اقلیتیں کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟


سپریم کورٹ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتی نشستوں کی تعداد میں اضافے کی درخواست خارج کردی اور جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ نشستوں میں اضافہ آئین میں ترمیم سے مشروط ہے اور عدالت کے پاس پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کا حکم دینے کا اختیار نہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافہ کرنا صرف اور صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے۔ جبکہ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ملک کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

7 فروری کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی یہ خبر نظروں سے گزری۔ اس خبر کو پڑھ کر حیرانی ہوئی۔ یاد رہے کہ 2002 کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اقلیتوں کے لئے جدا گانہ طرز انتخاب ختم کر دیے تھے۔ اقلیتی نمائندے بارہا سپریم کورٹ میں اقلیتوں کے طریقہ انتخابات یعنی ووٹ کے حق کے ذریعے اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کے حق کے لئے درخواستیں دے چکے ہیں۔ مگر سپریم کورٹ کا جواب یہی تھا جو اب دیا گیا ہے۔ اور پارلیمنٹ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

حالانکہ اقلیتیں سلیکشن نہیں بلکہ الیکشن کے لئے جائز احتجاج کر رہی ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے قانونی اختیار آرٹیکل 62 کے تحت منتخب وزیراعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے سکتی ہے مگر اقلیتوں کے اس سیاسی مطالبے کے حل کے لئے پارلیمنٹ کو ہدایات دینے کی بجائے اس نے درخواست کو خراج کردی حالانکہ سپریم کورٹ چاہتی تو ایکٹ 184 کے تحت اپنی قانونی حدود میں رہ کر اقلیتوں کے اس مطالبے کے لئے پارلیمنٹ کو تجویز دے سکتی تھی۔ کہ پارلیمنٹ اقلیتوں کے اس مطالبے پر غور و حرض کرے۔

پچھلے 74 سالوں سے اقلیتوں اور ملکی سیاست کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ کبھی قومی دھارے سے باہر تو کبھی قومی دھارے میں رہنے کی بات کی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقلیتیں قومی دھارے میں تھیں کب؟ سلیکشن ہو یا الیکشن جب اس کا حکومتی امور اور قانون سازی میں کوئی عمل دخل ہی نہیں تو پھر قومی دھارا کسے کہتے ہیں۔ ایک سازش کے تحت اقلیتوں کو سیاسی عمل سے دور رکھ کر انہیں سیاسی طور پر لاچار بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اقلیتیں خوف میں مبتلا ہیں۔ ان کی کمسن بچیاں محفوظ نہیں۔ وہ ان گنت مشکلات و مسائل سے دو چار ہیں

1985 میں ڈکٹیٹر ضیا الحق نے قانون میں ترمیم کر کے اقلیتوں کے لئے جداگانہ انتخابات وضع کیے ۔ مگر اس میں پایا جانے والا ابہام دور نہ کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے امید وار کے لئے پورا پاکستان اور صوبائی اسمبلی کے لئے پورا صوبہ تھا۔ حلقہ بندیاں نہ ہونے کی وجہ سے نمائندوں کو سخت دشواریاں پیش آئیں۔ اقلیتی عوام کو اپنے نمائندوں تک رسائی انتہائی مشکل ہو گئی۔ اگرچہ اس سے سیاسی پارٹیاں پھر سے متحرک ہوئیں اور اقلیتوں میں سیاسی شعور بیدار ہوا۔

اقلیتی امیدواروں نے اپنی اپنی الگ سیاسی پارٹیاں بنا لیں مگر سیاسی نا بالیدگی کی وجہ سے ہر گلی محلے اور خاندانوں میں گروپ بندیاں شروع ہو گئیں۔ جس سے قومی یکجہتی کو سخت نقصان پہنچا۔ مسلم نمائندوں سے ان کا تعلق ختم ہو جانے کی وجہ سے اقلیتوں کو صرف اپنے ہی نمائندوں پر انحصار کرنا پڑا۔ جس سے مسائل کے حل کے لئے بہت مشکلات کا سامنا رہا۔

2002 میں جنرل پرویز مشرف نے جداگانہ انتخابات ختم کر کے مخلوط انتخابات بحال کر دیے۔ اور اقلیتوں کے لئے 10 نشستیں مختص

کر دیں۔ یوں سلیکشن سسٹم اقلیتوں پر تھوپ دیا گیا۔ گویا وہ اقلیتوں کے نمائندے تو ہیں مگر بے اختیار مہرے۔ جن کے پاس اقلیتوں کے تحفظ اور قانون سازی میں کوئی کردار نہیں۔ رہی قومی اور صوبائی نشستوں میں اضافے کی بات تو وہی دس نشستیں اقلیتوں کے لئے ہیں جبکہ مسلم نشستوں میں اضافہ کے ساتھ اب قومی اسمبلی میں کل 272 نشستیں ہیں جن میں 60 خواتین اور 10 اقلیتوں کے لئے مخصوص ہیں۔ اقلیتوں کی نشستوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

مسیحیوں کی آبادی ہندوؤں سے کم اور وہی 25 سال پرانی ہی بتائی جا رہی ہے۔ سرتاپا احتجاج کے باوجود اقلیتوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ آج وہ حکومت کے رحم و کرم پر اپنی زندگیاں بسر کر رہی ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کے لئے قانون بننے ہی نہیں دیا جا رہا۔ سری لنکن کی سیالکوٹ میں ہلاک کے بعد انٹر فیتھ کی باتیں کی جا رہی ہیں مگر عملاً کچھ نہیں کیا جا رہا۔ سپریم کورٹ کے پاس اختیارات نہیں اور پارلیمنٹ قانون سازی کرنا نہیں چاہتی۔ آخر اقلیتیں کس کا دروازہ کھٹکھٹائیں؟

Facebook Comments HS