کیا پنجاب پولیس بھی لبرل ہو رہی ہے؟
پنجاب پولیس کے چند دنوں میں جو کارنامے (کرتوت اس لئے لکھا اس میں ظلم نہیں ) سامنے آئے ہیں اس پر سوشل میڈیا پر دانشور شدید غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں مگر مجھے اس لئے برا نہیں لگا کہ شاید پولیس بھی لبرل ہو رہی ہے، عمران حکومت نے پولیس کو تبدیل کرنے کے جو اعلانات کیے تھے اس میں رتی بھر تبدیلی نہ کر سکی جس پر میرا خیال ہے کہ پولیس مرد و خواتین اہلکاروں نے خود ہی فیصلہ کر لیا ہے کہ پولیس کلچر کو بدلا جائے اور اسے لبرل کے ساتھ ساتھ فرینڈلی بنایا جائے
پہلا واقعہ جو رقم کر رہا ہوں وہ لبرل تو نہیں بلکہ قابل مذمت ہے مگر جو فوٹیج میں نے دیکھی ہے اس میں لیڈی کانسٹیبل کی ہمت اور اعتماد پر اب تک حیران ہوں کہ اس نے اتنی جرات کا مظاہرہ کیسے کر لیا، آج تک لیڈی کانسٹیبلز کو تین، چار کے گروپ میں ہی دیکھا ہے مگر وہ کتنی باہمت کانسٹیبل ہے جو اکیلی رات گئے سکیورٹی گارڈ پر اعتماد کرتے ہوئے اندھیرے میں ساتھ چلی گئی اور پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے
دوسرا واقعہ یوں ہے کہ فیصل ٹاؤن کے ایس ایچ او یاسر چیمہ نے دوستوں کے ساتھ تھانہ کے ریٹائرنگ روم میں پارٹی منائی، پارٹی میں کیک بھی کاٹا جانا تھا، اس موقع پر لیڈی سب انسپکٹر مہوش بھی موجود تھیں، اس دوران ایک سادہ کپڑوں میں ملبوس شخص مانیٹرنگ کیمرے پر کپڑا ڈال دیتا ہے اس کے بعد پارٹی کب تک چلی، کس طرح چلی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا مگر چند سیکنڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں لیڈی سب انسپکٹر کا یہ سب کچھ ہوتے ہوئے پراعتماد انداز میں کھڑے رہ کر ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لینا اور خوشگوار چہرہ بنائے رکھنا لبرل ازم کی منہ بولتی مثال ہے
پھر ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئے جس میں ایک پولیس افسر یونیفارم میں سرکاری عمارت میں بھارتی گانے ”گوریا چرا نہ میرا جیا“ پر رقص کر رہا ہے اور یونیفارم میں ملبوس دیگر پولیس اہلکار اسے داد دے رہے ہیں، مجھے دونوں ویڈیوز دیکھ کر خوشگوار حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ شکر میں پولیس میں کچھ ”بندے دے پتر“ بھی آ گئے ہیں، ان ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد عوام پر پولیس کا امیج بہت اچھا گیا ہے کہ اب پنجاب پولیس میں ”تبدیلی“ آ چکی ہے ورنہ پہلے تو لوگ تھانے اور پولیس کے نام سے ہی ڈرتے تھے، عام شہری تھانے والی سڑک کے قریب سے بھی نہیں گزرتا اور ملزم لتر پولے کے ڈر سے مفرور ہو جاتے ہیں
ان ویڈیوز پر افسران کی برہمی، پولیس انسپکٹر اور لیڈی سب انسپکٹر کو معطل کرنا سراسر زیادتی ہے، پولیس کے اعلی افسران اپنی پرانی اور دقیانوسی سوچ کو اب بدلیں، جس طرح تھانہ میں پارٹی ہوئی ہے اس سے تھانہ میں موجود حوالاتیوں اور سائلین پر کتنا خوشگوار اثر پڑا ہو گا، کئی حوالاتی تو خود ہی مان گئے ہوں گے کہ ان سے جرم سرزد ہو گیا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ لبرل تھانیدار ان ملزموں سے دو، چار ٹھمکے لگوا کر معافی دیدے اور آئندہ جرم نہ کرنے کا حلف بھی لے لے، تھانہ میں ہونے والی پارٹی میں یہ علم نہیں ہو سکا اس میں موسیقی کا انتظام تھا کہ نہیں، اگر موسیقی کا انتظام تھا تو ناقدین اور خاص طور پر ان سہولیات سے محروم صحافیوں نے اس خبر پر یہی سرخی جمانا تھی ”تھانہ میں رقص و سرود کی محفل“ ، اب ایسی سرخیوں سے پولیس کا امیج ہی خراب ہونا ہے
چند ماہ قبل ایک لیڈی کانسٹیبل نے یونیفارم میں پنجابی گانے پر ایک ویڈیو بنائی تو دقیانوسی افسر نے پرانی روش پر چلتے ہوئے اس کو نوکری سے ہی برخاست کر دیا حالانکہ اس ویڈیو کا عوام پر پولیس کا بہت اچھا تاثر بنا تھا، نرم و نازک پولیس اہلکار رقص کرے یا کسی پارٹی میں ہو، وہاں پھر گالم گلوچ اور مار پیٹ کا کلچر فروغ پانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مگر ہمارے پرانے پلسیئے افسر وہی پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں
دو سال قبل کا ایک واقعہ سناتا چلوں، الحمراء کلچرل کمپلیکس میں تقریب ہو رہی تھی جس کے مہمان خصوصی پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان اور ان کی اہلیہ فریال عامر تھیں، اس تقریب میں ثقافتی شو بھی تھا، وزیراعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری عامر جان اس تقریب کے روح رواں تھے جنہوں نے بہت اچھے انداز اور خوبصورت انداز میں تقریب کا اہتمام کیا تھا
سٹیج کے قریب ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا، امریکن گوری عارف لوہار کے معروف نغمے ”ایک پھل موتیئے دا مار کے جگا سوہنی اے“ پر گروپ کے ساتھ پرفارم کر رہی تھی، عاطف انصاری نے بہت خوبصورت سیٹ اور لائٹس لگوائی تھیں اور پھر الحمراء کلچرل کمپلیکس کا خوبصورت منظر، جس نے محفل کو چار چاند لگا دیے، میں اس کی ویڈیو بنانے لگ گیا، اچانک میں نے بائیں جانب دیکھا کہ آٹھ، نو لیڈی کانسٹیبلز جو کہ ڈیوٹی پر مامور تھیں وہ لائن میں کھڑی ہو کر اس ثقافتی پرفارمنس کی ویڈیو بنا رہی تھی، میں جہاں بیٹھا تھا وہاں سے کیمرے کا اینگل بہت اچھا آ رہا تھا، ڈسکو لائٹس چل رہی تھیں، پبلک میں اندھیرا تھا، میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اسی اینگل سے موبائل کیمرے کو سٹیج سے گھما کر ان لیڈی کانسٹیبلز پر فوکس کر دیا جس میں ایک شاٹ میں تمام لیڈی کانسٹیبلز لائن میں کھڑی نظر آ رہی تھیں، یہ اینگل بہت اچھا تھا کہ پہلے نمبر پر کھڑی لیڈی کانسٹیبل کی مجھ پر نظر پڑ گئی
میں نے کیمرہ فوراً سٹیج کی طرف کر دیا اور بھولا بننے کی کوشش کرنے لگا، مگر سپین، سپین ہی ہوتی ہے، میں سمجھ گیا اب معاملے آگے بڑھے گا، دس منٹ بعد ایک ہٹا کٹا پولیس کانسٹیبل کندھے پر کلاشنکوف لٹکائے میرے پاس آیا اور بولا سر آپ کی گاڑی کی وجہ سے راستہ بلاک ہو گیا ہے، مہربانی فرمائیں میرے ساتھ آئیں، میں سمجھ گیا کہ کم پے گیا اے، میں باہر آیا تو سامنے ایس ایچ او بابر اشرف اور وہی نو لیڈی کانسٹیبلز کھڑی تھیں، مجھے دیکھ کر بولیں، سر یہی ہے، (شکر ہے کہ انہوں نے گنجا نہیں کہہ دیا) تھانیدار نے کہا کہ آپ نے بلا اجازت خواتین کی ویڈیوز بنائی ہیں جو کہ جرم ہے، میں نے کہا کہ تو پھر گرفتار کر لیں، بتا کیوں رہے ہیں، پہلی بات یہ کہ میں نے خواتین کی کوئی ویڈیو نہیں بنائی میں سٹیج پر ثقافتی پرفارمنس کی ویڈیو بنا رہا تھا تو ایک لیڈی کانسٹیبل بولی آپ نے ہماری ویڈیو بھی تو بنائی ہے
میں نے کہا ہاں بنائی ہے، مگر آپ خواتین تو نہیں، پولیس اہلکار ہیں جو کہ ڈیوٹی کرنے آئی ہیں مگر آپ سب تو لائن میں کھڑی ہو کر پرفارمنس کی ویڈیوز بنا رہی تھیں، مجھے شاٹ اچھا لگا اس لئے کیپچر کر لیا، بابر اشرف نے کہا مجھے ویڈیو دکھائیں تو میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کروں گا بس۔ بابر اشرف نے کہا کہ مجھے ویڈیو دکھا دیں، آپ نے پوسٹ کردی تو ان خواتین کے لئے مسئلہ پیدا ہو جائے گا، میں نے جواب دیا کہ یہ تو اچھا تاثر جائے گا کہ پولیس والے بھی ثقافت میں دلچسپی لیتے ہیں جس پر بابر اشرف نے کہا کہ پلیز اسے ڈیلیٹ کر دیں
اس کے بعد لیڈی کانسٹیبلز نے مکمل ڈیوٹی دی اور پروگرام کی طرف ایک جھلک ہی دیکھتی رہیں جس پر مجھے افسوس ہوا کہ بیچاریوں کا پروگرام خراب کر دیا مگر مسرت اس بات کی تھی کہ اب پولیس اہلکار بھی سر، سنگیت میں دلچسپی لینے لگے ہیں، بہت خوبصورت گانا ہے، ”پیار نہیں ہے جس کو سر سے، وہ مورت انسان نہیں۔“ ، چند روز میں وائرل ہونے والی پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز کو عوام مثبت انداز میں لیں، پولیس کی ڈیوٹی سخت ہوتی ہے، ان حالات میں پولیس نے شاید خود کو بدلنے کا خود ہی سوچ لیا ہے اور لبرل بن رہی ہے کیونکہ تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے والے تو اب تک چور، سپاہی ہی کھیل رہے ہیں، چور ان کے ہتھے نہیں چڑھ رہے، مہنگائی قابو میں نہیں آ رہی اور اوپر سے اب اپوزیشن نے پر نکال لئے ہیں، عوام حالات کے مارے ہیں، اس عدم اعتماد کے ماحول میں پولیس اہلکاروں کی مستیوں کی ویڈیو سے ہی عوام کو سکون ملے گا۔


