سلگتی ہوئی شام


آج میرے ابو کا دفتر میں آخری دن ہے۔ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سوچتا ہوں انہیں فون کروں مگر کہوں گا کیا۔ ہم لوگوں کو سب علوم آ جاتے ہیں مگر ماں باپ سے حال دل کہنا نہیں آتا۔ مزدور کیا اس کی زندگی کیا، گول سی روٹی کا چکر۔

مجھے اپنا قیمتی وقت نصابی کتب کو دینا چاہیے۔ مگر میں پین پیپر لے کر کیا کر رہا ہوں۔ میری تحاریر اگر کسی کے ہاتھ لگ جائیں تو شاید مجھے دل کا دورہ پڑ جائے۔ کتنی باتیں ہیں، مگر ہر چیز پر حقیقت پسندی نے حصار باندھ رکھا ہے۔ اور زندگی ایک پیراڈاکس بن گئی ہے۔ جو اخلاقی ضابطے والدین نے بتائے تھے وہ نبھاتے ایک بے جان روبوٹ بن گیا ہوں۔ یا شاید، مزدور بندے کے یہ ہی مسائل ہیں۔

اگر میرے پاس پر ہوتے میں اڑ کے ماں کا حال پوچھنے چلا جاتا۔ اگر میرے اختیار میں وقت ہوتا میں اپنے ابو کی جوانی کالج دور میں آ دھمکتا وہ بلا شبہ شاندار شخصیت کے ملک تھے۔ نصابی کتب، نفسیاتی الجھنیں، غیر معیاری طرز حیات اور سب سے بڑھ کر لا حاصل کی آرزو۔ آثار تو تباہ کن نتائج کے ہیں۔ خیر، جینا تو پڑتا ہے۔ یہ منتشر دماغ ایک آخری سال کے ڈاکٹر طلب علم کا ہے۔ پرا گندا، زندگی کی سچائیوں سے عاری۔ ایسے میں اگر فکشن کا سہارا لیں تو بے معنی، کج رویوں میں الجھ جائیں تو بربادی، اور مذہب تو ہے ہی کڑوا اور ثقیل۔

”چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری“ ۔

نصابی کتب تو میں بستر پر سے دھکیل ہی چکا ہوں۔ اب پروا نہیں، تو جناب والا لکھنے سے دل کو راحت ملتی ہے، اندرونی کشمکش کا کوئی حل نکلتا ہے۔ یا سب سے بڑھ تو میری اپنی اندرونی دنیا کے کردار زندہ ہو کر مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔ مانوں تمہاری اپنی چھوٹی سی سپنوں کی دنیا۔ تو جناب میں نے کتب منگوانا تھیں، چونکہ کالج شہر سے باہر ویرانے میں ہے تو کوئی ڈاکیا دینے نہیں آتا، بالآخر جاسوسی ڈائجسٹ خرید ڈالے۔ کچھ کہانیاں پڑھ کر مزا آیا۔

مگر ساتھ ہی احساس زیاں اور شرمندگی ہونے لگی۔ پھر کیا تھا، صاحب سلامت تندور میں پھینک ڈالتے دونوں ڈائجسٹ بڑی مشکل سے من کو راضی کیا، پڑے رہیں گے، اور میں انہیں امتحانات تک چھو بھی نہیں سکتا۔ لفظوں میں طاقت ہوتی ہے یا نہیں، ہم ایسے مخبوط الحواس لوگ ان صفحات میں راز حیات تلاشنے کی سعی ضرور کر لیتے ہیں۔ اگر آپ بھی جنون اور پاگل پن کی دنیا کے راہی بننا چاہتے ہیں تو آ جائیں میدان میں، ایک پین ایک خالی صفحہ اور آپ اپنی ذات کے قلعے میں داخل ہو جائیں گے۔ اور جن لوگوں کا کل پیپر ہے، وہ اب اپنی کالج کی کتاب پڑھ لیں ورنہ عتاب استاد اور عتاب روزگار کا شکار ہو جائیں گے۔

دل کے دریا کو کسی پار اتر جانا ہے
اتنا بے سمت نہ چل لوٹ کے گھر جانا ہے

Facebook Comments HS