ہماری سیاسی تاریخ میں بد تہذیبی کب اور کیسے داخل ہوئی


سیاست ایک ایسا مقدس شعبہ ہے، جو نفسانی، ذاتی اور شخصی اغراض سے بالاتر ہو کر معاشرے کے تمام طبقات کی بے لوث خدمت اور ان کے مسائل کو حل کرنے کا نام ہے۔ یہ وہ پیشہ ہے جس میں اپنی زندگی کو کھپا دینے والا انسان کسی طمع، لالچ یا جزا کے عمل سے بے نیاز ہو کر، ایک دھنی کی طرح اپنی منزل کی جانب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تاہم اس مقدس شعبے کے اندر جب سے موقع پرست، مفاد پرست، ابن الوقت، دولت اور شہرت کے پجاری وارداتی افراد نے نقب لگائی تو یہ چشمہ صافی اس کے ساتھ گدلا ہونا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ یہ تاثر عوام میں راسخ ہو گیا کہ سیاست شرفاء کا کام نہیں ہے۔

اس چیز اور نظریے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا، کہ ہماری سیاست صاحب کردار اور شریف النفس اشخاص کے وجود مسعود سے محروم ہو گئی اور اب نوبت با ایں جا رسید است کہ خال خال ایسا کوئی شخص دکھائی دیتا ہے، جو اپنے سیاسی موقف کو حق جاننے کے باوجود بھی فریق مخالف کے لئے کینہ پروری، بغض، کردار کشی اور دوسرے رکیک الزامات لگانے کی بجائے، دلیل اور تحمل سے بات کا جواب دینے کا ملکہ رکھتا ہو۔

ایک زمانے میں جب تحریک آزادی کی گرما گرمی عروج پر تھی، اور مسلمانان ہند اپنے نظریہ پاکستان کے مخالف ہر دینی اور سیاسی شخصیت کو غدار اسلام اور غدار قوم کے القابات سے نواز رہی تھی، انہی ایام کے اندر ایک سیاسی جلسے میں کسی مقرر نے جوش خطابت میں آ کر مسٹر محمد علی جناح کو کافر اعظم کہہ دیا۔ اس پہ ان کے شدید سیاسی مخالف مولانا ابوالکلام آزاد تڑپ اٹھے، اور جلسے باہر نکل گئے۔ اس پہ انتظامیہ نے بہتیری معافی مانگی، مگر مولانا کی طبیعت صاف نہ ہوئی اور اٹھ کر چل دیے۔

دوسری طرف آغا شورش کاشمیری نے اس بات کو بھی نقل کیا ہے کہ یہی مولانا آزاد کسی جلسے سے واپس دہلی جا رہے تھے، اور جب ریل گاڑی علی گڑھ کے اسٹیشن پر رکی، تو وہاں پہلے سے موجود نئی تعلیم و تمدن کے جبال عظیم نے برہنہ جسم کے ساتھ مولانا کو زچ کرنے کی غرض سے ان کے سامنے ناچنا شروع کر دیا۔ مولانا وہاں سے رخصت تو ہو گئے، مگر علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء کو سکھائی جانے والی سیاست اور ان کی تہذیب و تمدن کا عمدہ نمونہ بھی ملاحظہ فرما لیا۔

اسی نوعیت کا دوسرا واقعہ مولانا مدنی کے ساتھ بھی پنجاب میں پیش آیا تھا، جب مسلم لیگ کے زعماء کے اشارے پر ان کو ٹرین سے اتار کر زمین پہ گھسیٹا گیا، سر کی پگڑی کو پاؤں میں روندا گیا، اور ڈاڑھی کے بال نوچے گئے۔ سو اس قسم کی تہذیبی اقدار اور تمدنی وراثت کو لیکر، جب مملکت خداداد پاکستان کی بنیاد رکھی گئی، تو اعلی اقدار کی خوبیوں سے تہی دامن یہ افراد اس کے بعد مملکت کے استحکام کی خاطر فکرمند ہونے کی بجائے، دوسرے مشاغل میں مصروف ہو کر حصہ بقدر جثہ کے لئے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنا شروع ہو گئے۔ تاہم اس کے باوجود بھی ایسے افراد موجود تھے جنہوں نے حقیقی معنوں میں سیاست کو خدمت خلق سمجھتے ہوئے، ذاتی اغراض کو پس پشت ڈال کر اس ملک کی خدمت میں نمود و نمائش کے جذبے سے بے نیاز ہو کر کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہیں چھوڑا، جس میں سب سے نمایاں نام فخر انسانیت باچہ خان کا آتا ہے۔

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہر ایجاد کے مثبت پہلووں کے ساتھ کچھ منفی پہلو بھی ہوتے ہیں۔ مگر قوم کا رہنما ان تمام اقدامات کو یقینی بناتا ہے جن کے تحت اس کی قوم اس ایجاد کے مثبت پہلووں سے ہی آگاہ رہ کر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال سوشل میڈیا ہے، جسے ہمارے یہاں بد قسمتی سے مثبت کی بجائے منفی طریقے سے اس طور استعمال کیا جا رہا ہے کہ جہالت کی اتھاہ گہرائی معلوم ہوتی ہے۔

تاہم ایک عشرے سے اب یہ میڈیا اس قدر ہماری زندگی میں گھس آیا ہے، کہ اب بات محض تفنن اور تفریح سے بڑھ کر بیانیہ تشکیل دینے اور نظریات کی ترویج تک سارا کام اس سے لیا جا رہا ہے۔ اور یوں ہمیں ایک مرتبہ پھر اسی بد تہذیبی، عدم برداشت، کردار کشی اور دشنام طرازی کے مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا استحضار سطور بالا میں کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ فی زمانہ اپنے سیاسی مخالفین کو رگید نے اور ان کے نظریات کا جواب دلیل سے دینے کی بجائے، محض پروپیگنڈے اور الزام تراشی سے دینے کی کہ ایسی صورت حال مرتب کر دی گئی ہے کہ نئی نسل کی نگاہ اور قلب سے سیاست کی توقیر ہی مٹ چکی ہے۔

لیکن اس سے بڑھ کر جو دوسرا دکھ ہے وہ یہ ہے کہ ہماری آج کی نوجوان نسل کو اس قدر گمراہ کر دیا گیا ہے کہ وہ اس ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کو اس ملک کی بقاء، اس کے استحکام اور خوشحالی کا ضامن مان رہے ہیں۔ ہمارے یہاں کتاب سے رشتہ ٹوٹنے کے سبب نئی نسل کو یہ بات بتانا اور انہیں سکے کا ایک ہی رخ دکھا کر گمراہ کرنا، چنداں مشکل نہیں رہا ہے۔ بس مائیک لیجیے، اشارہ اوپر سے پائیے اور جہالت کو انڈیلنا شروع کیجیے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے اپنے مطلب کا بیانیہ تشکیل دیجیے، چاہے اس میں ملک کی شکست و ریخت کے اسباب ہی کیوں نہ موجود ہوں۔ کیونکہ بحیثیت قوم ہم سوچنا اور پڑھنا تو کب سے ترک کر بیٹھے، لہذا اس جہالت کے عالم میں کوئی آ کر ہمیں یہ جھوٹ سنا دے کہ ملک کے ٹوٹنے کے ذمہ دار سیاست دان اور ملک کی ترقی کے درخشاں نشان آمر تھے تو ہم اس جھوٹ کو وحی الہی تسلیم کر کے اس کو مان لینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

Facebook Comments HS