تصوف اور صوفیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے
مدت دراز سے استعمال ہونے والی ’تصوف‘ کی اصطلاح سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ صوفیاء کے بارے میں بھی کوئی نہ کوئی رائے ہمارے ذہنوں میں ہے۔ کہیں تصوف اور صوفیاء سے متعلق موضوعات علمائے کرام اپنے علم، تحقیق و تجربہ کے نچوڑ کی صورت میں سامنے لاتے ہیں تو کہیں یہ موضوعات ہمارے پڑھنے، سننے یا براہ راست مشاہدہ میں آتے ہیں۔ جدید دنیا میں تو ویسے بھی میسر ذرائع ابلاغ و معلومات کی بہتات ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ان سب کے باوجود ہم اپنے آپ کو یہ تسلی دے سکتے ہیں کہ ہم نے تصوف اور صوفیاء کو بقدر ضرورت سمجھ لیا ہے؟ یہاں موضوع صرف تصوف و صوفیاء سے متعلق عمومی فہم تک محدود ہے۔ کسی صوفی یا بزرگ سے عقیدت، کسی سلسلہ تصوف سے وابستگی، یا تصوف پر کاربند ہونا یا نہ ہونا اس تحریر کے موضوع سے خارج ہیں۔
سنجیدہ علمی حلقوں میں اگر ہم تصوف و صوفیاء سے متعلق موضوعات پر شوخ بیانی، دل نشیں انداز گفتگو، متاثرکن ماحول، لچھے دار الفاظ کے سحر انگیز پیرائے میں استعمال، اور سامعین، ناظرین، حاضرین و متاثرین کے ہجوم کی بات سے متاثر نہ ہوں تو تصوف و صوفیاء کے ناقدین میں یہ بات مشترک ضرور نظر آئے گی کہ یہ سب کے سب وہ لوگ ہیں جن کا تصوف سے براہ راست کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے۔ یہ ہزارہا علوم کے عالم و فاضل ہو سکتے ہیں، عین ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی خود کو صوفی بھی کہے، ان کی واجبی عزت و خدمات برحق مگر یہ بہرحال صوفی نہیں ہو سکتے۔
عام سمجھنے کی بات ہے کہ ایک ایسا علم جس کے آپ عالم ہی نہیں ہیں، اس علم کی الف، بے، تے تک سے بھی واقف نہیں ہیں، اور اس پر آپ تنقید کر رہے ہیں تو آپ کی تنقید کی کیا حیثیت، وقعت و اہمیت ہو سکتی ہے۔ خوشگوار حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ تصوف و صوفیاء کے حق میں دلائل دینے والوں کا حال بھی کسی طرح ناقدین تصوف سے مختلف نہیں ہے۔ تصوف و صوفیاء کی ایسی حمایت بذات خود بہت سی غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہے۔ المختصر دونوں اطراف سے مباحث و دلائل کے تیر تصوف کو داغدار اور صوفیاء کی شناخت مسخ کرتے ہیں۔
بانی سلسلہ عالیہ تو حیدیہ حضرت خواجہ عبدالحکیم انصاری ؒ نے اپنی کتاب ’چراغ راہ‘ میں تصوف اور صوفیاء کا ایک جامع و آسان فہم تعارف بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق علمائے کرام و صوفیائے عظام کی بیان کردہ تصوف کی تعریفیں تین باتوں پر مشتمل ہیں۔ ایک یہ کہ ’تصوف کا مقصد وحید اخلاق حسنہ میں کمال پیدا کرنا ہے‘ ۔ دوسری یہ کہ ’تصوف کا موضوع و مقصد ہے اللہ کی معرفت حاصل کرنا ہے‘ ۔ تیسری یہ کہ ’تصوف علم حقائق کا نام ہے۔ یعنی کائنات و ماورائے کائنات جو کچھ بھی موجود ہے اس کی حقیقت معلوم کرنا۔ اس میں مادی اشیاء کا ہی نہیں بلکہ ماورائے سریات کا علم بھی شامل ہے۔ مثلاً فرشتے، دوزخ، جنت، قیامت، حیات بعد الموت اور خود ذات باری تعالیٰ۔‘
خواجہ عبدالحکیم انصاریؒ کے تجزیہ کے مطابق دوسری ’تصوف کا موضوع و مقصد اللہ کی معرفت کے حصول‘ والی بات صحیح ہے۔ پہلی بات ’اخلاق حسنہ میں کمال پیدا کرنا‘ تصوف کا مقصد نہیں بلکہ یہ درحقیقت مقصد و موضوع تک پہنچنے کے متعدد ذرائع میں سے ایک ہے۔ یعنی تزکیہ اخلاق نہ کیا جائے تو سالک کو کبھی معرفت باری تعالیٰ حاصل نہیں ہو سکتی۔ تیسری ’علم حقائق‘ کی بات اس لئے غلط ہے کیونکہ صوفیائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ ’جس کو معرفت باری تعالیٰ حاصل ہو گئی اس کو معرفت الاشیاء بدرجہ اولیٰ حاصل ہو جاتی ہے‘ ۔
دنیا کے سامنے جو تصوف ہے یہ پڑھنے، سننے کی بہ نسبت دیکھنے سے زیادہ واضح ہو سکتا ہے۔ عاملوں، پامسٹوں، ملنگوں، نشئیوں، مراثیوں، شعبدہ باز اور مداریوں تک کو ہمارے ہاں پیر، فقیر، ولی، اور بزرگ خیال کیا جاتا ہے۔ کہیں کسی کو کوئی چھوٹی، بڑی قبر، مزار، یا مقبرہ میسر ہے تو ایسے مجاور، سجادہ نشین، یا گدی نشین سے پہنچی ہوئی سرکار، خدا رسیدہ، اور بزرگ ہستی کوئی نہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے نیک و پارسا، زاہد و عابد، مہذب اور اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ بھی ایسے ہیں جو سلجھی ہوئی بات کر کے یا اپنی وعظ و نصیحت سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں اور لوگ انہیں خدا رسیدہ بزرگ اور صوفی خیال کرتے ہیں حالانکہ یہ نہ تو صوفی ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا تصوف سے کوئی تعلق ہوتا ہے۔ ان بزرگوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو لوگوں کو ان کی اصلاح کے لئے بیعت بھی کرتے ہیں۔ ہر شہر، قصبہ و دیہات میں کم وبیش ایسے ہی لوگ ملتے ہیں جن کو صوفی سمجھا جاتا ہے اور ان کے طرزعمل کو تصوف سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
حضرت خواجہ عبدالحکیم انصاری ؒ نے سید علی ہجویری ؒ کی بیان کردہ صوفیاء کی تین اقسام ’صوفی، متصوف، اور مستصوف‘ واضح کی ہیں۔ ان کے مطابق ’صوفی وہ ہے جو سلوک مکمل کر کے درجہ کمال تک پہنچ جائے۔ یعنی اسے خدا کا عرفان حاصل ہو جائے‘ ۔ ’متصوف وہ ہے جس نے خود مکمل سلوک طے نہ کیا ہو۔ آدھا تہائی سلوک طے کیا ہو لیکن عالم و فاضل ہو اور تصوف کی بڑی بڑی کتب پڑھ کر ان کوائف اور آخری منازل و مقامات سے واقف ہو جائے جہاں تک وہ خود نہیں پہنچا، اور جن کا علم خود اس کو ذاتی طور پر حاصل نہیں ہوا، صرف کتابی علم رکھتا ہے‘ ۔ ’مستصوف وہ ہے جس نے نہ عملی طور پر سلوک طے کیا نہ تصوف پر کوئی مستند کتاب پڑھی۔ بس فقیروں کا سا حلیہ بنا لیا اور ادھر ادھر کی سنی سنائی باتیں بنانے اور جہلاء کو بہکانے لگا‘ ۔
حضرت خواجہ عبدالحکیم انصاریؒ ایک سچے صوفی کی شناخت کے حوالے سے لکھنے ہیں کہ ’یہ جو دنیا میں ہزاروں پیر فقیر نظر آتے ہیں اگر آپ مندرجہ بالا تعریفوں کی روشنی میں ان کو پرکھیں تب بھی شاید ہی معلوم ہو سکے کہ ان میں سے کون کامل اور سچا صوفی ہے‘ کون ناقص ہے اور کون بالکل جھوٹا اور مکار ہے۔ حقیقتاً یہ جنس اتنی سستی اور یہ کام اتنا آسان نہیں کہ جس کا دل چاہے سال دو سال ذکر وغیرہ کر کے سچا ولی اور کامل صوفی بن جائے۔ لاکھوں آدمی جو اس خیال سے اللہ اللہ شروع کرتے ہیں۔ ان میں سے دو چار ہی آخری منزل تک پہنچتے ہیں۔ ورنہ راستہ ہی میں رک جاتے ہیں۔ آپ کو پوچھنا چاہیے کہ جب حال یہ ہے تو پھر ایک کامل صوفی ’ایک متصوف اور ایک مستصوف کی خاص پہچان کیا ہے؟
تو ایک کامل صوفی کی پہچان یہ ہے کہ اس میں کشف و کرامات کی طاقت اور روحانی قوت بھی ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس کا اخلاق ’اخلاق محمدیﷺ کا نمونہ ہوتا ہے۔ وہ شریعت کا سختی سے پابند ہوتا ہے اور اس کے عقائد بالکل قرآن اور حدیث کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس کے پاس بدترین گناہگار بھی اصلاح کے لیے آئیں اور اس کی تعلیم و ہدایات پر عمل کریں تو نیک پارسا اور متقی بن جاتے ہیں۔ مگر بڑی دقت یہ ہے کہ اس طرح ایک کامل صوفی اور ایک جعل ساز مستصوف کا فرق معلوم ہو سکتا ہے لیکن ایک کامل صوفی اور متصوف میں تمیز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ذات باری تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے دو عوالم کا سلوک طے کرنا پڑتا ہے۔ پہلے عالم خلق کا اور پھر عالم امر کا ۔ عالم خلق کی ابتدا ناسوت اور انتہا ہو ہے اور عالم امر کی ابتدا عدم اور انتہا ذات باری تعالیٰ ہے۔ جو سالک ذات باری تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا عرفان حاصل کر لیتا ہے وہ کامل کہلاتا ہے اور جو نیچے کسی مقام تک رہ جاتا ہے وہ خواہ کتنا ہی بڑا بزرگ ہو بہرحال ناقص ہی سمجھا جاتا ہے۔
تو متصوفین میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو عالم خلق کا تو خوب علم ہو جاتا ہے لیکن عالم امر کا ذاتی علم بالکل نہیں ہوتا یہ علم وہ دوسرے بزرگوں کی کتابوں سے حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ سمجھ میں آتا ہے (حالانکہ غلط سمجھتے ہیں ) اسی کو صحیح سمجھ کر وعظ و نصیحت میں بیان کرتے اور خود اپنی کتابوں میں لکھ دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ نسلاً بعد نسلاً یونہی جاری رہتا ہے اور جتنا آگے بڑھتا ہے غلطیاں اور غلط فہمیاں اور زیادہ ہوتی جاتی ہیں حتی کہ اغلاط کا یہ طومار جب غیر صوفی عوام تک پہنچتا ہے تو کچھ کا کچھ بن جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ بعض مانے ہوئے بزرگوں کی کتابوں میں ایسے اقوال ملتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہوتے ہیں۔
لہٰذا ایسے اقوال کو ہر گز نہیں ماننا چاہیے۔ مگر ساتھ ہی نہ تو ان بزرگوں کو برا کہنا چاہیے نہ ان کی بزرگی کے متعلق کوئی بدگمانی کرنی چاہیے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ عالم امر میں صور و اشکال کا ادراک بالکل ختم ہو جاتا ہے اس لیے وہاں کا حال کوئی سالک بیان کرنا چاہے تو بھی نہیں کر سکتا اور اگر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے الفاظ سے کفر ٹپکنے لگتا ہے۔ اور صحیح مطلب چونکہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کفر بک رہا ہے۔
الغرض! ایک سچے صوفی کی شناخت یہ ہے کہ کشف و کرامات اور بے پناہ روحانی طاقت کے باوجود اس کا کوئی قول اور فعل شریعت کے خلاف نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں اب آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ سچا تصوف کیا ہے اور جس کو عام لوگ تصوف سمجھتے ہیں وہ کیا چیز ہے ’۔
بلاشبہ تصوف کی یہ تعلیمات موجودہ دور میں کمیاب ضرور ہیں مگر نایاب نہیں۔ بانی سلسلہ عالیہ تو حیدیہ حضرت خواجہ عبدالحکیم انصاری کی یہ تعلیمات صرف الفاظ تک ہی محدود نہیں رہیں۔ آپ ؒ کے قائم کردہ سلسلہ تصوف میں آدم گری و کردار سازی کا یہ کام تا حال جاری ہے۔ آپؒ کے سلسلہ تصوف میں تیسرے خلیفہ محمد صدیق ڈارؒ کا انتقال کچھ سال قبل ہوا جو صاحب تصنیف بزرگ تھے۔ ان کی تصانیف ایک زندہ و بیدار صوفی کی تحقیق و بالغ نظری کی عمدہ مثال ہیں۔ موجودہ شیخ سلسلہ تو حیدیہ محمد یعقوب توحیدی مدظلہ بھی حضرت خواجہ عبدالحکیم انصاریؒ سے ان کی زندگی میں فیض یافتہ اور واقعی ایک صحیح العقیدہ، زندہ و بیدار صوفی بزرگ ہیں جن کی سرپرستی میں مریدین سلسلہ روحانی سلوک طے کر رہے ہیں۔


