کورونا میں جھوٹ کا طوفان اور مسائل


جھوٹی خبر یا سنسنی خیز خبر نئی بات نہیں ہے اور اس کا آغاز 19 ویں صدی میں یا اس سے پہلے دیکھا جا سکتا ہے۔ 1890 ء میں حریف خبر رساں ادارے سنسنی خیز کہانیوں اور افواہوں کو شائع کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے تاکہ اپنی مقبولیت اور فروخت کو بڑھا سکیں۔ اس طریقہ کار کے لئے ”زرد صحافت“ کی اصطلاح مرتب کی گئی۔ یہ 1898 ء میں امریکی ہسپانوی جنگ کا سبب بھی بنی، لوگ اخباروں میں شائع ہونے والی خبروں کی حقیقت پر سوال اٹھانے اور تقاضا کرنے لگے کہ خبر کے قابل اعتبار ذرائع تک ان کی رسائی ہونی چاہیے۔

اس وجہ سے مشہور زمانہ نیویارک ٹائمز کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ مصدقہ خبر فراہم کی جائے۔ جب تک ویب کی بنیاد پر خبروں کا اجراء نہیں ہوا تھا، زرد صحافت کی اصطلاح تقریباً متروک ہو گئی تھی جس نے اب دوبارہ سنسنی کو بڑھا دیا ہے۔ انٹرنیٹ نے لوگوں کے لئے تمام شعبوں میں مواقع فراہم کیے ہیں اور صحافت کو مکمل تبدیل کر دیا ہے لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات اور جھوٹی خبر کا پھیلاؤ بھی ہوا ہے جس کو کنٹرول کرنا بھی اب آسان نہیں رہا ہے۔

کووڈ 19 نے دنیا کے نظام کو بہت حد تک تبدیل کر دیا ہے اور اپنے ساتھ بہت سے مسائل لایا ہے۔ اس وبا کے دوران جھوٹی خبر و غلط معلومات کا پھیلاؤ اب تک سب سے زیادہ ہوا ہے۔ تبصرہ نگاروں کا مشاہدہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ناقابل بھروسا معلومات پھیلائی جا رہی ہیں اور کووڈ 19 کے ساتھ ان غلط معلومات کے پھیلاؤ کو ”جھوٹی خبر کی وبا“ سے منسوب کیا گیا ہے۔ یونیسکو نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس خصوصی عمل نے نہ صرف لوگوں کے تحفظ کو خطرے میں ڈالا ہے جو کہ پہلے ہی وبا کی وجہ سے گھبرائے ہوئے ہیں بلکہ عالمی سطح پر غلط علاج کو وبا کے علاج کی امید کے طور پر پھیلایا ہے۔

اس وبا کے حوالے سے سے جھوٹی معلومات تمام جگہوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ اس وبا کے آغاز کی کہانیاں، ممکنہ علاج، حکومتوں، مشہور شخصیات، کمپنیوں کا ردعمل اور عوامی رائے بنانے والے لوگوں کا جھوٹی خبریں پھیلانا بھی تشویشناک رہا ہے کیونکہ اس طرح عام لوگوں کا حقیقت کو قبول کرنے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے آن لائن غلط معلومات کے پھیلاؤ کی وجہ سے متھ بسٹر کے نام سے مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ مہم بلیچ پینے سے یہ وائرس اندر سے ختم ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی، درجہ حرارت میں اضافہ سے اس بیماری کی روک تھام ہو سکتی ہے جیسے دعووں کی تردید کرتی ہے۔

بعض ممالک نے بھی اس وائرس کے وجود سے بالکل انکار کر دیا ہے حالانکہ مئی تک 188 ممالک میں اس وائرس کے 5.3 بلین مثبت کیسز تھے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق یہ اب وائرس کا بنیادی مرکز بن چکا ہے۔ شعبہ صحت کے کارکنان شکایت کرتے ہیں کہ کس طرح ملک میں سماجی فاصلے کو عمل میں نہیں لایا جا رہا اور اس وبا کے دوران ان کا سب سے بڑا مسئلہ جھوٹی خبر ہے۔ سرکاری عہدے داران بھی ٹویٹر اور انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کر رہے ہیں کہ کیسے شعبہ صحت کے کارکنان نے وبا کی وجہ سے ہونے والی اموات میں مبالغہ آمیزی کی ہے اور پھر بھی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیاں بھی میدان میں اتر آئی ہیں اور جھوٹی خبر کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ فیس بک اور ٹویٹر نے دنیا کے مشہور لوگوں کی پوسٹیں وائرس کے غلط معلومات پھیلانے کی وجہ سے ڈیلیٹ کی ہیں۔

