سایہ دار درخت یا بوجھ
یوں تو ہم اپنی معاشرتی، مذہبی، اور روایتی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے بزرگوں کو بڑی اہمیت دیا کرتے ہیں۔ اکثر یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ ان کا وجود بلاشبہ ہر لحاظ سے ہما رے لیے ہمیشہ سے ہی بابرکت سایہ ہوا کرتا ہے۔ ان ہی کے قدم سے ہمارے گھروں مین حقیقی معنوں میں رونق ہوا کرتی ہے اور یہ ہمارے سروں پر سایہ دار درخت کی مانند بھی ہیں اور یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت بھی ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں ہم انھیں اپنا قیمتی اثاثہ کہتے ہیں۔
وہیں ان کے حقوق کے سلسلے میں کوئی ذمہ داری نبھاتے ہوئے کتراتے بھی ہیں۔ اس وقت ہمارا ملک پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی والے مما لک میں سر فہرست ہے اور ہمارے ملک میں 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد تقریباً ایک کروڑ سے زائد ہے۔ جہاں بڑی آبادی ہونے میں ہم چھٹے نمبر پر ہیں وہیں معمر یا بزرگ افراد کے اعتبار سے ہمارے ملک کا پندرہواں نمبر ہے۔ ہماری آبادی کا 4 فیصد سے زائد بزرگوں ہے اور اسی رفتار سے اضافے سے ہم آبادی کے سمندر میں اپنے ان پیاروں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہیں گے کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر اوسطا ہر نو میں سے ایک انسان / شخص معمر افراد کی صف میں کھڑا ہے۔
یوں تو یکم اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر بزرگوں کا عالمی دن ان حقوق کی حفاظت اور ان کے لئے سہولیات کی مکمل اور مسلسل فراہمی کے لیے ہی منایا جاتا ہے لیکن جہاں ہمارے معاشرے ہی بزرگوں اور معمر افراد کے حوالے سے جذبات میں احساسات میں عزت و احترام کا الگ اصول کا ر فرما ہے۔ وہاں یہ بھی ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں میں حا لات ایسے نہیں ہیں۔ ہم اکثر و بیشتر دیکھا کرتے تھے کہ مغربی ممالک و معاشروں میں ان کی حد درجہ مشینی زندگی مصروف زندگی میں بے حد معاشرتی مسائل کے سبب جہاں بزرگوں کے لئے ”اولڈ ایج ہوم“ کثیر تعداد میں بنائے گئے اور وہاں معمر / بزرگوں کو داخل کروانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اب یہ تکلیف دہ رجحان بد قسمتی سے سے ہمارے یہاں بھی ہمارے ملک و معاشروں میں بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ یوں کہیں کہ یہ فتنہ یہاں بھی سر اٹھا رہا ہے۔ ان کے لئے صحت مند اور با وقار بقیہ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جو کہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معمر افراد کی مخصوص صحت، اور خاص طور پر ذہنی صحت اور اس سے لاحق پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے منظم ہو نا چاہیے یہ بھی ضروری ہے۔ رہائش خاص طور پر معمر افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اختراعی پالیسیاں وضع کریں جن میں رہائش روزگار صحت کی دیکھ بھال، سماجی تحفظ اور مختلف دوسری سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔ یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ مٰمر افراد میں بذات خود بھی فعالیت مو جود ہونا ضروری ہے کہ وہ اپنی سی کوششیں کرتے رہیں اور اپنی ذات کی اہمیت اور افادیت کو نہ صرف خود محسوس کریں بلکہ دوسروں کو بھی محسوس کروائیں اس سلسلے میں ان میں لگن ہو نا ضروری ہے اور اگر اس میں کہیں کمی ہے تو وہ انھیں خود پر کرنا ہوگی کیونکہ یہ معمر افراد آبادی کے معاملے میں معیار زندگی تین عوامل پر منحصر ہوتا ”بشمول معمر افراد کی دیکھ بھال کرنے والا اور قوانین“ لہذا معیار زندگی کی تصدیق کے لئے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
