علی وزیر کی پیشی اور کم و بیشی


ہم اکثر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ وغیرہ میں آئے دن دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں اور کیسز کے دوران جو ججز کی آبزرویشن یا کورٹ صحافیوں کا آنکھوں دیکھا حال سوشل اور جنرل میڈیا پر سنتے ہیں تو بہت کچھ انڈر پرسیڈنگ کیس کے حوالے سے پیشگی سامنے آجاتی ہے۔ ویسے بھی جو ڈاکومنٹس عدالت میں پروڈیوس ہو جاتے ہیں خواہ وہ ایف۔ آئی آر کی شکل میں ہو یا پھر پروسیکیوشن کی جانب سے بیانات یا ڈیپوزیشن کی صورت میں ہو وہ پبلک پراپرٹی بن جاتے ہے اور قانونی طریقے سے بحکم عدالت اس کی کاپیاں لی جا سکتی ہیں۔ پھر وکیل کی حیثیت سے یہ مواقعے آپ کو بار بار دکھنے اور سننے کے لئے ملتے ہیں۔ کہ یا تو آپ کے کیس کی باری سے پہلے یا پھر آپ کے کیس کی باری کے بعد آپ کو کئی کیسز کو دیکھنے اور سننے کا موقع ملتا ہے۔ کل جس عدالت میں میرے ملزم کی پیشی

تھی اس عدالت میں علی وزیر کی بھی پیشی تھی جس کی وجہ سے مجھے بتایا گیا کہ میرا کس جج صاحب نے ایڈجورن کرایا ہے کیونکہ علی وزیر کے کیس کو چلنا ہے۔ جس پر عدالت میں، میں بھی کیس کی ایویڈنس پروسیڈنگ دیکھنے کے لئے بیٹھ گیا۔ آج کا گواہ کیس کے بنیادی گواہوں میں سے ایک بنیادی گواہ تھا۔ جس نے پی۔ ٹی۔ ایم جلسے کی کوریج کی تھی۔ جن کو بقول ان کے اس جلسے کی کوریج کے لئے بھیجا گیا تھا۔ جس نے اپنے بیان کے سپورٹ میں سی۔

ڈی۔ کیمرا اور اپنا لیا گیا بیان عدالت میں پیش کیا۔ کراس یا جرح کے دوران نہ تو سی۔ ڈیز سیل تھی۔ نہ وہ یو۔ ایس بی پیش ہوا جس سے وہ رکارڈنگ سی۔ ڈی میں کنورٹ کیا گیا تھا۔ نہ پیش کردہ سی۔ ڈی کا کوئی مینو سکرپٹ یا ٹرانسکرپٹ تھا۔ نہ فارینسک رپورٹ تھی۔ شاید اگر بعد میں تفتیشی افسر پیش کرے لیکن اگر ان سب چیزوں کا ذکر ہی چالان میں نہ ہو تو پھر ان کی قانونی حیثیت ہوگی کیا؟ نہ کوئی لوگو اس گواہ نے پیش کیا کہ جس سے پتہ چلے کہ وہ میڈیا پرسن یا صحافی کے بھیس میں اگر گیا ہے تو اس نے کس طرح کا لوگو استعمال کیا۔

بطور وکیل انسداد دہشت گردی کے کیسوں میں یا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں، میں نے اپنے بیس بائیس سالہ پریکٹس میں زیادہ تر یا اکثر دیکھا ہے کی یہاں پالیسی میٹر زیادہ ریفر کیے جاتے ہیں۔ اور یہ بھی تجربے میں آیا ہے کہ ان ہی کیسز میں اکثر ضمانتوں نہیں ملتی البتہ کیسز کو جلدی جلدی چلانے کی سعی کی جاتی ہے۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے یا مشاہدے اور قانونی تجربے سے گزرا ہے کہ جب ان کیسز میں یہ ملزمان بری یا ایکوٹ ہوتے ہیں یا پھر کسی کیسز میں ان کو ضمانت ملتی ہیں تو ریلیز آرڈر کے وقت ٹرائل کورٹ کو جوابی لکھا ہوا آتا ہے کہ ملزم کسی دیگر کیسز میں انوالو ہے جیسے کہ علی وزیر کے اس کیس میں بھی ہوا جس کا ذکر میں نے گزشتہ کالم میں ایک حوالے سے کیا بھی ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اکثر وکلاء بیل کی بجائے کیس چلانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ علی وزیر کا کیس بالکل ایکویٹل کا کیس ہے اور ابتدائی رپورٹ اور دیگر بیانات میں جو گواہی ہے وہ ناکافی اور غیر متعلقہ ہے۔ کیونکہ ان پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان کا کوئی عملی یا ردعمل کے طور پر کسی بھی اکلوتے فرد نے بھی جو اس جلسے میں شریک تھا مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کیا اور بڑے پر امن طریقے سے ڈسپرس یا منتشر ہو گئے۔

اب اگر کوئی کسی کو ورغلاتا یا انسٹیگیٹ یا سازش کروانے کی سعی کرتا ہے اور اس پر کوئی ردعمل نہیں ہوتا اور وہ بھی ان کی مادری زبان میں تو یا تو اس شخص میں ڈلیور کرنے کی صلاحیت نہیں یا پھر عوام میں سمجھنے کی استطاعت نہیں یا پھر بکری اور شیر کے مشہور حکایتی مکالمے کے مصداق خود سے پانی گدلا کرنے اور جواباً بیانئے کو زبان درازی کا رنگ دے کر ایک شکاری کی مانند شکار کے گر سے ان کو خاموش کرانا ہے۔ لیکن قانون، سیاست اور اخلاق یہ متوازی چلنے کے تین نشانات ہیں یہ تینوں ایک دوسرے پر تکیہ کرتے ہیں اور اگر کسی کے ساتھ ان تینوں نشانات سے ہٹ کر کوئی غیر عمل ہو رہا ہو تو غیر کا سابقہ ان تینوں نشانات کا ہمنوا بن جاتا ہے پھر عوام اور خواص ایسے عمل اور رویہ کو غیر قانونی، غیر سیاسی اور غیر اخلاقی عمل اور رویہ گردانتے ہیں۔

Facebook Comments HS