پاکستان میں جھوٹی خبر سے تشدد اور پریشانی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ پاکستان میں جھوٹی خبر سے خوف و ہراس اور تباہی پھیلانے کے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی تحقیق ”جھوٹی خبر کی ڈیجیٹل دنیا سے سچ نکالنا“ کے مطابق 88.7 فیصد صحافیوں کے سروے میں بیان کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا معلومات کا سب سے کم قابل اعتبار ذریعہ ہے۔ پاکستان میں پھیلائی گئی غلط معلومات کا بڑا سبب واٹس ایپ رہا ہے، انٹرویو کرنے والوں نے ”واٹس ایپ صحافت“ کی حقائق پر مبنی رپورٹنگ میں کمی کا سب سے بڑے ذمہ دار کے طور پر نشاندہی کی ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق ملک میں 3 جی اور 4 جی سے 76 ملین لوگ مستفید ہو رہے ہیں اور براڈ بینڈ کے 78 ملین صارفین ملک میں ہیں۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ، جو انٹرنیٹ تک رسائی، قابل خرید اور لوگوں کے ویب کے استعمال کی صلاحیت کا جائزہ لیتا ہے کے مطابق 100 ممالک میں سے پاکستان کا مقام 76 نمبر پر ہے۔ اگرچہ انٹرنیٹ ابھی تک ملک میں مہنگا اور محدود ہے لیکن جھوٹی خبر کا پھیلاؤ بالکل محدود نہیں ہے۔

ضلع ملتان میں کورونا کے آغاز کے بعد سال 2020 ء میں دیہی علاقوں میں یہ افواہ پھیلنی شروع ہو گئی کہ جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال نشتر ملتان میں کورونا کے مریضوں کو زہر کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے اور یہ زائد اموات دکھا کر حکومت فنڈز حاصل کر رہی ہے اور دوسرا کورونا سے مرنے والوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں نے کورونا ٹسٹ کرانے تک چھوڑ دیے اور کورونا میں مبتلا ہونے والے مریضوں کا گھر میں علاج شروع کرا دیا جس کے باعث گزشتہ 2 سال میں سینکڑوں افراد کورونا کے درست علاج کی بجائے زندگی کی بازی ہار گئے۔

اس طرح ویکسین بارے بھی ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی افواہیں زوروں پر رہی ہیں اور شروع کے مہینوں میں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد انتہائی کم رہی ہے جبکہ ڈویژنل انتظامیہ کے مطابق اب بھی صرف 65 فیصد آبادی کو ہی ویکسین لگائی جا سکی ہے۔ سال 2021 ء میں جب 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو ویکسین لگانا شروع کی گئی تو ملتان کے نواحی علاقہ قادر پور راں میں ویکسین لگنے سے 3 سگی بہنوں کی اموات ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور کئی چینلز نے بھی بنا تصدیق کے اس خبر کو نشر کر دیا لیکن بعد کی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ بیوی کے ساتھ تنازعہ پر بچیوں کے والد نے انہیں زہر دے کر قتل کیا ہے۔ تاہم لوگوں نے بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے بھی انتظامیہ کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہوئیں۔

اس ضمن میں محکمہ صحت جنوبی پنجاب حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وبا سے بچاؤ کی مہم اور ویکسینیشن کے دوران انتظامیہ کو کورونا کے علاج اور ویکسین کے مضر اثرات کی افواہوں کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا رہا ہے جس کی وجہ سے انتظامیہ شروع میں اپنے اہداف بھی مکمل نہیں کر سکی ہے۔ افواہوں کی تعداد سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی وجہ سے افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

انسداد وبائی امراض ملتان ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اس مرض سے بڑی وبا جھوٹی اطلاعات کی وبا تھا جس سے نمٹنا ناممکن رہا ہے اور توہمات پر یقین رکھنے والوں کی بڑی تعداد کے اس علاقہ میں ان افواہوں کی کامیابی زیادہ آسان اور اس وبا کے خلاف لڑنے والوں کی جنگ بے حد مشکل رہی ہے۔ تاہم محکمہ صحت نے عوام پر اپنا اعتماد قائم کیا ہے اور ملتان میں داخل ہونے والے 25 ہزار مریضوں میں سے 23 ہزار صحت یاب ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS