عادت سے لت تک
معاشرتی حیوانیت کے تاج کو سر پر سجانے والے خاکی پتلے کے ایک ہی کام کو بار بار دہرانے کے عمل کو وہ درجہ حاصل ہے جسے سادہ الفاظ میں عادت کہا جاتا ہے۔ عادت بذات خود اچھی ہے نہ بری مگر اس کی برائی اور اچھائی کا انحصار اس چیز کی نوعیت پر ہے جس کے ساتھ یہ پوست ہوتی ہے۔ عادت سے لت تک کے سفر کا گہرائی سے جائزہ لینے سے قبل عادت کی وجوہات کو زیر بحث لانا ضروری ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ عادت سے لت تک کے سفر کا آغاز عادت کی وجوہات میں ہی پنہاں ہو۔
سب سے بڑی وجہ کسی شخص کے ایسے عمل کو اپنانے کی کوشش کرنا جو اس شخص کی شخصیت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کے گر کا مالک ہو۔ لوگ اس عمل کو اپنی شخصیت کا حصہ بنانے کی خاطر بار بار دہراتے ہیں تو اس عمل کی نوعیت میں تبدیلی رونما ہونا شروع ہو جاتی ہے اور وہ عادت کا سا روپ دھارنے لگتا ہے۔ اگر وہ عمل دوسرے لوگوں کی شخصیت کے موافق آئے تو سٹائل ورنہ بری عادت یا خامی کا گواہ بن کر اپنے نقلی پن کا راگ الاپنا شروع کر دیتا ہے۔
دوسری وجہ لوگوں کو اپنی شخصیت، اعلیٰ خاندان، اعلیٰ نسل وغیرہ سے متاثر کرنے کی خاطر کچھ ایسی چیزوں کی طرف مائل ہونا ہے جن کا بار بار استعمال عادت میں بدل جایا کرتا ہے۔ مثلاً ایک شخص جس کا تعلق امیر خاندان سے ہے وہ لوگوں کو اپنی امیری دکھانے کی خاطر سگریٹ، تمباکو اور شراب کا استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے اور بار بار کرتا ہی چلا جاتا ہے تو ایک خاص وقت کے بعد وہ اس کی عادت کا حصہ بننا شروع ہو جاتا ہے۔
عادت کی معراج کو لت کہا جاتا ہے۔ جب آدمی عادت سے مجبور ہو کر اس کو بار بار سر انجامی سے ہمکنار کرتا رہتا ہے تو ایک درجہ ایسا آتا ہے کہ وہ عادت کو مکمل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ اس حالت کو عادت کی معراج اور لت کا پہلا درجہ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی جس کا ذکر درج والا حصہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں وہ اپنی دولت کی نمائش کرنے کی خاطر ہر روز سگریٹ اور شراب وغیرہ کا استعمال کرتا ہے تو ہو گا یوں کہ دو تین ہفتہ کے بعد وہ مجبور ہونا شروع ہو جائے گا اور ایک ماہ کے اندر اندر سگریٹ اور شراب پئے بغیر چند لمحے بھی سکون سے نہیں بیٹھ پائے گا۔ اسی حالت کو عادت کی انتہا اور لت کی ابتدا کہا جاتا ہے۔
سب عادات بری نہیں ہوتیں مگر لت چاہے وہ اچھی چیز ہی کی کیوں نہ ہو بری بلکہ تباہ کن اور بدترین چیز ہے۔
مثال کے طور پر ایک بچہ کو کتب بینی کی عادت ہے اور وہ روز کتب کا مطالعہ کرتا ہے۔ یہ عادت بہت اعلیٰ ہے مگر کتب بینی کی لت اس سانپ سے بھی زہریلی ہے جس کے ایک وار سے ہی آدمی عالم ثبات کی جانب کوچ کر جایا کرتا ہے۔
قرآن پاک میں خدا تعالی نے بار بار میانہ روی اختیار کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ ہم سب نے پڑھا مگر سمجھنے سے قاصر۔ اسی وجہ سے ہی تو فرمایا گیا ہے کہ غور و فکر کرو۔ اگر غور کیا جائے کہ میانہ روی کیا ہے تو معلوم ہو گا، عادت اور لت کا درمیانی نقطہ۔
اگر آپ ایک کام کو ہر روز سر انجام دیتے ہیں مگر کچھ وجوہات کی بنا پر دو تین دن دہرانے سے قاصر رہتے ہیں، مگر آپ کو بے چینی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عادت ابھی لت میں تبدیل نہیں ہوئی۔ اگر معاملہ الٹ ہے تو پھر غور و فکر کی ضرورت ہے
آخر میں اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ کوئی کام عادتاً ہر روز سر انجام دیتے ہیں تو تنہائی میں ایک مرتبہ بیٹھ کر یہ تجزیہ ضرور کیجئے گا کہ وہ عادت ہی ہے کیا؟


