انسان اور انسانیت
آج کے اس دور میں انسان بہت ترقی کر رہا ہے انسان نے اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے چاند تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اس نے اپنی آرام و آسائش کے لئے نئی نئی ایجادات کی۔ اس جدید دور میں انسان نے اپنے لئے کیا کچھ نہیں کیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انسان اتنی ترقی کے باوجود اپنی سوچ کو نہ بدل سکا۔ اس گہما گہمی کے دور میں انسان انسانیت کو ہی بھول بیٹھا ہے۔ ہر کوئی اپنی آرام و آسائش میں مصروف ہے۔ اگر ایک انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہے تو کوئی دوسرا انسان یہ سب جانتے ہوئے بھی اس کی مدد کو نہیں پہنچتا۔
انسان خود گرز بن بیٹھا ہے۔ وہ صرف اپنی عزت کو ہی ترجیح دیتا ہے نہ کے کسی دوسرے کی عزت کا خیال کرتا ہے۔ انسان ہی انسان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ آج کل ایسے بہت سے حادثات دیکھنے کو ملتے ہیں جس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسان کس قدر گر چکا ہے۔ اگر کوئی انسان مر رہا ہے تو بجائے اس کی مدد کے کھڑے ہو کے تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سڑک پہ کسی کا ایکسیڈنٹ ہو جائے یا کس کا جھگڑا ہو جائے تو لوگ فوراً اپنا موبائل نکالتے ہیں اور تصویریں یا ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں اور اسی وقت ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیتے ہیں۔
اور اگر عزت کی بات کی جائے تو ہر کسی کو بس اپنی عزت کا خیال ہوتا ہے نہ کے کسی دوسرے کی عزت کو عزت سمجھا جاتا ہے۔ انسانیت اس قدر مر چکی ہے کہ کسی کی بہن بیٹی کا بھی خیال نہیں کیا جاتا۔ دوسروں کی بہن بیٹیوں کو وحشت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لڑکیاں گھر کی چار دیواری سے باہر محفوظ نہیں رہ سکتی۔ انہیں لوگوں کی بری نظروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آج انسان صرف دنیا کی باگ دور میں مصروف ہے وہ اپنی اصل زندگی کا تصور بھول چکا ہے اور انسانیت ایسی چیز ہے جو نہ صرف اس دنیا میں ہمارے کام آئے گی بلکہ اس زندگی کے بعد والی زندگی میں بھی اس کا اجر ملے گا جیسا کے ہم سب جانتے ہیں کے حقوق اللہ تو معاف ہو سکتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہو سکتے جب تک انسان خود معاف نہ کرے۔ سب سے افسوس ناک بات یہی ہے کے ہم سب کچھ جانتے ہوئے خود کو حقیقت سے غافل رکھتے ہیں۔
کیا ہمارا مذہب ہمیں یہی سکھاتا ہے؟
کیا ہم اپنے مذہب کو بھول چکے ہیں؟
اگر ہم اپنے مذہب کو اچھی طرح سمجھتے تو آج انسانیت زندہ ہوتی۔ کسی کی بہن بیٹی کو باہر نکلنے سے کوئی خطرہ نہ ہوتا۔ ہر انسان کا انسان سے ایک اچھا تعلق قائم ہوتا۔ لیکن انسان سے انسانیت کہیں دور جا چکی ہے۔ ایک بہت ہی مضبوط مثال ہمارے سامنے ہے کشمیر میں کس قدر انسانیت کا جلوس نکالا جا رہا ہے۔ روز ہزاروں ماؤں کے پیاروں کو وحشت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ خوں کی ندیاں بہتی ہیں مائیں لوگ خوں کے آنسوں رو رہے ہیں۔ اگر انسان میں انسانیت باقی ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ آج بھی انسان کوشش کرے تو کیا نہیں ممکن۔ انسان انسانیت کو جگہ سکتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کے بتائے ہوئے رستے پر عمل پیرا ہو کر انسانیت کا مظاہرہ کریں۔ کیوں کہ انسانیت ہی انسان کو انسان سے وابستہ رکھتی ہے۔

