چھوٹی زبانوں کی ترقی میں ٹیکنالوجی کا استعمال


ہر سال دنیا میں 21 فروری کو زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ 1992 ء کے بعد اقوام متحدہ میں زبان و ثقافت کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی سطح پر ثقافتی تنوع پر بحث ہونے لگی تھی۔ آخرکار17نومبر 1999ء کو چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کو معدوم ہونے سے بچانے کی خاطر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایجوکیشن سائنٹیفیک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن ( (UNESCOنے سال میں ایک دن زبانوں کے دن کے طور پر منانے کے لیے منظور کیا۔

اقوام متحدہ میں اس دن کو منانے کی منظوری کے بعد بنگلہ دیش کی درخواست پر ا2 فروری کی تاریخ کو اس دن کو منانے کے لیے منتخب کیا گیا (21 فروری کو یہ دن منانے کی اپنی ایک تاریخ ہے ( اقوام متحدہ میں منظور شدہ اس قرارداد کا مقصد دنیا میں ثقافتی رنگا رنگی اور کثیراللسانی (language and culture diversity) معاشرے کی تشکیل تھی۔ سنہ 2000 ءکے بعد سے اقوام متحدہ کی تاکید پر اس دن کو عالمی اور ملکی سطح پر باقاعدہ گی سے منایا جاتا ہے ۔

ماں بولی کی قومی دن کی اہمیت کو مدنظر رکھ کر اقوام متحدہ کے رکن ممالک ہر سال اس دن کے لیے ایک موضوع (تھیم) کا تعین کرتے ہیں۔ پھر مقررہ دن اس موضوع پر بات کی جاتی ہے۔ اس سال ماں بولی کے لیے عالمی دن کا موضوع ”ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دوسری زبان کو سیکھنے میں آسانیاں اور چیلنج“

(Using technology for multilingual learning: challenge and opportunity) رکھا گیا ہے ۔

دنیا میں روزانہ کی بنیاد پر زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے مشینیں ایجاد ہو رہے ہیں۔ اب تو دنیا میں زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں بچا جس میں مشینوں کا استعمال نہ ہو رہا ہوں۔ یہیں وجہ ہے زبانیں سیکھنے، سکھانے اور زبان کو ڈاکومنٹ کرنے، تحریر میں لانے، بنیادی آوازوں کا تعین کرنے اور اصوات کی پیمائش کے لیے بھی مشینوں کا استعمال عام ہو رہا ہے۔ جدید دنیا میں یہ سب مشینیں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کلاس روم کا بھی لازمی حصہ ہیں۔

زبانوں کی ترقی اور زبان سکھانے میں جو ٹیکنالوجی عام استعمال ہوتے ہیں ان میں کمپیوٹر، ساونڈ ریکارڈر، آوازوں کو ناپنے کی مشین یا صوتی آلات، ترجمہ کرنے کے لیے سافٹ وئیر، کمپیوٹر میں لکھنے کے لیے فونٹ، لغت نویسی کے لیے سافٹ وئیر، لکھائی کو صحیح کرنے کے لیے سپیلنگ چیکر، اور اینڈرائیڈ فون میں لکھنے کے لیے مختلف سافٹ وئیر (ایپ) استعمال ہوتے ہیں۔ جو کمپیوٹر پروگرام ( سافٹ وئیر) زبان سکھانے، زبان سیکھنے اور زبان کی کام کو جانچنے میں استعمال ہوتے ہیں ان کا تعلق کمپیوٹیشنل لنگوسٹک سے ہے۔ موجودہ وقت میں زبانوں پر کام کرنے والے ریسرچر اور کارکنوں کے لیے مشینوں کی صورت میں سہولتیں موجود ہیں لیکن یہ ان زبانوں کے لیے ہیں جو ترقی یافتہ ہیں اور ان کے لیے یونی کوڈ فونٹ، کی بورڈ موجود ہیں جو مائیکروسافٹ ورڈ کے پروگرام میں شامل ہیں۔

زبانوں کی ترقی کے لیے بہت ساری جدید ایجادات کے باوجود پاکستان میں بہت ساری زبانیں ایسی ہیں جو ابھی تک کسی شمار میں ہیں اور نہ حکومتی ریکارڈ میں ان زبانوں کا کوئی ذکر موجود ہے۔ میں یہاں پر ان چھوٹی زبانوں کی بات کرنا چاہوں گا جو ابھی تک لکھائی میں نہیں آئی ہیں یہاں پر سوال ان زبانوں کا بھی ہے جن کے بولنے والے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ نہ کچھ اپنی زبانوں کی ترقی کے لیے کرتے رہتے ہیں لیکن ان کا یہ کام ان کی ماں بولی کو بچانے اور زندہ رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ یہاں پر سوال ان زبانوں کا بھی ہے جو لکھنے میں آئے ہیں یا لکھائی تو موجود ہیں لیکن اس کی لکھائی اس معیار کو نہیں پہنچے ہیں جو اس زبان کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔

دنیا میں زبانوں کی ترقی کے لیے جدید مشینوں کی صورت میں بہت ساری ایجادات ہونے کے باوجود پاکستان میں مقامی چھوٹی زبانوں پر کام کرنے والے ریسرچر اور کارکنوں کی مشکلات ابھی تک کم نہیں ہوئی۔ اس کی بڑی وجہ چھوٹی زبان بولنے والی کمیونٹیز کے لیے جدید تعلیم کی سہولت نہ ہونا اور ان کی جدید مشینوں تک رسائی اور ان مشینوں سے استفادے کے قابل نہ ہونا ہے۔ اس کی وجوہات جو مجھے سمجھ آئی ہیں مندرجہ زیل ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چھوٹے زبانوں سے تعلق رکھنے والے اکثر کمیونٹیز کا تعلق شہر سے دور پسماندہ علاقوں سے ہیں۔ اس وجہ سے دیہات میں وہ لوگ جدید سہولیات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں یہیں وجہ ہے کہ شہروں سے دور گاؤں میں رہنے والے لوگ جدید تعلیم کے بنیادی سہولتوں جیسا کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے استعمال سے واقف ہی نہیں ہیں۔

جدید مشینوں سے نا واقف ہونا: موجودہ دور میں کمپیوٹر اور جدید سافٹ وئیر جو زبانوں کی ترقی کے لیے استعمال ہوتے ہیں سے ناواقف ہونا زبانوں کو ترقی دینے کے کام میں رکاوٹ ہے۔ دنیا ترقی کرچکا ہے اور زبانوں کی ترقی میں استعمال ہونے کے لیے بہت سارے جدید ایجادات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ لیکن چھوٹی زبانوں پر کام کرنے والے مقامی ریسرچر ان جدید سہولیات اور مشینوں کے استعمال سے ابھی تک نا واقف ہیں۔

کمپیوٹر میں لکھنے کے لیے پروگرام کا نہ ہونا۔ چھوٹی زبانوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان زبانوں میں لکھنے کے لیے کوئی معیاری رسم الخط موجود نہیں ہے اور کچھ زبانوں میں تو ابھی تک لکھائی کا شروع بھی نہیں ہوئی ہے۔ یہیں وجہ ہے کہ چھوٹی زبانوں کو کمپیوٹر میں لکھنے کے لیے بھی ابھی مشکلات درپیش ہے۔ کیونکہ جب تک رسم الخط معیاری نہیں ہوں اور بنیادی حروف متفقہ نہ ہوں تو ان کے لیے کمپیوٹر میں معیاری فونٹ بنا کر لکھائی میں لانا ایک مشکل امر ہے۔

زبانوں میں لٹریچر، ادب اور لسانیات کے کام کا تعلق یونیورسٹیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں یونیورسٹیز زبانوں پر ریسرچ کے کام کو ابھی تک نہیں اپنائے ہیں۔ بہت سے یونیورسٹیوں میں لنگویج ریسرچ کے لیے کوئی ڈیپارٹمنٹ موجود نہیں ہے۔ جس میں طالب علموں کی رہنمائی ہوں کہ زبانوں کو ترقی دینے اور ثقافت کو ڈاکومنٹ کا کام زبانوں کی سنٹکس پر کام کس طریقے سے کیا جاتا ہے اگر کہیں ڈیپارٹمنٹ موجود بھی ہیں، تو وہ بہت محدود پیمانے پر ہیں اور اس میں چھوٹی زبانوں کے ریسرچر کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔

ٹریننگ اور تربیت: پاکستان ایک کثیراللسانی ملک ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مختلف زبانوں کی ترقی کے لیے کام کرنے اور ثقافتوں کو ڈاکومنٹ کرنے والے مقامی ریسرچروں کی ٹریننگ اور حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ جہاں پر مقامی ریسرچر کو کمپیوٹر اور دوسرے جدید آلات جو زبانوں کی ترقی کے لیے استعمال ہوتے ہیں کی ٹریننگ دی جاسکیں۔

حکومتی سرپرستی کا نہ ہونا۔ چھوٹی زبانوں کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی کا نہ ہونا سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے مقامی ریسرچر کے لیے روزگار کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کی طرف سے رضاکارانہ طور پر کیے گئے کام کا وہ معیار نہیں بنتا جو ان زبانوں کی وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہیں وجہ ہے ترقی کی اس دور نے پاکستان میں چھوٹی زبانوں کے لیے معدومیت کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

چھوٹی زبانوں کا تعلیم کے لیے استعمال نہ ہونا۔ پاکستان میں تعلیم اردو اور انگریزی زبان میں دی جاتی ہے۔ جب ایک بچہ سکول میں داخل ہوتا ہے تو اس دن سے اس کی نظر میں اس کی زبان اور ثقافت کی اہمیت کم ہوتی ہے۔ کیونکہ جو بچہ گھر سے پڑھ کے آتا ہے تو اس کو سکول میں پہلے دن سے ہی پرے رکھ دیا جاتا ہے ۔ اس کے لیے ایک طرح کا معاشرہ ترتیب دیا جاتا ہے جو اس کے گھر کے ماحول اور معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے لیکن بعد میں والدین یہ شکایت کرتے پھرتے ہیں کہ آج کل کے بچے اپنی معاشرتی اقدار سے بیگانے ہوتے جا رہے ہیں۔

اب یہ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے مثبت تبدیلیوں کا ادراک کرتے ہوئے زبانوں اور ثقافتوں کی شکل میں موجود ان قومی ورثوں کو بچانے اور اپنی شہریوں کو بہتر مقام دینے کے لیے ریاست اپنا کردار ادا کریں۔ یہ اقدام ایک ایسے ادارے کی شکل میں ہو سکتا ہے۔ جس کا کام چھوٹی زبانوں کی بہتر ترویج اور ترقی کے لیے جدید مشینوں سے کام لینا ہوں۔ ان کے ذریعے سے مندرجہ زیل بنیادی اور آسان کام کر کے زبانوں کے لیے ترقی کا راستہ کھولا جاسکتا ہے۔

· ایک ادارہ قائم ہوں جو جدید زمانے کی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان چھوٹی زبانوں کی وہ حروف جن کو کمپیوٹر میں لکھنے کے لیے ابھی تک یونیکوڈ نہ ملا ہوں۔ ان کو یونی کوڈ دلانے کے لیے کام کریں۔

· جدید کمپیوٹر ماہرین سے مل کر چھوٹی زبانوں کو کمپیوٹر میں لکھنے کے لیے فونٹ بنائیں جو اس زبان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہوں۔

· چھوٹی زبانوں کی ان فونٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کی بورڈ بنائیں جو ان زبانوں میں لکھائی کے نظام کو پورا کریں۔

· فونٹ بنانے کے بعد اس فونٹ کو مائکروسافٹ ورڈ کے ساتھ رجسٹر بھی کریں تاکہ یہ معیاری ہوں اور وقت کے ساتھ یہ اپڈیٹ بھی ہوتے رہیں۔

· لکھنے والوں کو مزید بہتر مدد کے لیے معیاری رسم الخط والے زبانوں کے لیے سپیلنگ چیکر ترتیب دیے جائیں یہ سپیلنگ چیکر کمپیوٹر میں لکھنے والوں کی املاء صحیح کرنے کے لیے استعمال ہوگی اس سے لکھنے میں یکسانیت پیدا ہوگی۔

· اس ادارے کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہوں کہ دنیا میں جو سافٹ وئیر اور پروگرام زبانوں کی ترقی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں ان کو مقامی لکھاریوں اور ریسرچر کو سکھانے اور ان کو ٹرین کرنے کا بھی بندوبست ہوں۔

اگر یہ کام جدید دنیا سے تقابل کر کے دیکھے جائیں تو یہ کام کمپیوٹر ماہرین کے لیے بہت ہی بنیادی سطح کے کام ہیں۔ لیکن اگر یہ سافٹ وئیر اور کمپیوٹر پروگرام پاکستان میں بسنے والے چھوٹی زبانوں کی ترقی کے لیے کام کرنے والے ریسرچروں کو میسر ہوں تو یہ دن اس زبانوں کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور ترقی کا آغاز بھی۔

Facebook Comments HS