اقرار الحسن پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں مگر


سر عام کے روح رواں اقرار الحسن نے اگرچہ بارہا صحافیانہ اصول پائے مال کیے ہیں۔ زرد صحافت کا مظاہرہ کیا ہے۔ شرفا کی پگڑیاں اچھالی اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پائے مال کیا ہے۔ کیمرے لے کر کبھی ہوٹلوں میں کبھی تھانوں میں، کبھی تعلیمی اداروں میں اور کبھی فیکٹریوں میں داخل ہوجاتا تھا۔ وہاں جا کر لوگوں سے تحکمانہ انداز میں بات کرتا تھا۔ ان سے بد تمیزی کرتا تھا۔ دھمکیاں دیتا تھا۔ اداروں اور لوگوں کی شہرت کو داغدار کرتا تھا۔ مینار پاکستان واقعے میں بھی عائشہ سے ہمدردی جتلاتے ہوئے اس کو بہن کہہ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ مگر بعد میں پتا چلا کہ اس نے ریمبو کے ساتھ مل کر پیسوں کے لیے ڈراما رچایا تھا۔

اقرار کی نادانیاں اپنی جگہ۔ اس کی بے احتیاطیاں اور بلیک میلنگ اپنی جگہ مگر اس کے باوجود ہم اس پر آئی بی کے اہلکاروں کی طرف سے بہیمانہ تشدد کی پر زور مذمت کرتے ہیں کیونکہ کوئی ذی شعور اور پڑھا لکھا آدمی کسی بھی نوع کے تشدد کی حمایت نہیں کر سکتا۔ کچھ عرصہ قبل نامور صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار اور پیمرا کے سابق چئیر مین ابصار عالم کو ایک متنازعہ بیان کے بعد واک کرتے ہوئے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس موقعے پر وفاقی حکومت کے ترجمانوں نے جس طرح ابصار عالم ان کے گھر والوں اور ہمدردوں کے زخموں پر نمک پاشی کی اسے کون بھول سکتا ہے؟ اقرار الحسن کے ساتھ ہونے والے واقعے کی مذمت ضرور کریں مگر یہ بھی تو بتائیں کہ نامور صحافی، کالم نگار اور اینکر پرسن حامد میر کو آٹھ ماہ سے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ مطیع اللہ جان کا قصور سوائے اس کے اور کیا ہے کہ انہوں نے اصل حاکموں کی پالیسیوں کو پر دبنگ انداز میں تنقید کی۔

اس جرم کی پاداش میں انہیں بار بار ٹی وی چینلز سے نکلوایا گیا۔ ان کا روز گار چھینا گیا۔ انہیں اٹھایا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وفاقی حکومت اور اداروں کا اقرار الحسن کے ساتھ کھڑا ہونا مستحسن اقدام ہے مگر اس کے ساتھ ہم وفاقی حکومت اور اداروں کے یو ٹرن پر بھی احتجاج کرتے ہیں۔ جو پہلے صحافیوں کے اٹھائے جانے اور ان پر تشدد کے واقعات کے حوالے سے عذر لنگ تراشتے تھے کہ

لڑکی کے بھائیوں نے مارا ہو گا۔
کچھ تو ضرور کیا ہو گا۔
خود ڈراما رچایا ہے۔
ذاتی دشمنی کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ جس طرح وفاقی حکومت اور ادارے اقرار الحسن کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، مطیع اللہ جان سے لے کر ابصار عالم اور عرفان صدیقی سے لے کر حامد میر تک تمام مظلوم مگر دبنگ و دلیر صحافیوں کے ساتھ بھی کھڑے ہوں گے۔

Facebook Comments HS