محسن جمیل بیگ کی گرفتاری: ایک پر حملہ سب پر حملہ


ممتاز شاعر منیر نیازی نے نہ جانے کس موقع کی مناسبت سے پنجابی کی ایک غزل کہی تھی لیکن جب میں عمران خان، مراد سعید اور محسن جمیل بیگ تنازعہ پر قلم اٹھا رہا ہوں تو مجھے ان کا درج شعر بہت یاد آ رہا ہے۔

؂ کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی

میں حیران ہوں کپتان اتنی جلدی اپنے ان دوستوں سے کیوں محروم ہوتے جا رہے ہیں جن کے کندھوں پر سوار ہو کر تخت اسلام آباد پر براجمان ہوئے اس میں ان کے دوستوں کا قصور ہے جس پھر عمران خان زیادہ دیر تک ان دوستوں کے ناز نخرے اور تنقید برداشت نہ کر سکے اور ان سے جان چھڑا لی۔ ان میں پہلا دوست کپتان کی محبت اور شفقت سے محروم ہوا جس نے کپتان کی تعریف و توصیف کے طومار لگا دیے تھے۔ وہ کپتان کو ملک کا نجات دہندہ سمجھتا تھا۔ اپنی گفتگو کا آغاز کپتان سے کرتا اور کپتان پر ہی ختم کرتا لیکن جب اس نے ایک ٹی وی پروگرام میں اپنے محبوب وزیر اعظم کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کر دیے تو ان کے لئے وزیر اعظم ہاؤس کے دروازے بند کر دیے گئے ان کی دو عشروں کی خدمات کو یکسر بھلا دیا گیا۔ اس راندہ درگاہ سے تعلق ہی ختم کیا گستاخی کی کوئی بڑی سزا نہیں دی جب کہ سینئر صحافی محسن جمیل بیگ کی گستاخانہ گفتگو کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ اس کی قرار واقعی سزا دی گئی۔

بظاہر یہ سب کچھ کیا دھرا پولیس اور ایف آئی اے کا ہے جس کے اہلکار وارنٹ گرفتاری کے بغیر ہی محسن جمیل بیگ کے گھر آ دھمکے۔ سفید کپڑوں میں ملبوس اہلکار جب کسی کے گھر میں گھس جائیں گے تو وہاں ناخوشگوار واقعہ پیش آنا ہی تھا۔

کپتان اپنے آپ کو اس واقعے کی سنگینی سے لاتعلق ظاہر کر کے بری الذمہ قرار دے سکتا ہے لیکن محسن جمیل بیگ پر تشدد کر کے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس واقعہ نے حکومت کو بدنامی کے سوا کچھ نہ دیا۔ محسن جمیل بیگ کو جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا کسی جمہوری حکومت میں کسی صحافی کے ساتھ اختلاف رائے پر اس طرح سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔ اس طرح کے کام فسطائی حکومتوں کا خاصا ہوتے ہیں۔ میں نے اس طرح کے واقعات ماضی میں فسطائی حکومتوں میں دیکھے ہیں جب جمہوری عمل سے منصب اقتدار تک پہنچنے والے حکمران فاشسٹ بن جاتے ہیں تو وہ سب سے پہلے تنقید کرنے والے ساتھیوں کو اپنے راستے سے ہٹاتے ہیں۔

میرے سامنے ذوالفقار علی بھٹو کی مثال موجود ہے جب وہ ایک معمولی بات پر اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے اے رحیم ( وہ پیپلز پارٹی کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے والوں میں شامل تھے ) سے ناراض ہو گئے تو ایف ایس ایف کے جوانوں سے ان کی ایسی ٹھکائی کرائی کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہے۔ اسی طرح جب ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا قصوری کا انداز خطابت گراں گزرا تو ان کو سبق سکھاتے سکھاتے خود تختہ دار پر چڑھ گئے۔

کل تک جب محسن جمیل کے ساتھ عمران خان کی گاڑھی چھنتی تھی تو وہ عمران خان کے چہیتے افراد میں سے ایک تھے لیکن جب وہ ان کے دل سے اتر گئے تو ان کو اوقات یاد دلا دی۔ محسن جمیل بیگ کا شمار ملک کے ان صحافیوں میں ہوتا ہے جن کا اقتدار ملک کی مقتدر شخصیات سے ذاتی سطح پر تعلق ہوتا ہے جنرل پرویز مشرف کا دور حکومت ہو یا آصف علی زرداری کی بادشاہت محسن جمیل بیگ کا کلہ مضبوط رہتا تھا۔ وہ عمران خان کے سر پر وزارت عظمیٰ کا تاج سجانے میں پیش پیش تھے۔

نہ جانے اچانک کیا ہوا عمران خان اور محسن جمیل بیگ کے درمیان تعلقات بگڑ گئے۔ محسن جمیل بیگ نے ٹی وی ٹاک شوز میں عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید شروع کر دی۔ روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی بھی عمران خان کے خلاف خبریں اور کالم شائع کرنے لگے۔ اس سے محسن جمیل بیگ اور عمران خان کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے۔ حالیہ واقعہ نیوز ون چینل میں ایک ٹاک شو کے دوران پیش آیا جس میں کچھ ذو معنی جملوں کی ادائیگی سے جہاں پیمرا حرکت میں آ گیا وہاں پولیس اور ایف آئی اے نے محسن جمیل بیگ کی رہائش گاہ پر اس طرح دھاوا بول دیا جس طرح پولیس ڈاکو اور دہشت گرد گرفتار کرنے کے لئے روایتی انداز میں کارروائی ڈالتی ہے۔

میں محسن جمیل بیگ کا دو عشروں سے زائد آشنا ہوں۔ میری اور ان کی سوچ میں کبھی یکسانیت نہیں آئی۔ ان کے جن لوگوں سے ذاتی سطح پر دوستیاں تھیں اور جن کے ساتھ محافل سجتی تھیں میری ان کے بارے میں رائے مختلف تھی لیکن ہمارے درمیان باہمی عزت و احترام کا رشتہ قائم رہا۔ میں نے ہمیشہ محسن جمیل بیگ کو مسکراہٹیں بکھیرتا، دھیمے انداز میں گفتگو کرنے والا شخص پایا اگر حکومت نیوز ون پر ٹاک شوز پر رد عمل کا مظاہرہ نہ کرتی تو ممکن تھا بہت سے لوگوں کو ٹی وی شو میں ہونے والی گفتگو بارے میں کچھ علم نہ ہوتا جو آج ملک بھی ہر کسی کو علم ہو گیا ہے۔ وہ کون سی بات ہے جو عمران کو ناگوار گزری اور مراد سعید نے اسے اپنی توہین سمجھا، ایف آئی اے اور پولیس نے کچھ اس انداز میں چھاپہ مارا کہ محسن جمیل بیگ کی گرفتاری پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی شہ سرخی بن گئی۔ پورے ملک میں محسن جمیل بیگ کی گرفتاری کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کل تک محسن جمیل بیگ جن سیاسی قوتوں کے خلاف بات کرتے تھے۔ آج وہ سب اس کی پشت پر کھڑی ہو گئی ہیں۔

شنید ہے جب ایف آئی اے ٹیم نے گھر کی تلاشی کے لئے چھاپہ مارا تو محسن جمیل بیگ نے ایف آئی اے سے وارنٹ گرفتاری مانگے تو اس موقع پر پولیس گردی سے تلخ کلامی کی نوبت آ گئی۔ محسن جمیل بیگ نے سفید کپڑوں میں ملبوس افراد پر اپنے تحفظ کے لئے پستول نکال لیا۔ بعد ازاں سادہ لباس میں ملبوس اہلکار محسن جمیل بیگ کو بغیر وارنٹ اور مقدمہ اندراج کے اٹھا کر لے گئے۔ محسن بیگ اور ان کے بیٹے نے گرفتاری کے وقت مزاحمت کی جس کے نتیجے میں ایف آئی اے کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔

معلوم ہوا ہے وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) نے وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی درخواست پر حکومت اور وزیراعظم پر تنقید کرنے والے صحافی محسن جمیل بیگ کو گرفتار کیا ہے۔ بعد ازاں اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں محسن جمیل بیگ کے وکیل راحیل نیازی نے غیر قانونی حراست کے خلاف درخواست دائر کر دی جس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بھی وفاقی وزیر مراد سعید کی درخواست پر محسن بیگ کے خلاف مقدمہ درج کیا، اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کی جانب سے صحافی محسن جمیل بیگ کی گرفتاری اور غیر قانونی چھاپے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کو ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ مارگلہ نہ تو ایف آئی اے لاہور کے کسی آفیشل کو پیش کرسکے اور نہ ہی متعلقہ ریکارڈ پیش کیا، حقائق کے مطابق لاہور سے اسلام آباد کے لیے کوئی چھاپہ مار ٹیم روانہ ہی نہیں ہوئی، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے اپنی ایف آئی آر کا ریکارڈ پیش نہیں کیا، مغوی کو تاحال ایف آئی اے کے کسی کیس میں گرفتار ہی نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ظفر اقبال نے آئی جی اسلام آباد کو ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی اور فیصلے میں لکھا ہے کہ ایس ایچ او نے غیر قانونی چھاپہ مارنے والی ٹیم کے خلاف کارروائی کی بجائے خود مقدمہ درج کر کے جعلی پیشہ وارانہ مہارت دکھانے کی کوشش کی، عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ مقدمہ 9 بجے درج ہوا اور ساڑھے 9 بجے ایف آئی اے نے بغیر کسی سرچ وارنٹ کے محسن جمیل بیگ کے گھر پر چھاپہ مارا، سوا دو بجے تک ایس ایچ او نے ریکارڈ اور غیر قانونی حراست میں رکھے محسن بیگ نہیں پیش کیا، پولیس محسن جمیل بیگ کا بیان ریکارڈ کر کے قانون کے مطابق کارروائی کرتی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ لاہور اور اسلام آباد پولیس نے صحافی محسن بیگ کے گھر پر دوبارہ مشترکہ چھاپہ مارا۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ٹیم نے گھر کی تلاشی کے لئے چھاپہ مارا، واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے ) نے وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی درخواست پر حکومت اور وزیراعظم پر تنقید کرنے والے صحافی محسن جمیل بیگ کو گرفتار کیا۔ ترجمان محسن بیگ کے مطابق ایف آئی اے اور پولیس کی مراد سعید نے صحافی محسن بیگ کے نجی چینل پر بولے گئے متنازع الفاظ کے تناظر میں مقدمہ درج کرایا، جس میں پیکا ایکٹ کی دفعات 20 ’21 /D، 500 اور 505 پی پی سی کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق چھاپے کے لیے مجاز عدالت سے وارنٹ حاصل کیے گئے۔ ایف آئی اے کا موقف ہے۔ چھاپے کے دوران محسن ان کے بیٹے و ملازمین نے ایف آئی اے کی ٹیم پر فائرنگ کی جبکہ 2 افسران کو یرغمال بنا کر زد و کوب بھی کیا، ایف آئی اے نے کہا ہے کہ محسن بیگ نے بیٹے و ملازمین کے ہمراہ سرکاری ملازمین پر فائرنگ کر کے جرم کا ارتکاب کیا، ملزم کو تھانہ مارگلہ اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط اور حکومتی ترجمان شہباز گل نے محسن بیگ کے گھر چھاپے اور مزاحمت کی ویڈیو سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر شیئر کی اور لکھا ہے۔ کہ ’یہ محسن بیگ کی حقیقت ہے۔ جو قانون کو سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ ۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ردعمل میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوئی آسمان سے اتری مخلوق نہیں جس کی شان میں گستاخی کرنے پر شہریوں کے گھروں پر دھاوا بولا جائے اور انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے مریم نواز نے مزید لکھا کہ ’آپ کی اہلیہ کا جو احترام ہے۔ وہی میری ICU میں بیہوش پڑی والدہ کا ہونا چاہیے تھا۔ مخالفین کی بہنوں اور بیٹیوں کا ہونا چاہیے تھا۔‘

مریم نواز نے مزید کہا کہ ماضی میں آپ نا صرف خود اس گندے کھیل میں شامل تھے بلکہ اپنے جاہل وزرا کا حوصلہ بڑھاتے تھے۔ اقتدار جب ہاتھ سے نکلنے لگتا ہے تو آپ جیسے انسانوں کا خوف اسی طرح سامنے آتا ہے۔ آپ کی حرکتیں دیکھ کر مشرف کے آخری ایام یاد آ جاتے ہیں۔ مریم نے کہا کہ وقت کا پہیہ گھوم چکا ہے۔ عمران خان! آپ جتنی بھی ریاستی طاقت استعمال کر لیں، آپ خود کو نہیں بچا سکتے، آپ کے جرائم کی فہرست میں مخالفین سے انتقام لینا شامل ہے ’۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر کسی میں تنقید سننے کا حوصلہ نہیں تو سیاست کرنا چھوڑ دے، اختلاف رائے رکھنے والوں پر طاقت کا استعمال آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور صحافی محسن محسن جمیل بیگ کو رہا کرے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سینئر صحافی محسن جمیل بیگ کی گرفتاری سے عمران خان کی طاقت نہیں کمزوری ظاہر ہوئی ہے۔

مسلم لیگ نون کے صدر و قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کہا ہے کہ محسن بیگ جو کبھی عمران خان کے قریبی دوست تھے۔ مگر گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ حکومت ان سے کتنی خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیازی صاحب جمہوریت اور اخلاقیات پر لمبے لمبے خطبے دیتے ہیں لیکن معمولی تنقید بھی برداشت نہیں کر سکتے، ان کے اقتدار کے آخری سالوں میں آزادی اظہار پر کافی حد تک کمی آئی ہے۔ یہ ملکی تاریخ کا بدترین وقت ہے۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ کرپشن بے نقاب کرنے پر میرے خلاف غلیظ زبان استعمال کی گئی ہے۔ مجھے دلیل سے نہیں غلیظ گالیوں سے جواب دیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے کو شکایات پر کارروائی کا قانونی حق ہے۔ کارروائی کیسے ہوئی؟ یہ سوال متعلقہ ادارے سے پوچھا جائے

شنید ہے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ محسن جمیل بیگ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج نے جلد بازی میں حکم جاری کیا، قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے انہوں نے جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

اگر حکومت نے ایڈوکیٹ جنرل کا مشورہ قبول کر لیا تو اسے شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ محسن جمیل بیگ کی غیر قانونی گرفتاری، ریاستی تشدد اینکر پرسن اقرار الحسن پر ہونے ریاستی تشدد اور نیوز ون کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ محسن جمیل بیگ کو فوری طور پر رہائی عمل میں لائی جائے، نیوز ون کی بندش کا خاتمہ اور اقرار الحسن پر تشدد کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے اب معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ جہاں سے انصاف کی توقع ہے۔ حکومت کے دباؤ میں پیمرا نیوز ون کے خلاف اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ماضی میں بھی ٹی وی چینلز کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں جن پر حکومت کو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملا۔

Facebook Comments HS