غلط معلومات اور ان کے غیر مسلم برادریوں پر اثرات
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز یوں تو غلط معلومات کے پھیلاؤ کا بہت بڑا سبب ہیں اور غلط معلومات کا پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہی گردانا جاتا ہے کیونکہ موجودہ دور میں جتنی غلط معلومات سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلی ہیں اتنی پہلے کبھی کسی اور ذریعہ سے نہیں پھیلی ہیں حتیٰ کہ معلومات کا یہ پھیلاؤ اس قدر موثر تھا کہ میڈیا کے بڑے ادارے اور ان سے وابستہ بڑے مستند نام رکھنے والے صحافی بھی ان غلط معلومات کے جال میں آ گئے اور یہ غلط خبریں میڈیا پر نشر کر دیں اور بعد میں انہیں اور ان کے چینلز کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کا بڑا سبب سٹیزن جرنلزم کا شعور ہونا نہیں ہے جس کی وجہ سے ہر سوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھنے والا فرد اپنے تئیں صحافی بنا ہوا ہے اور چینلز کی بریکنگ نیوز کی دوڑ کی طرح سوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھنے والا فرد سب سے پہلے معلومات دینے کے چکر میں غلط معلومات کو پھیلاتا ہے اور یہ پھیلاؤ منٹوں میں وہ اثر دکھاتا ہے جو بڑے چینلز کی بریکنگ نیوز بھی اثر نہیں دکھا سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا جہاں معلومات کا ایک خزانہ رکھتا ہے اور لمحوں میں اہم سے اہم تو کیا غیر اہم معلومات اور واقعات پورے ملک میں گردش کرنے لگتی ہیں۔ جس کا اثر اس طور پر بھی فوری ہوتا ہے کہ عام لوگ اس کی تصدیق کر کے رائے بنانے کی بجائے اس کے بناء تصدیق پھیلاؤ کے ساتھ ہی اس پر رائے بنانا بھی شروع کر دیتے ہیں اور بغیر تصدیق کے یہ رائے عامہ معاشرے کے لئے بسا اوقات انتہائی بعض طبقات یا مخصوص افراد کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے اور اس کے خوفناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرہ میں غلط پھیلاؤ اس لئے بھی آسان ثابت ہوتا ہے کہ یہاں غربت، کم تعلیم یافتہ طبقات، مذہبی عنصر اور شدت پسند طبقات کے باعث کسی رائے عامہ کو قائم کرنے یا مذہبی حوالوں سے کسی رائے کو کسی دوسرے کے لئے نفرت انگیز بنا کر کسی کے لئے مشکلات کا باعث بنانا انتہائی آسان ہے۔
اس کی بہت سی مثالیں ملک کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں جہاں نہ صرف غیر مسلموں بلکہ مسلمانوں کو بھی کسی ایک فرد نے اپنے کسی مفاد کی خاطر کسی فرد پر مذہبی حوالے سے ایک الزام عائد کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اکٹھے ہونے والے ہجوم نے اس فرد کی بیہمانہ تشدد کے ذریعے جان لے لی یا اس پر مذہبی توہین کا مقدمہ درج کرا دیا۔ ایسی ہی ایک مثال جنوبی پنجاب کے علاقہ رحیم یار خان میں واقع ایک مندر کی ہے جہاں ہندو برادری بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہے۔
وہاں سامنے آنے والے حقائق کے مطابق ایک کم عمر بچے نے ایک مذہبی مقام کے اندر موجود ہونے کے دوران پیشاب کر ڈالا لیکن اس بات پر اس بچے کو سمجھانے کی بجائے یا حقائق کو سامنے لانے کے لئے کسی کمیٹی کے قیام یا قانونی کارروائی کی بجائے سوشل میڈیا پر مذہبی مقام کی جان بوجھ کر بے حرمتی کرنے کا الزام عائد کر دیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کا ایک جم غفیر موقع پر اکٹھے ہو گیا۔
