیا اس دھرنے کے پیچھے کوئی سیاسی پشت پناہی ہے۔ تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ حال ہی میں مقامی حکومتوں کے مسئلے پر ای۔ این۔ پی۔ کا ایم۔ کیو۔ ایم سے ملنا یا پھر ایم۔ کیو۔ ایم کے وفد کا ولی باغ چارسدہ کا دورہ سندھ حکومت کو اچھا نہ لگا ہو اور کراچی میں جو منظیر پشتین نے دعوی کیا تھا کہ کراچی کی کنجی ان کے پاس ہے اور وہ کسی بھی وقت کراچی شہر کو بند کرا سکتا ہے جس پر حیدر آباد جلسے میں ایم۔کیو۔ ایم حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد نے بھی شدید سیاسی ردعمل دیا تھا۔ شاید پیپلز پارٹی نے اے این۔ پی کے مقابلے میں سیاسی دباؤ بڑھانے کے لئے پی۔ ٹی۔ ایم پر ہاتھ رکھا ہو۔ کیونکہ یہ خلا کوئی اور سیاسی جماعت پر نہیں کر سکتی تھی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بھی نہیں۔ لیکن پی۔ ٹی۔ ایم سے شاید پیپلز پارٹی کو توقع تھی لیکن پی۔ ٹی۔ ایم یہ خلا پر کرنے میں ناکام رہی کیونکہ جو ان کے جلسوں کا رکارڈ رہا ہے وہ ادھر نظر نہیں آ رہا ہے پہلے دن تو تعداد قدرے زیادہ تھی لیکن دھرنے میں اس وقت تک آتے آتے کافی کم ہو گئی ہے۔

اس کی کئی وجوہات ہو سکتے ہیں ایک تو جو پی۔ ٹی ایم کے ورکرز ہیں وہ زیادہ تر مزدور طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کئی دنوں تک دھرنے میں نہیں بیٹھ سکتے ہیں۔ دوسرے پی۔ ٹی۔ ایم کو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا سپورٹ حاصل تھا جب عثمان کاکڑ زندہ تھے لیکن ان کی شہادت کے بعد اب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے اس سے اپنا سیاسی ہاتھ کھینچ لیا ہے لہذا ادھر سے بھی افرادی قوت اب نہیں مل رہی اور کوئٹہ سے لوگ آئے تو ہیں لیکن کافی کم تعداد میں۔

دوسرے یہ کہ کراچی میں زیادہ تر لوگ وزیرستان کے وزیر اور مسعود قبائل سے ہے اور وہ کراچی میں اتنی تعداد میں نہیں کہ وہ ساوتھ وزیرستان کے جلسوں یا دھرنوں کی یاد کراچی میں بھی دہرائے۔ کراچی میں زیادہ تر لوگ پشاور ویلی سمیت مردان، چارسدہ، صوابی نوشہرہ، سوات، کوہاٹ، کرک، لکی مروت، پاٹا یا فاٹا سے ہیں اور ان کا تعلق سیاسی طور پر اے این پی سمیت پی۔ ٹی۔ آئی۔ جماعت اسلامی۔ جے۔ یو آئی۔ مسلم لیگ وغیرہ سے ہیں جو پی۔ ٹی۔ ایم سے سیاسی طور پر مل بیٹھنے کے روادار نہیں۔ تو میرے خیال میں پی۔ ٹی۔ ایم جو تحریک کی شکل میں اپنی آواز اپنے انداز میں پہنچا رہی تھی اور کراچی میں اپنا سیاسی پاور شو کے انداز میں اپنے مسئلے اسمبلی بلڈنگ کے سامنے دھرنے دے کر حل کرانے کے لئے اکر بیٹھ گئی اپنی تحریک کو جو کہ شاید ان کی نظر میں یہ تھی کہ کراچی میں سیاسی آواز زیادہ سنی جاتی ہے یا سیاسی قد کاٹھ میں زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے میڈیا کوریج زیادہ مل جاتی ہے لیکن اگر یہ سب کچھ موجود نہ ہو اور ایسی پذیرائی نہ ملے تو جتنا سیاسی قد کاٹھ اٹھنے کا چانس ہوتا ہے تو اس سے زیادہ قد کاٹھ کا گرنے کے بھی چانس ہوتے ہیں۔ دیکھتے ہیں آنے والا وقت پی۔ ٹی۔ ایم کو کس رخ پر گامزن کرتا ہے۔

Facebook Comments HS