شرفا کی عزت کا مذاق اڑانا منع ہے


شرفا کی عزت بچاؤ آرڈیننس!

شرفا کی عزت کا مذاق اڑانے والی رعایا کا ہاتھ اور ذہن روکنے کے لیے عمرانی حکومت کے بابائے آرڈیننس پارلیمان کی موجودگی میں پارلیمان سے رجوع کیے بغیر شرفا کی عزت کو قانونی تحفظ بخشنے کے لیے ایک صدارتی فرمان لے کر آئے ہیں۔ فرمان لاگو ہونے کے بعد وطن عزیز کی سب سے بڑی خبر، خبر خود بنی ہوئی ہے۔ پارلیمان کو وقت کا ضیاع سمجھنے والی بنی گالا سرکار کے تقریباً 70 ویں آرڈیننس کے تحت اب ملک میں سب سے بڑا جرم جھوٹی خبر ہو گا۔

پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 میں آرڈیننس کی مدد سے ترامیم کی گئی ہیں۔ ان ترامیم کے بعد سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ اب خبر کیا ہے، سچی خبر اور جھوٹی خبر کسے کہتے ہیں، خبر کی صحت، خبر کے عناصر اور اقدار کیا ہیں؟ ان موضوعات پر اس سے پہلے جو بحث مکتب میں ہوتی تھی اب وہ عدالت میں ہوگی۔ جو کام نیوز روم اور کلاس روم میں ہوتا تھا اب وطن عزیز میں وہ کام بھی عدالتیں کریں گی۔ اسے کہتے ہیں تبدیلی۔

خبر جھوٹی اور سچی ہے اور کیسے ہے؟ یہ معاملہ رپورٹر/خبر بنانے والے، خبر کو تراشنے والے سب ایڈیٹر/نیوز ایڈیٹر کے ہاتھوں سے نکل کر اب عدالت کا معاملہ ہو گیا ہے۔ ملکی عدالتیں اس متنازع ترمیم سے پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ ملکی انصاف کا معیار سوالیہ بن چکا ہے، انصاف کا معیار پرکھنے والے ادارے ملکی عدل کے نظام کو پستی پر دکھا چکے ہیں اور ہم ہیں کے خبر کیا ہے، کیا خبر نہیں جیسے نیوز روم اور کلاس روم کے موضوعات بھی عدالتوں میں بحث کرنے کا آرڈیننس پاس کر بیٹھے ہیں۔

دور حاضر کو Post Truth زمانہ کہا جاتا ہے، اس دور میں دھوکا دہی سے لوگوں کے ذہنوں میں نئے تاثر جوڑے اور ان کے ذہن میں موجود پرانے تاثر توڑے جا رہے ہیں۔ سچ کو دھندلانے اور مسخ کرنے والے ظالم اثرات سے پوری دنیا پریشان ہے۔ مقبولیت کی صنعتوں میں مصنوعی قائدین پیدا کیے جا رہے ہیں، ایسے دور میں جھوٹی خبر کو روکنے کا مثالی متنازع آرڈیننس لانے کا اعزاز بھی وطن عزیز کی موجودہ قیادت کے نام ہوا ہے۔ آپ بنی گالا سرکار کی کن کن تبدیلیوں کے ثمرات کو جھٹلاؤ گے۔

وفاقی کابینہ میں موجود جن وزراء کو اپنی مثالی کارکردگی پر وزیراعظم نے حال ہی میں تعریفی سندیں نوازی ہیں ان میں تمام مسائل کا حل آرڈیننس میں تلاشنے والے بابائے آرڈیننس پتا نہیں کیسے پیچھے رہ گئے۔ پارلیمان کی بحث کی روایت سے تمام قانونی معاملات کو آزاد کروانے پر فروغ بھائی کو پنڈی اور بنی گالا کی ہوائیں سلام کرتی ہیں۔

پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت پرچہ کاٹنے والے ایف آئی ای سائبر کرائم کے اہلکاروں سے لے کر ججز اور اس ملک کے وکلاء کو اب میڈیا اسٹڈیز کی کلاسز لینی ہوں گی۔ خبر کیا ہے، خبر کی تعریف کیا ہے، خبر کے عناصر کیا ہیں خبر کی اقدار کیا ہیں؟ ان سوالوں کے ٹھوس جوابات خبریں لکھنے اور ایڈٹ کرنے والے اکثر صحافی بھی نہیں جانتے، ماسوائے ان کے جنہوں نے خبر کی نصابی تعریف پڑھی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ پیکا 2016 میں ترامیم کی کافی گنجائش موجود ہے، مگر وہ ترامیم شہریوں کی عزت کے تحفظ کے لیے ہوں نہ کہ صرف شرفا کی ذات کے لیے۔ صدارتی فرمان سے جو یہ ترامیم آئی ہیں انہوں نے ایف آئی ای کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن کی کافی باتوں کو درست ثابت کر دیا ہے۔ اپنے الزامات میں بشیر میمن نے کہا تھا مجھے کہا گیا کہ خاتون اول کی تصویر سوشل میڈیا پر چڑھانے اور بانٹنے والوں پر دہشتگردی کے کیسز بناؤ، پرچے میں نواز لیگ کے سرگرم رہنماؤں کے نام شامل کرنے کی خاص فرمائش بھی کی گئی، مگر میں نے کہا میں قانون کے سامنے بے بس ہوں، جو قانون کہتا ہے وہ ہی کروں گا۔ اس متنازع آرڈیننس آنے کے بعد حکمران جماعت کے عزائم اور نیت کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

پیکا میں کی گئی تکراری ترامیم بہتر تھا پارلیمان میں آتی اس پر بحث کروائی جاتی اور وہاں سے ہی ترامیم کی منظوری ہوتی تو شاید سول سوسائٹی، میڈیا کے لوگوں اور شہریوں کے لیے یہ عمل قابل قبول بھی ہوتا۔ سائبر جرائم اور مجرموں سے شہریوں کا تحفظ صرف ایک ہی صورت میں ممکن تھا، جب پیکا میں موجود جھول ختم کرنے کے لیے ضروری ترامیم کی جاتی۔ ان ترامیم کے لیے سائبر کرائم پر کام کرنے والے وکلاء، ججز اور اداروں سے تجاویز لی جاتی۔

پیکا میں سب سے بڑا جھول حدبندی کا ہے، جرم سائبر اسپیس پر ہوتا ہے اور کیس میں جائے وقوعہ کی حدبندی زمینی زیر بحث ہوتی ہے۔ سائبر کرائم کیسز عدالتوں میں تقریباً فوجداری مقدمات کی قانونی روایات پر ہی چلتے ہیں۔ تقریباً طریقہ کار وہ ہی ہے جو فوجداری مقدمات کا ہے۔ سائبر کرائم کے مقدمات میں بھی شہریوں کو کم سے کم تین سے پانچ سال انصاف ملنے پر لگ جاتے ہیں۔ سائبر کرائم کے کیسز سننے والے ججز اور کیسز میں عدالت کی معاونت کرنے والے وکلاء کی تربیت کی ضرورت ہے۔ ججز اور وکلاء کی کمپیوٹر، ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے حوالے سے تربیت نہ ہونا سائبر کے مقدمات کے فیصلوں میں دیر کی بڑی وجہ ہے۔

اس وقت ملک میں جو ججز سائبر کرائم کے دفعات کے کیسز چلا رہے ہیں ان کی کمپیوٹر، ٹیکنالوجی، اور انٹرنیٹ کے حوالے سے جانکاری دیکھنی ہے تو کسی ایک سائبر کرائم کیس کو بطور مثال لے کر دیکھا جا سکتا ہے۔ اب ججز کی مشکلات میں ایک اور اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ وہ خبر کی تعریف اور صحت کے معاملات بھی دیکھیں گے۔ جھوٹی خبر کی گتھی سلجھانے کے نام پر مزید الجھا دی گئی ہے۔ ترامیم کی واپسی تک لگتا یہ ہے کہ اب خبر خبروں میں ہی رہے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 27 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments