ہمارا کپتان باہر نکل کر واقعی بہت ”خطرے ناک“ ہو گیا ہے

(ایک تخیلاتی تحریر۔ کسی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاقی ہو گی)
ہمارے کپتان صاحب تو کہتے تھے کہ میں مغرب کو مغرب والوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ اس کے باوجود جب سارا مغرب روس کے خلاف ڈٹا ہوا ہے، آپ روس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس پر جب کسی شریر رپورٹر نے پوچھا کہ آپ تو امن کے پیامبر ہیں، ثالث اعظم ہیں۔ اس سے پہلے چین امریکہ اور ایران و سعودی عرب کے درمیان کامیاب ثالثی کروا چکے ہیں۔ یمن کا مسئلہ بھی آپ کی وجہ سے حل ہوا ہے۔ انڈیا نے کشمیر کا ٹنٹا بھی آپ کی دور اندیشی اور کامیاب سفارت کاری سے ختم کیا ہے۔ مگر اب کی بار ایسا کیا ہوا کہ روس پر آپ کے قدم پڑتے ہی روس نے یوکرین پر ہلہ بول دیا۔ اس پر انہوں نے ایک لمحے کے لیے پہلے سے بند آنکھیں مزید بند کیں، فضا میں اپنا دایاں ہاتھ بلند کر کے بائیں سے مکھی ماری اور نہایت رازدارانہ انداز میں فرمایا کہ میں اسی طرح سجی دکھا کر کھبی مارنے کا عادی ہوں۔
آپ نے دیکھا ہو گا کہ دونوں متحارب ملک کافی عرصے سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہے تھے، پھر میں نے جا کر پیوٹن کو سمجھایا بجھایا تب کہیں جا کر جنگ شروع ہوئی۔ پہلے تو میں نے پیوٹن کو یہی بتانے کی کوشش کی کہ جب مسئلہ آدھ گھنٹا دھوپ میں ایک ٹانگ کے سہارے کھڑا ہونے سے حل ہو سکتا ہے تو اس قدر خون خرابے کی کیا ضرورت ہے۔ اس پر پیوتن نے برجستہ عذر تراشا کہ دھوپ میں تو ہم بھی کھڑا ہونے کے لیے ترستے ہیں مگر یہ دھوپ تو جیسے ہم سے روٹھ ہی گئی ہے۔ اس کے جواب میں ہم نے حوصلہ دیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے دھوپ بھی نکل ہی آئے گی، میں اس کے لیے اتنی دوڑ دھوپ جو کر رہا ہوں۔
ہمارے کپتان نے اعلیٰ حکام کی طرف سے پیوٹن حکومت کو ایک خفیہ پیغام بھی پہنچایا، جس پر اگر روس عمل درآمد کر دے تو ہماری پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں والا معاملہ ہو جائے۔ کپتان نے پیغام دیا کہ اگر روس اور یوکرین نے آپس میں لڑنے بھڑنے کا اٹل فیصلہ کر ہی لیا ہے تو ذرا ہمارے ہمسائے میں آ کر جنگ کا میدان گرم کریں تاکہ ہمارے سوکھے دھانوں میں بھی پانی پڑے اور ہماری دال روٹی بھی دوبارہ چلنا شروع ہو جو امریکہ کے جانے کے بعد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
دوسری تجویز ہمارے سیماب صفت کپتان نے دی کہ روس کو چاہیے تھا کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بجائے وہاں کوئی ساز باز کر کے پاکستان جیسا ہائبرڈ نظام لا کر مجھ جیسا تبدیلی والا ماڈل متعارف کروا دیتا تو میں پاکستان کی طرح یوکرین کا بھی چند مہینوں میں تیا پانچہ کر دیتا۔ اس کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوتا کہ روس کی ہینگ لگتی نہ پھٹکڑی اور اس کا مقصد بھی پورا ہوجاتا۔ اب دیکھیں نا یوکرین کے پاس ہمارے جیسا کوئی عظیم ”فاتح“ تو نہیں ہے جو بقول عدنان کاکڑ صاحب جنگلی کبوتروں اور دوسرے پرندوں کے انڈے ابال کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا کر دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کو ناکوں چنے چبوانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ہمارا قومی تشخص اور ملی وقار اس وقت اوج ثریا کو چھونے لگا جب ہمارے کپتان نے فخریہ انداز سے یہ بتایا کہ روس میں میرا استقبال اور پذیرائی اس لحاظ سے منفرد نوعیت کا واقعہ ہے کہ کسی بھی ملک میں سربراہ مملکت کو استقبال میں زیادہ سے زیادہ اکیس توپوں کی سلامی دی جاتی ہے جبکہ میرے لیے تو میزبان ملک نے باقاعدہ جنگ چھیڑ دی۔ کچھ حاسدین اور پیدائشی طور پر جلاپے کی آگ میں جلنے والے مورکھ ہمارے کپتان پر یہ بھونڈا الزام لگا رہے ہیں کہ ان کے دورے سے ایک خطرناک جنگ چھڑ گئی۔
اس کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کپتان کے ترجمانوں نے کہا کہ کپتان تو اس عمر میں پکا راگ چھیڑنے کے قابل نہیں، جنگ کیسے چھیڑ سکتا ہے۔ کامیاب اور بھرپور دورے کی واپسی پر ایک فتنہ پرداز رپورٹر نے کپتان سے پوچھا کہ اس موقعے پر وہ یوکرین کی سیاسی و عسکری قیادت اور عوام کو کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں، اس پر کپتان نے بڑے عزم و یقین سے کہا کہ روس کے بعد میں یوکرین کا دورہ کروں گا تاکہ یوکرین والوں کو یہ پیغام دے سکوں کہ بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ کوئی مانے نہ مانے ہمارا کپتان باہر نکل کر واقعی بہت ”خطرے ناک“ ہو گیا ہے۔ روس پہنچتے ہی اس نے تقریباً عالمی جنگ شروع کروا دی۔