اس جم غفیر نے کسی بات کی تصدیق کیے بناء بس اکٹھے ہو کر قریبی واقع مندر پر حملہ کر دیا اور ڈنڈوں سے توڑ پھوڑ کر ایک مذہبی مقام کی اسی طرح بے حرمتی کرتے ہوئے تقدس پامال کر ڈالا جبکہ ملک کے قانون کے تحت کسی بھی مذہبی مقدس شخصیت اور مقام کی بے حرمتی کرنا قانوناً جرم ہے اور کسی کو بھی کسی مقدس شخصیت یا مقام کی بے حرمتی کرنے کی اجازت حاصل نہیں ہے بلکہ مختلف مذاہب میں بھی کسی بھی بھی مذہبی شخصیت او ر مقام کی بے حرمتی کرنے کی اجازت قطعاً نہیں ہے۔ تاہم اس پر سب سے زیادہ اعتدال رکھنے والے مذہب کے پیروکار بھی عمل نہیں کرتے ہیں اور یہ ملک و مذہب کی بدنامی کا باعث بنتا ہے۔
اس ضمن میں مختلف حلقوں کے نمائندوں سے بات کرنے پر عالم دین مولانا عنایت اللہ رحمانی اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دین اسلام جھوٹی باتوں کو پھیلانے سے روکتا ہے اور بات کرنے سے قبل اس کی تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ حتیٰ کہ مذہب میں کسی کی ٹوہ لگا کر یا تجسس کر کے کسی بات کو سننے تک سے بھی روکتا ہے تو اتنے اعتدال اور انصاف پسند دین کے پیروکار کس طرح سنی سنائی بات کو پھیلا کر یا اس بات کو کسی منفی مقصد کے حصول کے لئے استعمال کر سکتے ہیں یقیناً ایسا کرنے والے نہ صرف اپنے دین کے واضح اصولوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ اس دنیا اور آخرت میں سزا کے مستحق ہیں۔
ریجنل کوارڈینیٹر ہیومن رائٹس کمیشن برائے پاکستان ملتان فیصل محمود تنگوانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس جنوبی پنجاب میں غیر مسلموں پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کے 20 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں لیکن ان واقعات کی اصل حقیقت سامنے آنے پر ان غیر مسلموں سے جائیداد، بچیوں کے رشتے اور رقم حاصل کرنے کی وجوہات سامنے آئی ہیں اور سب سے زیادہ واقعات کے پیچھے جائیداد سے بے دخلی اور جائیداد کے تنازعات ہی سامنے آئے ہیں جس پر حکومت کو موثر قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
مذہبی رواداری کے لئے کام کرنے والے ہائی سینٹ پیٹر کہتے ہیں کہ غیر مسلم یہاں اقلیت میں رہتے ہیں اور یہاں سبقت رکھنے والے مذہب کے بارے میں بے حرمتی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں کہ انہیں یا ان کے مذہب کو کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے تاہم بہت سے واقعات میں لاعلمی کو بھی معاف نہیں کیا گیا اور حقائق کی تصدیق کے بناء کسی قانونی کارروائی کا بھی انتظار نہیں کیا گیا ہے۔
آئینی ماہر حبیب اللہ شاکر بتاتے ہیں کہ ملک کا آئین اور قانون اس ملک کے ہر شہری چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم سب کو برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے اور سب کی زندگی، مال اور جائیداد کا محافظ ہے۔ تاہم اس ملک میں یہ بات اہم ہے کہ کسی بھی مجمع کی جانب سے قانون ہاتھ میں لے کر کسی کو نقصان پہنچانے پر ہونے والے واقعات میں قانونی موشگافیوں، کمزور تفتیشی نظام اور قانونی نقائص کے باعث ایسے واقعات میں ملوث افراد بچ جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور حکومتیں بھی ایسے واقعات پر قانون سازی کرنے کا بیان دے کر بعد میں بھول جاتی ہیں جس کی وجہ سے شدت پسند طبقوں کے افراد کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور ایک کے بعد دوسرا واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ اس لئے ان واقعات کی روک تھام کے لئے مختلف دباؤ سے محفوظ رہنے اور قانون و تفتیشی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

