کیا شیزوفرینیا ایک خطرناک ذہنی بیماری ہے؟


کسی بھی تصور حیات سے منسلک کوئی بھی سو فیصد اس آئیڈیالوجی کا پریکٹسنگ نہیں ہوتا بلکہ گزرتے وقت اور بڑھتی عمر کے ساتھ ہر بندے کی سوچ میں تغیر و تبدل چلتا رہتا ہے یہی زندگی کا حسن کہلاتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو زندگی بے معنی، یک رنگ، اجیرن اور ناگوار سی لگنے لگتی ہے۔ اس کیفیت کو وہ لوگ زیادہ محسوس کرنے لگتے ہیں جو ڈائی ہارڈ مذہبی ہونے کے باوجود تخلیقی ذہن کے بھی مالک ہوتے ہیں۔ میں یہاں ایسے ہی مذہبی لیکن بلا کا تخلیقی ذہن رکھنے والے شاعر انس معین کا حوالہ دینا چاہوں گا جس نے 27 سال کی عمر میں صرف اس وجہ سے خودکشی کر لی کہ وہ زندگی کی یکسانیت سے اکتا گیا تھا اور اس بات کا اظہار انہوں نے اپنے آخری خط جو ابو امی کے نام لکھا تھا میں کیا تھا جو ریختہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

آنس زندگی کی حقیقتوں کو کھوجتا کھوجتا صوفی ازم کی طرف مائل ہوا مگر تضادات کے ہاتھوں مجبور ہو کر دل ہار بیٹھا یا شاید حساس دل اور تخلیقی ذہن رکھنے والوں کا یہ المیہ ہوتا ہے کہ وہ اتنے تضادات کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا پاتے یا یوں کہہ لیں کہ ”میرج آف کنوینس“ یا مصلحانہ انداز ان کی جبلت میں شامل ہی نہیں ہوتا اسی لئے بہت سے تو نروس بریک ڈاؤن یا تخلیقی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ تخلیقی اذہان ایسے معاشروں میں رل جاتے ہیں جہاں فکس ذہنیت کا راج ہوتا ہے اور زندگی کی لاتعداد حقیقتوں کو ایک سنگل زاویہ یا گناہ و ثواب کی کسوٹی پر پرکھنے کا چلن ہوتا ہے۔

ایسے جیل معاشرے میں ایسے ذہنوں کے لئے جو روایتی راستوں سے بچ بچا کر غیر روایتی راستوں کا انتخاب کر لیتے ہیں کسی ذہنی عذاب سے کم نہیں ہوتے۔ مذہب کے علاوہ جتنے بھی انسانی تصورات ہیں ان میں تضادات پائے جاتے ہیں اور ان پر کھل کے بات بھی کی جا سکتی ہے بلکہ تنقید و اعتراضات سے انسانی فلسفوں میں نکھار اور وقت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا جذبہ بیدار رہتا ہے۔ لیکن مذہب اور مذہبی معاملات کو مذہب والے اٹل، جامد، فکس اور ہمیشہ کے لئے فلسفہ حیات سمجھتے ہیں اسی لیے ان تصورات کو مقدس جان کر بحث و مباحثہ یا سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاتی اسی لئے یورپ نے مذہبی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مذہب کو انسان کا ذاتی فعل اور ریاست کو تمام مذاہب سے الگ تھلگ کر لیا۔

انہی سیکولر بنیادوں پر وہ آج ترقی کی منازل طے کرتے کرتے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جس مقام کو چھونے کے لئے ہمارا روحانی مرکز سعودی عرب بھی اپنی روایتی کشتیاں جلا کر اس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے۔ لیکن ہمارا مسلم امہ کا خواب دن بدن بھیانک سے بھیانک نتائج ہمارے سامنے لا رہا ہے، اپنی غلط سمت اور تنگ نظری کی وجہ سے دنیا سے کٹ کر بھی ہم خواب غفلت سے بیدار ہونا نہیں چاہتے۔ میں ماہر نفسیات ڈاکٹر انعام الحق کی گفتگو سن رہا تھا جو اپنے ایک نفسیاتی مریض مشتاق کی ذہنی حالت کے بارے میں بتا رہے تھے جسے گزشتہ دنوں تلمبہ میں جنت کے طالبوں نے انتہائی سفاکی اور بے دردی سے واصل جہنم کر دیا تھا۔

