پی ایس ایل 7: ملتان سلطانز نے ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا سکور بنا ڈالا، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پلے آف تک رسائی کے امکانات محدود
اس پی ایس ایل کا سب سے بڑا سکور کروانے کے بعد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے جس آسانی سے میچ ہارا اس کے بعد پلے آف تک اس کی رسائی کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔
ملتان سلطانز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 117 رنز سے شکست دی۔ یہ اس کی نو میچوں میں آٹھویں جیت جبکہ کوئٹہ کی ٹیم چھٹا میچ ہاری ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پاس ایک میچ رہ گیا ہے اگر وہ آخری میچ جیت لیتی ہے اور اسلام آباد یونائٹڈ اپنے بقیہ دونوں میچ ہارتی ہے تو پھر کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان پلے آف کا فیصلہ رن ریٹ پر ہو گا لیکن اگر اسلام آباد کی ٹیم دو میں سے ایک میچ بھی جیت لیتی ہے تو وہ پلے آف میں پہنچ جائے گی۔
245 رنز میں دو سنچری شراکتیں
ملتان سلطانز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے تین وکٹوں پر 245 رنز بنائے جو اس پی ایس ایل میں کسی بھی ٹیم کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔
ملتان سلطانز کی بیٹنگ میں شاندار کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے اس پی ایس ایل میں چوتھی مرتبہ 200 سے زائد سکور بنایا اور شان مسعود اور محمد رضوان نے اس ٹورنامنٹ میں تیسری مرتبہ سنچری پارٹنرشپ قائم کی۔
دونوں بیٹسمینوں کو پچھلے میچ میں اپنی سست روی کا احساس تھا لیکن اس مرتبہ وہ کھل کر کھیلے اور 12 اوورز میں 119 رنز کی شراکت قائم کر ڈالی۔ شان مسعود 57 رنز بنا کر واپس لوٹے تو سرفراز احمد کی پریشانی مزید بڑھ گئی اور اس کا سبب رائلے روسو تھے۔
روسو نے اپنے کپتان کے ساتھ مل کردوسری وکٹ کی شراکت میں 103 رنز بنا ڈالے۔
یہ پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پہلا موقع ہے کہ ایک ہی اننگز میں دو سنچری پارٹنر شپس قائم ہوئی ہیں۔
رائلے روسو نے صرف 20 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ کی زد سے کوئی بھی بولر نہ بچ سکا۔
نور احمد کے تیسرے اوور میں انھوں نے تین چوکے لگائے۔ سہیل تنویر کے ایک اوور میں ان کے لگاتار دو چھکے اور ایک چوکا شامل تھا اور جب نور احمد اپنا چوتھا اوور کرانے آئے تو اس میں بھی رائلے روسو کے دو چوکے اور ایک چھکے نے ان کے بولنگ اعدادوشمار بری طرح خراب کرڈالے۔
رائلے روسونے 71 رنز کی طوفانی اننگز کے لیے صرف 26 گیندیں کھیلیں جس میں نو چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔
کپتان محمد رضوان کی ثابت قدمی بدستور انھیں کامیاب رکھے ہوئے ہے اور وہ سات چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے83 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
یہ بھی پڑھیے
ملتان سلطانز کی جیت کا سفر جاری، ’یہ رضوان کی لیگ ہے اور ہم بس اسی میں جی رہے ہیں‘
پی ایس ایل: ملتان کو ایک بار پھر کوئی نہ روک سکا، زمان خان نے آخری اوور میں قلندرز کو جتوا دیا
’سلطانز کو اب آسٹریلیا ہی آ کر ہرائے، پی ایس ایل ٹیموں کے بس کی بات نہیں لگ رہی‘
خوشدل شاہ کریز پر آئے اور نسیم شاہ کو لگاتار دو چوکے لگاتے ہوئے 10 رنز بنا کر واپس بھی لوٹ گئے۔
اگر ملتان سلطانز کی اننگز میں تین نصف سنچریاں بنیں تو کوئٹہ کی طرف سے بھی ان کے تین بولرز سہیل تنویر، نور احمد اور غلام مدثر بھی نصف سنچریوں جتنے رنز اپنی بولنگ پر دے گئے۔
شاہنواز دھانی کو علیم ڈار بھی پکڑ نہ پائے
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے توقعات سے کہیں زیادہ جلدی حوصلہ اور میچ ہارا۔ وہ سولہویں اوور ہی میں 128 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
جیسن روئے نے جس اعتماد سے اننگز شروع کی تھی اس سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ڈگ آؤٹ میں امید نظر آ رہی تھی لیکن ان کے 38 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد صرف عمر اکمل ہی اعتماد سے بیٹنگ کر پائے۔ انھوں نے نصف سنچری سکور کی جس میں دو چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔
کپتان سرفراز احمد صرف 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ول سمیڈ، افتخار احمد اور احسان علی ڈبل فگرز میں ہی نہ آ سکے۔
وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹیں ملتان سلطانز کے کھلاڑیوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتی رہی۔
اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ خوش فاسٹ بولر شاہنواز دھانی تھے جنھوں نے اپنی دونوں وکٹیں حاصل کرنے کے بعد مخصوص انداز میں جشن تماشائیوں کی طرف بھاگ کر جاتے ہوئے آداب بجاتے ہوئے منایا۔
دوسری مرتبہ جب وہ بھاگنے لگے تو امپائر علیم ڈار نے ازراہ تفنن انھیں پکڑنے کی کوشش کی لیکن دھانی بچ کر نکل گئے۔


