نیا پاکستان نمبر ایک


پاکستان کو آزاد ہوئے آج قریباً 73 سال گزر چکے ہیں۔ اور اسے اسلامی جمہوری ملک ہوئے قریب 64 سال ہو چکے۔

دنیا میں ایسی بہت ساری اقوام ہیں جو ہم سے بعد میں آزاد ہوئیں اور آج ترقی کے راستے پر چلتے ہوئے ایسی منازل طے کر چکی ہیں جس کا شاید ہم گماں بھی نا کر سکیں۔ ہم میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، دوسرے اور ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کی طرح ہمارے بھی دو ہاتھ، دو پاؤں، دو آنکھیں، ناک، اور دماغ بھی ہے۔

اور یہ سب اعضاء ویسے ہی کام کرتے ہیں، اور ہم ان سے بالکل باقی دنیا کے لوگوں کی طرح ہی کام لیتے ہیں

ہاں۔ مگر ہمارے جسم میں دماغ ایک ایسا حصہ ہے جس کا استعمال ہماری آبادی کے شاید دو فیصد لوگ ہی کرتے ہیں۔ ہمارا اندازہ دو فیصد سے بڑھ بھی سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس سے کم بھی ہو۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ دماغ کے استعمال کا کام دوسرے لوگ کریں ہمیں یہ مشقت نا کرنی پڑے۔ ہمیں بس بتا دیا جائے کہ یہ کرنا ہے، ایسے کرنا ہے اور ہم بس کوہلو کے بیل یا گدھے کی طرح کرنے پر جت جائیں۔

سوچنے، غور و فکر سے ہماری جان جاتی ہے۔ ہمیں بس کھانا، کرنا، اور ماننا آتا ہے اس کے علاوہ ہمیں کیا مصیبت ہے کہ آ گے کا سوچیں۔ ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں پیسا، قدرتی دولت، سب ہمارے پاس موجود ہے، نہیں ہے تو بس شعور نہیں ہے۔ دماغ کا استعمال نہیں ہے۔ ہمیں سیکھنا ہے اپنے دماغ کا استعمال۔ اور یہ سیکھنے کا جوکھم بھی ہمیں خود ہی اٹھانا پڑے گا۔

دنیا کی دوسری اقوام کی ترقی کا سفر بے شک بہت کٹھن رہا۔ انھوں نے بہت کچھ کھویا، کئی سالوں کی جنگیں مسلط کیں اور جنگیں جھیلیں، بہت ساری غلطیاں کیں، غلام بنے، اور غلام بنائے تب جا کر کہیں ان کے ہاں شعور نے جنم لیا، شعور نے کروٹ لی۔ سب سے اہم بات کے انہوں نے ان سب غلطیوں سے سبق سیکھا، جینا سیکھا۔ بے شک وہ اپنوں کے لیے بہتر طرز زندگی حاصل کرنے میں بہت حد تک کام یاب رہے ہیں۔ ہاں مگر ابھی تک وہ انسانیت کے اس مقام کو حاصل نہیں کر سکے جس سے ان کے اندر دوسروں کے لیے بھی وہی جذبہ بیدار ہو پاتا، جو وہ خود کے لیے رکھتے ہیں، مگر وہ اب بھی شعور کی ایسی منازل طے کر چکے ہیں جن سے ہم پاکستانی شاید ہزار سال دور ہوں گے یا شاید موجودہ ڈگر پر چلتے ہوئے ان تک کبھی نہ پہنچ سکیں۔

اگر ہم اپنے ملک کے عوام کو ایک مثالی شعور سے آشنا کروانا چاہتے ہیں تو انہیں آدمی سے انسان اور ہجوم سے قوم بنانا ہو گا اور اس کے لیے بہت کڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ اور یہ کڑے فیصلے یقیناً اس ملک کے چلانے والوں اور بہت سارے دوسرے لوگوں کے لیے اچھے نہیں ہوں گے، جن میں قانون، جوڈیشل، ادارے، سرمایہ دار، جاگیر دار، مذہبی رہنما، سیاستدان ان سب کو یہ فیصلے منظور نہیں ہوں گے یا انہیں ہضم کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مگر جس کو اس ملک و قوم کی فکر ہو گی وہ ضرور ان فیصلوں کا احترام کرے گا اور جہاں ہو سکا ساتھ دے گا۔ اس ملک پاکستان کو ایک تعلیمی اور عملی درسگاہ بنانا ہو گا۔ تعلیم بھی وہ نہیں جس میں بچوں اور نوجوانوں کو محض کتابیں پڑھائی جاتی ہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ، جس میں پہلے آدمی کو انسان اور پھر عوام کو قوم بنایا جاتا ہے۔ ہمیں بنی بنائی چیزوں کی اس قدر عادت پڑ چکی ہے کہ ہم سوچ بھی اپنی نہیں سوچتے، بس دوسرے کی سوچ کو اپنی سوچ بنا لیتے ہیں۔

دنیا جس ترقی کو ترک کر کے، جن سوچوں کو استعمال کر کے آگے بڑھ چکی ہوتی ہے، جو چیزیں وہ کباڑ میں پھینک دیتے ہیں وہ چیزیں ہمارے ملک میں ترقی بنا کر درآمد کر لی جاتی ہیں اور ہم انہیں اپنی ترقی اور سوچ بنا کر نہ صرف اپنا لیتے ہیں بلکہ اتراتے بھی ہیں۔ یہ بات نہیں کہ ہمارے ملک میں اذہان کی کمی ہے، اذہان تو بہت ہیں مگر ان کا استعمال نہیں سکھایا جاتا نہ ہی ان کو استعمال کرنے کی کوئی وجہ اور جگہ فراہم کی جاتی ہے۔ جو لوگ اپنا دماغ استعمال کرنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں مغربی دنیا انہیں پیسا دے کر اپنے لیے استعمال کرواتی ہیں۔ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے ہوتے بلکہ انہیں صحیح طرح سے استعمال کر کے اپنا فائدہ کرتے ہیں اور اپنا فائدہ سوچنا ہر انسان، ہر نسل و قوم کا حق ہے۔

تو ایسا کیا کیا جائے کہ پاکستان بھی ترقی ٔ معکوس کی ڈگر سے نکل کر اصل ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے؟ اس کے لیے ہم نے ایک ماڈل بنایا ہے جس کے خد و خال یہ ہیں :

( جاری ہے )

Facebook Comments HS