”ڈاکٹر انعام الحق کا کہنا تھا کہ مشتاق ایک بہت ہی خطرناک ذہنی بیماری شیزوفرنیا کا شکار تھے، شیزو فرینیا بنیادی طور پر ایک دائمی، پیچیدہ اور سنگین نفسیاتی بیماری ہوتی ہے جس میں مریض کے احساسات، گفتگو کا طور طریقہ، مزاج و حرکات و سکنات تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ شیزوفرینیا کے مریض اپنے طور طریقوں پر قابو نہیں پا سکتے، انہیں نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں بعض اوقات بے معانی و لغو باتیں کرنے لگتے ہیں اور بعض دفعہ نبوت کا دعوی بھی کرنے لگتے ہیں۔ مجمع میں کپڑے بھی اتار سکتے ہیں ایسی صورت میں بغور جائزہ لینا چاہیے کہ جس آدمی سے ہم گفتگو کر رہے ہیں کہیں وہ کسی شدید ذہنی بیماری کا شکار تو نہیں ہے، اس بیماری کے حوالے سے ہمیں معاشرہ میں آگہی دینے کی ضرورت ہے“

مشتاق کی ذہنی حالت کے متعلق ایک ایکسپرٹ رائے سننے کے بعد یوں لگا جیسے درندوں نے پورا معاشرہ ہی ذبح کر دیا ہو، ایک ایسا شخص جو ایک لمبے عرصے سے اپنی اس خوفناک ذہنی بیماری سے جوج رہا تھا اور اسی وجہ سے نہ جانے کتنے اپنے اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے مگر اس کی زندگی کا فیصلہ ایک ایسے ہجوم نے کر ڈالا جنہیں یہ زعم تھا کہ ہم ہی راہ راست پر ہیں اور اسے واصل جہنم کر کے ہمارا جنت کا راستہ سیدھا ہو جائے گا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس قسم کا ذہنی تکبر اور خود کو پرفیکٹ سمجھ کر آسمانی اوتار سمجھنے والی ذہنیت آخر مذہبی طبقے میں ہی کیوں پیدا ہوتی ہے؟

دنیا میں اتنے تصورات ہیں کبھی کسی کے پیروکار نے ایک دوسرے کو اس وجہ سے مارنے کی کوشش نہیں کی کہ تم نے سوشلزم یا کیپیٹلزم پر اعتراض یا گالی کیوں دی۔ مولانا طارق جمیل، طاہر اشرفی یا در جنوں علماء کسی بھی موب لنچنگ کے بعد احتجاجی کلمات کہنے کا فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے ضرور نظر آئیں گے مگر کیا ان ظالمانہ واقعات کی تہہ میں اترنے کی کبھی ان لوگوں نے کوشش کی ہے کہ ایسے بے رحمی والے واقعات آخر رونما کیوں ہوتے ہیں؟

ہجوم کو آخر ایسا کیا نظر آنا شروع ہو جاتا ہے کہ وہ ایک جیتے انسان کا سرمہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کرتے؟ بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ نے مذہب اور مذہبی معاملات کو انتہائی حساس بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے جس کی وجہ سے لوگ ہر مذہبی صورتحال میں خود کو ”ڈو یا ڈائی“ کیفیت میں فریم کر کے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں اینٹیں، پتھر، ٹوکے حتیٰ کہ جلانے تک چلے جاتے ہیں۔ انسانوں کے بیچ اتنی سفاکیت کا زہر انڈیلنے والے کوئی خلا میں نہیں رہتے بلکہ یہی عالم دین ہیں جنہوں نے فرقوں کے نام پر اپنی اپنی دکانداریاں بنا رکھی ہیں۔

ان مذہبی سربراہان کو بڑے اچھے سے پتا ہے کہ دن بدن بڑھتی سفاکیت کے پیچھے کون ہے مگر تسلیم نہیں کریں گے اور ایسا کیوں نہیں کرتے اسی مخمصے کے اندر عقل والوں کے لیے نشانیاں موجود ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے علماء نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اپنے اپنے ہجوم کی صحیح سمت میں راہنمائی نہ کی تو انسانی تاریخ میں ایک دن ایسا بھی آ سکتا ہے جب تمام اقوام مل کر ہمیں انسانیت کے زمرے سے دیس نکالا دے کر اور درندے ڈکلیئر کر کے ہمارا حقہ پانی بند کر دیں گے۔

Facebook Comments HS