سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گبھرائے
کہا جاتا ہے کہ وقت کی ایک خاصیت ہوتی ہے کہ وہ اچھا ہو یا برا گزر ہی جاتا ہے لیکن ہمارے اس دیس میں وقت کی یہ خاصیت معدوم ہو گئی ہے۔ آزادی سے لے کر اب تک صرف منٹ ’گھنٹوں میں رات، دن میں اور مہینے سالوں میں بدلے ہیں لیکن ظلم اور جبر کا یہ وقت نہی بدلہ اور ویسے بھی ہمارے اس خطے کی پچھلی ڈیڑھ دو سو سال پرانی تاریخ بھی انھی ظلم و ستم سے بھری پڑی ہے جہاں حق اور سچ بات کہنے والے کو زندان کی زینت بنا دیا جاتا اور چاپلوسوں کو جاگیروں سے نواز دیا جاتا۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت برٹش سرکار یہ کار خیر سر انجام دیتی اور اب اکیسویں صدی میں یہ کام کنگڈم آف پاکستان کے کرتا دھرتا انجام دے رہے ہیں ہاں بالکل میں جانتا ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت قائم ہے لیکن جمہوریت میں تو عوام کو حق خودارادیت کا حق ہوتا ہے، ادارے آزاد ہوتے ہیں، آپ کا میڈیا آزاد ہوتا ہے عدلیہ عدل و انصاف پر مبنی فیصلے کرتی ہے جبکہ بادشاہی نظام میں ایسا نہیں ہوتا وہاں صرف حکم کی تعمیل کی جاتی ہے وہ حکم جو اوپر سے نازل ہوتا ہے
اہل علم یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان میں اوپر والے کون ہیں لہذا اسے کنگڈم سے تشبیہ دی جا سکتی ہے یا پھر شاید نہیں کیوں کہ کنگڈم میں بھی فرد واحد کے بنائے ہوئے نظام کو فالو کیا جاتا ہے جبکہ ریاست پاکستان میں آئین کی کوئی وقعت ہی نہیں جسے ہم ماضی میں کئی بار معطل کر چکے ہیں اور تیسرا 1973 کا آئین صرف کاغذ پر لکھی گئی ایک تحریر ہے ہمارے آئین کے آرٹیکل ( 19 اور اے 19 ) میں واضح طور پر موجود ہے کہ شہری کو تقریر اور اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہو گا، اور پریس کی آزادی ہوگی، جو قانون کی شان و شوکت یا پاکستان کی سالمیت، سلامتی یا دفاع یا اس کے کسی بھی حصے، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے مفاد میں عائد کی گئی کسی بھی معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔
ویسے بھی میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور صحافی کو معاشرے کی آنکھ لیکن ہم اسی آنکھوں کو اندھا کرنے کے شائق ہیں۔ 1992 سے لے کر اب تک 61 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے اور انگنت صحافیوں پر تشدد کیا گیا۔ کبھی حامد میر صاحب پر حملہ کیا گیا اور کبھی ان کے پروگرام کو زور زبردستی بند کروا دیا گیا، کبھی اسد طور پر ان کے گھر میں گھس کر تشدد کیا گیا، کبھی مطیع اللہ جان صاحب کو اغوا کر لیا گیا، کبھی عاصمہ شیرازی صاحبہ کی ٹرولنگ کی گئی انھیں برا بھلا کہا گیا، کبھی غریدہ فاروقی صاحبہ کے خلاف اونچے ہتھکنڈے اپنائے گئے اور گزشتہ شب اقرارالحسن اور ان کی ٹیم پر آئی بی کے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کیا گیا، الزامات کے مطابق گن پوائنٹ پر ان کے کپڑے اتروائے گئے اور کرنٹ لگایا گیا اور ویڈیو بھی بنائی گئی۔ جو انتہائی ہی بزدلانہ اقدام تھا آج بہت سے صحافی حضرات اس واقعے سے خوش بھی ہوئے ہوں گے لیکن یہ لمحہ فکریہ ہے کل اس صورتحال میں ان میں سے بھی کوئی ہو سکتا ہے۔
میں صحافت کا ایک ادنیٰ سا شاگرد یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کب تک پاکستان میں یہ ٹرینڈ چلتا رہے گا کہ یہاں اگر سیاستدان کی کرپشن کو بے نقاب کرو تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اگر کسی جج یا وکیل کی کرپشن بے نقاب کرو تو عدلیہ خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اگر کسی مذہبی جماعت کی پالیسی سے اختلاف کرو یا ان سے سوال کرو تو مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے اگر کسی ایک فوجی افسر کی کرپشن بے نقاب کرو یا اس کے خلاف بات کرو تو غداری کی مہر ثبت ہو جاتی ہے۔ حبیب جالب نے کیا خوب کہا تھا جو اس وقت اور آج دونوں ادوار میں کارآمد ہے۔
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
یہ تو سچ ہے ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے یا یوں کہ لیں سایہ جب قد سے بڑا ہو جائے اور باتیں اوقات سے تو سمجھ لو سورج ڈوبنے والا ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں یہ دونوں چیزیں ہیں بس یہ ہی امید کی جا سکتی بہت جلد ایسا سورج طلوع ہو جس میں یہ معاشرہ ترقی کی جانب جائے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب معاشرہ آزاد ہو گا اور ہر فرد بنا خوف کہ اپنا فریضہ انجام دے گا۔ اسی امید پہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ
صباء نے پھر در زنداں پہ آ کے دی دستک
سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے


