ٹانگیں کانپ رہی ہیں


ایک وقت تھا کہ کراچی میں بھتہ خوری، قتل و غارت اور لاقانونیت پر ایوانوں سے احتجاجاً واک آؤٹ اور کبھی کبھار اقتدار سے الگ بھی ہو جایا کرتے تھے کہ پیٹرول کی قیمت اور بھتہ خوری بڑھنے سے کاروبار کرنا اور عوام کو ریلیف ملنا ناممکن ہو گیا ہے۔ صرف شیر شاہ کباڑی مارکیٹ سے یومیہ 6 لاکھ روپے بھتہ اکٹھا کیا جاتا اور نہ دینے پر قتل عام بھی کیا گیا۔ کیا کچھ نہ ہوتا رہا لیکن ایسا کبھی نہ ہوا، جیسے اب ہو رہا ہے۔ نہ کوئی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ کرتا ہے نہ کوئی اقتدار چھوڑتا ہے بس بیانات داغ دیتے ہیں۔ بھتہ خوری ختم تو نہیں ہو سکی لیکن کم ضرور ہوئی ہے۔

ٹارگٹ کلنگ کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہے لیکن اب اسٹریٹ کرائم کی شکل میں اپنے مہیب سائے سے معصوم انسانوں کو خوف زدہ کر رہا ہے۔ اہل کراچی نے دہشت اور خوف کے ساتھ بھتہ مافیا، پرچی مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف تاجروں کا احتجاج بھی دیکھا تو شہریوں کا جینا دوبھر کرنے والوں کے خلاف کئی بے رحم آپریشن بھی۔

کراچی امن کا بحالی اور معیشت کو بچانے کے لئے اپیلیں کی جاتی ہیں کہ وفاق توجہ دے اور صوبائی حکومت کراچی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے لیکن درد انگیز امر یہ ہے کہ اسٹریٹ کرائمز کا جن بوتل سے بے قابو ہو چکا ہے جو دراصل قانون شکنی کے ملک گیر سنگین سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ضرورت اس عفریت کا سر ابتدا میں کچلنے کی تھی مگر تساہل، مصلحت اور بدقسمتی سے مجرموں کی سیاسی سرپرستی کے باعث حالات بدتر ہوتے گئے۔ ایک بار پھر کراچی متقاضی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے۔

عوام کو اسٹریٹ کرائم کے مجرموں پر کسی طور تنہا نہ چھوڑا جائے لیکن ”عمران یعقوب منہاس کا کہنا ہے کہ کراچی میں پولیس کی نفری دگنی بھی کر دیں تو بھی جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا، کراچی پولیس چیف کا مزید کہنا تھا کہ شہر کو ڈیڑھ سے دو لاکھ کیمروں کی ضرورت ہے، جب تک شہر میں ہر جگہ کیمرے نہیں لگیں گے اس وقت تک جرائم کی شرح پر قابو نہیں پایا جا سکتا“ ۔ یہ اعتراف اہل کراچی کے لئے باعث تشویش ہے کہ سیکورٹی ادارے کے اعلیٰ حکام وسائل اور جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے بھی حکومتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے جرائم پر قابو پانے کے لئے اپنی معذوری کا اعتراف ٹاک شوز میں کرتے نظر آتے ہیں۔

سندھ حکومت بھی اپنی کوتاہی کا کھلا اعتراف کرتی نظر آئی۔ صوبائی وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ لوگوں کی جان جا رہی ہے، یہ تشویش ناک بات ہے۔ سعید غنی نے یہ بھی کہا کہ سیف سٹی منصوبے میں بد قسمتی سے تاخیر ہوئی۔ پاکستان کے معاشی حب میں سیف سٹی منصوبہ قریبا کئی برسوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ میڈیا میں بارہا رپورٹ کی جاتی رہی کہ کراچی میں چند کیمرے بھی جو لگے ہوئے ہیں وہ بھی ناکارہ ہیں اور فعال نہیں۔ دو لاکھ سی سی ٹی وی کیمروں کی ضرورت ناگزیر بتائی جا رہی ہے، یہ اربوں روپوں کا پراجیکٹ ہے لیکن سندھ حکومت کی جانب سے اس اہم منصوبے پر تاخیر یا بد قسمتی کی کیا وجہ رہی یہ کوئی ڈھکا چھپا معمہ نہیں۔

سی سی ٹی وی کیمروں کا نظام سوک سینٹر میں لگایا گیا تھا پھر اس کو ایم کیو ایم کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے گورنر ہاؤس منتقل کرا دیا۔ ان کیمروں کی نگرانی سٹی گورنمنٹ کر رہی تھی، بعد ازاں ان کیمروں کے استعمال پر بعض سیاسی جماعتوں کے شدید تحفظات سامنے آئے۔ اب بھی یہ نظام وزیراعلیٰ ہاؤس اور سوک سینٹر میں موجود ہے۔ ان گنت واقعات رونما ہوتے ہیں، موبائل فون یا کسی کے مکان، دکان، دفتر یا بلڈنگ وغیرہ میں لگے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آجاتی ہے، کئی ایسے واقعات ہیں کہ جس میں دوران ڈکیتی چھینا چھپٹی اور مزاحمت کے دوران قتل کیے جانے کے مناظر بھی ریکارڈ ہو جاتے ہیں، لیکن ایک سوال اپنی جگہ پر موجود رہے گا کہ یہ سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا مقصد واردات کے بعد مجرموں کو تلاش کرنے کے لئے ہے یا جرم کو بروقت روکنے کے لئے۔

سی سی ٹی وی کیمروں کی افادیت اپنی جگہ ہوگی، لیکن اس میں بڑی کوتاہی بھی سامنے آتی ہے، مثال کے طور پر اے ٹی ایم مشین روم میں لوٹ مار کے ان گنت واقعات ہیں، بنک میں سیکورٹی گارڈ چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے، اے ٹی ایم مشین روم میں کیمرہ بھی لگا ہوا ہے لیکن جرم کرنے والے نہ صرف وہاں لوٹ مار کرتے ہیں بلکہ ایک ویڈیو میں دیکھا کہ ایک مجرم ائر کنڈیشن تک اکھاڑ کر لے گیا، جسے بعد میں کراچی پولیس نے گرفتار کیا۔ بنک کے اندر جدید سیکورٹی سسٹم اور گارڈ ہونے کے باوجود بروقت جرم کرنے والے کو روکا نہیں جاسکتا تو دو لاکھ کیمرے لگا کر کس طرح بروقت کارروائی کی جا سکے گی۔

دراصل یہی اصل مسئلہ ہے۔ بلاشبہ جب استعداد کار نہ ہو تو نفری دو گنی تو کیا، سو گنا اضافہ کر دیں اس کے مثبت نتائج اس وقت تک سامنے نہیں آئیں گے جب تک جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے بالخصوص پولیس میں اصلاحاتی عمل نہ ہو۔ سندھ حکومت اگر دو لاکھ کیمرے لگا بھی دیتی ہے تو کیا لاکھوں گلی کوچوں اور شاہراؤں کی مکمل نگرانی ممکن ہے؟ ، تو اس کا جواب یقیناً ناں میں ملے گا۔

گلی کوچوں، محلوں، بازاروں وغیرہ میں کہاں کہاں کیمرے لگا کر جرائم کو روکا جاسکتا ہے۔ اس کی مانیٹرنگ کا ایک نظام بھی وضع کرنا ہو گا اور ایمرجنسی کی صورت میں پولیس کا بروقت جائے وقوع پر پہنچنا، تاہم گر جرم ہونے کے بعد مجرموں کے فرار ہونے والے راستوں کی نگرانی میں انہیں پکڑنا ایک جدید نظام کے تحت ہی ممکن ہے۔ پولیس کے پاس ایسا کوئی مربوط نظام نہیں کہ وہ ہر جگہ کی نگرانی کرے، مانیٹرنگ سسٹم کے تحت جرم کو ہوتا دیکھ کر مددگار پولیس کو بھیجے یا پھر جرم ہونے کے بعد فرار ہونے والوں کو سسٹم کے تحت دیکھتے ہوئے گرفتار کرے۔

یہ بہت مشکل اور ناممکن عمل لگتا ہے، ہالی وڈ کی فلموں میں یہ مناظر متاثر کن ضرور ہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں بھی پولیس ہوتے جرم کو بروقت روک نہیں پاتی۔ جرائم کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے علاقائی سطح پر کیمونٹی پولیسنگ نظام کو لانا ہو گا۔ محلے کے سطح پر سیکورٹی اقدامات کو بڑھانے سے ہی صورت حال میں کمی آ سکتی ہے۔ اس کے لئے سنجیدہ اقدامات کیے بغیر صرف اعلانات کرنا کافی نہیں۔ یقین کیجئے سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ اہل کراچی کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں۔

Facebook Comments HS