حسن بن صباح کی جنت (حصہ سوم)۔


حسن بن صباح نے جو جنت بنائی اس کا مقصد لوگوں کو اپنے دام فریب کا شکار کرنا اور اپنی طاقتوں کا اسیر کرنا تھا۔ اس نے اس جنت کی وادیوں اور راہداریوں پر نقش و نگار کا انتہائی نفیس اور نازک کام کروایا۔ نلوں کے ذریعے محلات میں پانی، دودھ، شہد اور شراب جاتا تھا۔ ان سے ہٹ کر کم عمر اور چنی گئی خوبصورت دوشیزاؤں کو اکٹھا کیا گیا، ان رعنائی کے پیکروں کی سادگی، دلکشی اور اچھوتا پن اچانک دیکھنے والے کے خرمن دل پر بجلی گرا دیتا تھا اور وہ سمجھنے پر مجبور ہوجاتا تھا کہ یہ شاید کسی اور دنیا کی مخلوق ہیں، یہ زمینی حسن نہیں بلکہ ملکوتی اور آفاقی حسن کا شاہکار ہیں۔ یہ بھی کوشش کی گئی کہ مجموعی طور پر آنے والے پر ایسا خاص تاثر مرتب ہو کہ وہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے کہ یہ واقعی بہشت ہے، دنیاوی جگہ نہیں اور یہ شیخ الجبل کی خاص طاقتوں کے مرہون منت ہے کہ جیتے جی جنت نصیب ہو گئی۔ اصل میں حسن بن صباح نے اپنے پیروکاروں کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہوا ء تھا، ایک حصہ داعی اور مناد تھے، جو دور دراز کے علاقوں میں خفیہ طریقوں سے چنے ہوئے لوگوں کو اپنے مذہب کی دعوت دیتے تھے، دوسرے رفیق تھے جن کو حسن بن صباح کا معتمد علیہ ہونے کی عزت دی گئی تھی، تیسرا گروہ فدائیوں کا تھا جن کے لئے یہ جنت بنائی گئی تھی، حسن بن صباح نے یہ کیا کہ علاقہ رود بار اور طالقسان کے مضبوط، تنومند اور سادہ لوح جوان فدائین کی فوج میں بھرتی کیے اور ان کی دماغ سازی اس طرح کی کہ وہ اس کی ہر بات پر بلا شک و شبہ ایمان رکھتے تھے، اس زمانے میں لوگوں کو حشیش کے فوائد اور طریقہ استعمال کا معلوم نہ تھا، غالباً حسن بن صباح وہ پہلا شخص تھا جس کو حشیش کے خواص کا کماحقہ علم تھا اور اس نے اپنی مطلب براری کے لئے فدائین کی جماعت پر حشیش کو آزمایا۔

جب فدائی سپاہی امیدواری یعنی ابتدائی تربیت سے فراغت حاصل کر لیتا تو حسن بن صباح اس کو بھنگ کے اثر سے بے ہوش کر کے جنت میں بھجوا دیتا، جہاں منظر کشی ایسی ہوتی کہ خوبصورت لڑکیاں جن کو حوریں کہ کر مخاطب کیا جاتا وہ ان کی آغوش میں آنکھ کھولتا، ایک تو ویسے بھنگ کے نشے سے وہ آسمانوں کی سیر کر رہا ہوتا، اوپر سے غارت گر ایمان حسیناؤں کی آغوش میں جب آنکھ کھلتی تو نظارہ ہی الگ ہوتا، ذہن پر ایسا سحر طاری ہوتا کہ اپنے آپ کو شاہان عالم سے زیادہ خوش قسمت سمجھتا اور حسن بن صباح کی غلامی پر ناز کرتا، رہتی کسر حورین نکال دیتیں جو اس کی برین واشنگ ایسے کرتی جیسے اس سے بڑھ کر کون خوش نصیب ہو گا جس پر شیخ الجبل کا دست شفقت ہو۔

یہاں وہ انواع و اقسام کی لذتوں سے آشناء ہوتا، خوبصورت نزہت گاہوں کی سیر کرتا، ارغوانی شراب کے جام اڑاتا، دلربا حسیناؤں کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوتا، ان پری وش بانکی سجیلی کم عمر دوشیزاؤں کی صحبت میں انواع و اقسام کی خوراکیں اس کی لذت کام و دہن کی زینت بنتیں، جام و سبو کی محفلیں سجتی اور قسما قسم کے میوہ جات سے طبیعت میں جولانی آتی، چونکہ فدائین پر اتنی فراوانی سے مہربانیاں کی جاتی کہ ان کا ایمان راسخ ہو جاتا کہ یہ ساری رونق اور انعامات شیخ الجبل کی مرہون منت ہیں تو شیخ کے اشارہ ابرو پر اپنی جان دینا یا کسی کی جان لینا سعادت سمجھا جاتا، الغرض فدائی جب دس یا بارہ دن گزر جاتے اور مکمل طور پر ان پری جمال حسیناؤں کے دام الفت کا شکار ہو جاتے تو وہ ہی حسینائیں ان کو بھنگ کے اثر سے حسن بن صباح کے پاس واپس بھجوا دیتیں۔

وہ جب بیدار ہوتا تو اپنے آپ کو حسن بن صباح کے قدموں میں پڑا پاتا، جنت کی یاد ایک تڑپ بن کر اس کے ذہن و دل پر چھائی ہوتی، وہ جب استفسار کرتا تو یہی وقت گرم لوہے کو چوٹ لگانے کا ہوتا، حسن بن صباح اس بے چینی اور اضطراب کو اپنی مقصد براری کے لئے مناسب استعمال کرنا جانتا تھا، وہ اس کو کوئی فریضہ سونپ دیتا اور کہتا جا تو فلاں بن فلاں کو مار کر امر ہو جا، تیرے مرنے کے بعد فرشتے تجھ کو اٹھا کر اسی جنت میں لے جائیں گے جہاں دائمی عیش و عشرت تیرا مقدر بن جائے گی اور تو نوزائیدہ معصوم بچے کی طرح گناہ سے پاک ہو جائے گا، ان فدائین کی خون آشامی کو بڑھانے کے لئے ان کو بلی کا گوشت کھلایا جاتا تھا کیوں کہ بلی غیض و غضب کے وقت اپنے آپے سے باہر ہو جاتی ہے، لہذاٰ یہ فدائی اتنی بے جگری سے حکم کی تعمیل کرتے کہ مخالفین کے پتے پانی ہو جاتے ان لوگوں نے حسن بن صباح کے کہنے پر کئی قسم کے روپ اور سوانگ بھر کر اتنی قتل و غارت گری کی کہ لوگ ان کے نام سے لرزاں رہنے لگے، جب حسن بن صباح نے صوبہ قزوین میں بہت زیادہ قوت و طاقت حاصل کر لی تو سلجوقی سلطان ملک شاہ نے اپنے وزیر نظام الملک طوسی کی ذمہ داری لگائی کہ اس فتنے کا سد باب کیا جائے اب حسن بن صباح بھی اس حقیقت سے واقف تھا کہ سلطانی طاقت کا مقابلہ کرنا میرے بس سے باہر ہے تو اس نے اپنے ایک خون آشام فدائی کی ذمہ داری لگائی کہ تو وزیر نظام الملک طوسی کا خاتمہ کر تو جنت میں اعلی مقام تیرا منتظر ہے جب قلعہ الموت کی طرف وزیر شاہی کی سواری رواں دواں تھی تو ایک عرضداشت پیش کرنے کے بہانے فدائی اس کے قریب آیا اور اس کو قتل کر دیا، اب جب لشکر شاہی نے اپنے وزیر کا یہ انجام دیکھا تو تمام لشکر اور سپاہ بغیر لڑے واپس چلی گئی تو اس طرح حسن بن صباح نے پورے لشکر کو صرف ایک فدائی استعمال کر کے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا، حسن بن صباح کے کہنے پر نامی گرامی مسلم حکومتی اشخاص اور اکابرین امت کو قتل کیا گیا یہ بہت بڑا مسلم آزار فرقہ تھا جس کو فدائین، حشاشین اور قرامطہ بھی کہتے ہیں، حسن بن صباح نے 29 سال تک قلعہ الموت پر حکومت کی اور نوے سال کی عمر میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے جہنم واصل ہواء۔

Facebook Comments HS