آجا نی بے جا سیکل تے


ابرار الحق خاصے دوراندیش ہیں جو گاڑی ہوتے ہوئے بھی بھلے وقتوں میں ملتانی محبوبہ کو اپنے دل کا حال سنا کر اتنے دو رکی کوڑی لائے تھے کہ ”آ جا نی بے جا سیکل تے“ ، سوچا ہو گا کہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے والا حساب ہو گا۔ آپ کو یہ منطق نہیں سمجھ آئی تو بس یہ جان لیں کہ پٹرول بہت مہنگا ہو گیا ہے۔

نئی قیمت 12 روپے 3 پیسے اضافے کے بعد صرف اور صرف 159 روپے 86 پیسے ہے اور جنہیں پیسے کی قدر ہے، انہیں مخلصانہ مشورہ ہے کہ چاہے پٹرول پمپ والوں کے گلے پڑ کر لیں لیکن اپنے قیمتی 14 پیسے واپس ضرور لیں ورنہ مذکورہ رقم کو 160 پڑھیں اور سمجھیں۔ ( ویسے سمجھ تو آج تک یہ بھی نہیں آئی کہ جس ملک کی کرنسی میں پیسے کا وجود ہی نہیں وہاں اشیائے ضروریہ کو مزید مہنگا کرتے ہوئے ’پیسوں‘ کا چونا کیوں لگایا جاتا ہے؟ ) ۔

اس نئے بم کے بعد عوام الناس نے حسب معمول سوشل میڈیا پر ”حسب استطاعت“ احتجاج ریکارڈ کروایا لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کس نے سنی ہے جب کہ ان طوطیوں کو چپ کروانے والے بھی ایک سے بڑھ کر ایک نئی منطق کے ساتھ موجود ہوں۔

جیسے کہ ہمارے با تدبیر وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے غریب عوام کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ ’جہاں تک ہو سکے فیول کم سے کم استعمال کریں کیوں کہ مشکل حالات میں زندگی نارمل نہیں رہ سکتی‘ ۔

عالمی مارکیٹ میں قیمتیں 95 ڈالر تک پہنچ جانے کی نوید سنانے والے شبلی فراز کے مطابق حکومت کس کس چیز کو سبسڈائز کرے، اگر پاکستان تیل بناتا یا ہمارے کنویں ہوتے تو اور بات تھی، عوام ایڈجسٹ کریں ’۔

بندہ پوچھے کیا یہ بات آپ کو گزشتہ حکومت کے دور میں ’عوام کا انتہائی درد رکھنے والی اپوزیشن‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے بھول گئی تھی کہ وطن عزیز میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں ہے، ورنہ ہم خود ہی روز کے روز اپنے ڈول بھر لیتے۔ تب ”لارے لپے“ تھوڑے کم لگانے تھے نا جو آج ہمیں بھاری بھرکم اصطلاحات اور عالمی منڈی کے گورکھ دھندوں کا رونا بھی سمجھ آتا۔

اب فرانسیسی ملکہ کی پھپھو کے بیٹے بن کریہ حکومتی وزراء کبھی 9 فیصد مہنگائی کی صورت میں چینی کے 100 دانوں میں سے 9 کم ڈالنے اور آٹے کے 100 نوالوں میں سے 9 کم کھانے کا مشورہ دیتے ہیں تو کبھی 2 روٹی کے بجائے ایک پر اکتفا کرنے کا کہتے ہیں، کے پی سے ایک وزیر کا کہنا تھا جو چیز مہنگی ہے استعمال ہی نہ کرو، موجودہ وزیردفاع تو لوگوں کے بھوکا ہونے کو ہی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے ماضی میں کہہ چکے ہیں میرے صوبے میں ایک کچا مکان دکھا دو اور معاشیات کے گورکھ دھندوں کے ماہر ایک موصوف نے ٹماٹر کے عروج میں اس کی ’بزتی‘ خراب کرتے ہوئے 17 روپے کلو ملنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اگر یہ سب بھی آپ کو ہضم ہو گیا تو آٹے چینی سے مہنگائی دور کرنے کا نسخہ کیمیا لانے والے درمند کا ایک اور زریں قول ہے کہ، ’جو چیز اوپر نیچے ہوتی ہے تو جن کو فائدہ ہوتا ہے وہ بھی ہمارے ہی بھائی ہیں‘ ۔

تازہ ترین ’چول‘ پربھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”فیول کم سے کم استعمال کرنے کے 101 نسخے“ نامی کتاب بھی ساتھ مفت تقسیم کرنی تھی، یہ بتائیں عوام کیا پٹرول سے نہاتی ہے؟ یا خاتون خانہ گھر کا فرش پٹرول سے چمکاتی ہیں کہ صفائی وہ جو صاف نظر آئے۔ خالہ، مامی، پھپھو، تائی کے گھر جانے جوگا تو آپ نے پہلے ہی کسی کو نہیں چھوڑا تھا تو اب کیا دفتر بھی نہ جائیں، بچوں کو اسکول نہ بھیجیں، راشن لینے نہ جائیں اور اس امید پر بیٹھے رہیں کہ ریاست مدینہ ہے تو ابھی حکومت کی جانب سے کوئی دروازے سے سودے کا تھیلا اٹھائے خود ہی جھانک کے کہے گا ’آئی تا میں آ گیا‘ ۔

کل ملا کے اپنی سمجھ میں تو یہی آیا ہے کہ چوں چرا کیے بغیر سب کی ’ہینڈسم نیس‘ تسلیم کریں، ابرار بھائی کا بچوں کو بے بی شارک سے دور رکھنے کا مشورہ بھلے سے نہ مانیں لیکن خود پر خود ہی رحم کرتے ہوئے سائیکل پر ضرور آ جائیں، صحت کی صحت اور بچت کی بچت۔ رہ گئی حکومت تو وہ تو آپ سے چاہتی ہی یہی ہے کیونکہ اسے اپنا پتہ ہے کہ، ’نہ 9 من تیل ہو گانہ رادھا ناچے گی‘ ۔

Facebook Comments HS