جیسے کہ پاکستان میں بوڑھے لوگ پہلے خاندان کا بیکار شخص بن جاتے ہیں پھر خاندان پر بوجھ بن جاتے ہیں اور اس سارے عمل میں ریاست کا کوئی کردار نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ کہیں کسی طرح مددگار ہو سکتی ہے۔ عمر بڑھنے کے قدرتی عمل اور تعظیم کی بگڑتی روایات، ثقافت کی وجہ سے معمر افراد میں اضطراب اور اذیت بڑھ رہی ہے جنوبی ایشیا میں بہت سے ممالک میں شیلٹر ہومز کا تصور ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس سلسلے میں خاندان، معاشرے اور نجی شعبے کے کردار کو واضح کرتے ہوئے سماجی خدمات اور پبلک سیکٹر کی ذمہ داریوں کے درمیان فرق کرنا۔ معمر افراد کی دیکھ بھال کرنے والے معاشروں اور خاندانوں کے لئے مناسب مدد فراہم کرنا۔ نسل در نسل تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنا وغیرہ۔
اس سلسلے معمر افراد کی واحد امید پینشن ہوا کرتی ہے۔ یہ بھی تمام معمر افراد کو حاصل نہیں ہے۔ پاکستان کمیں پینشن کی سہو لت حاصل کرنے والوں کی تعداد 2 اعشاریہ 3 فیصد ہے جو انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ یہاں یہ ذکر بھی انتہائی ضروری ہے کہ ہمارے ملک میں بھی 2014 میں ایک ایکٹ ہمارے قانون ساز اداروں نے منظور کیا جو کہ بزرگوں کے تمام حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے بنایا اور پاس کیا گیا یہ سینئر سٹیزن ایکٹ 2014 کے نام سے موجود ہے۔
اس سلسلے میں اگر ہم پورے پاکستان کے تناظر میں بات کریں تو ہمیں اپنے صوبہ سندھ کے ان اقدامات کی کھل کر حمایت اور حکومت کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی جو اس نے 2014 کے منظور کیے گئے اس ایکٹ کے تمام رولز نہ صرف بنائے بلکہ اس پر عمل درآمد کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ اس عمل میں ”ہیلپ ایج اور ایس آر ایس او“ نے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں نے ابتدائی طور پر تحقیق سے لے کر تدبیر اور پھر تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کی مدد ”رولز“ طے کیے جانے سے نادرہ سے مشاورت اور اسی کے ذریعہ آزادی کارڈ کے لئے بھی احکامات جاری کروانے میں بھی ان دونوں اداروں کا بھر پور اور مرکزی کردار ادا کیا ہے جس سے معمر افراد کو بہت سی مشکلات حل ہو سکیں گی پھر سوشل ویلفیئر جیسے ادارے کو متحرک اور فعال کرنا اور مستقل نمائندہ / فوکل پرسن مقرر کرنا جو کہ اس حوالے نہ صرف شکایات کو سنے بلکہ ان کے ازالے کے لیے کام بھی کرے اس کے علاوہ شعور و آگہی پھیلانے میں ”ایس آر ایس او اور ہیلپ مسلسل کام کر رہے ہیں جن کو سراہا جانا بھی ضروری ہے۔
اس ایکٹ میں بزرگوں کے لئے ضلع کی سطح پر ہر ضلعے میں ایک اولڈ ایج ہوم قائم کیا جانا ضروری ہے۔ اس پر بھی کام جاری ہے۔ مالی معاونت حکومت سندھ کر رہی ہے جو کہ قابل تحسین عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں ہماری قدیم اور قابل فخر ثقافت اور روایات کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا اور متنوع پاکستانی معاشرے میں روایتی مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت پر مسلسل کام کرنا ہو گا۔ ہمارے بچوں کی تربیت میں ہمیں انھیں بزرگوں کی اہمیت اور احترام، دیکھ بھال اور ان کو وقت دینے پر غور کرنا ہو گا اور ہم امید رکھ سکیں گئے کہ وہ مثالی معاشرہ جنم لے سکے گا کہ جس کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جا رہی ہے۔


