روبوٹس کی تاریخ اور ان سے جڑا مستقبل


روبوٹ کے لفظ سے آج کی جدید دنیا میں کم و بیش ہر ایک شخص واقف ہے۔ اکثر یہ لفظ روزمرہ گفتگو میں بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کے حقیقی معنی کافی پیچیدہ ہیں۔ ایک صدی پہلے اس لفظ کو ’چیک‘ ادیب ’کارل کاپیک‘ نے جبری مشقت کرنے والوں کے لئے متعارف کروایا تھا۔ اس کے بعد افسانوں اور سائنسی فلموں نے اسے شہرت کی نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ روبوٹ کی سائنسی تعریف آج بھی سائنسدانوں کے درمیان ایک قابل بحث مسئلہ ہے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے معیار کاری کے مطابق روبوٹ کسی ماحول میں خودمختاری سے دو یا دو سے زیادہ محوروں میں مطلوبہ کام انجام دینے والی مشین کا نام ہے۔ یہ بہت بنیادی قسم کی تعریف ہے جو آج کل کی نئی پیش رفتوں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے میں سائنسدان ایسے آلات، مشینوں اور پیچیدہ میکانکی چیزوں کو بھی روبوٹ قرار دیتے ہیں جن کی کوئی واضح تعریف ممکن نہیں۔ آج روبوٹ کے نام سے عام طور پر ایک بھاری بھرکم انسان نما چیز ذہن میں آتی ہے جو کہ موجودہ روبوٹس سے بہت مختلف ہے

Archytas robot pigeon

دنیا میں پہلا میکانکی آلہ ’اباکس یا گنتارا‘ پانچ ہزار سال پہلے چینیوں کی ایجاد تھا۔ چھڑیوں اور موتیوں سے بنا یہ آلہ عددی جمع تفریق میں زیر استعمال تھا روبوٹ کی تعریف کے قریب قریب پہلی مشین 3000 قبل مسیح میں مائع سے چلنے والی گھڑیاں تھیں۔ 400 قبل مسیح میں ’آرکیٹاس‘ ) جو چرخی اور پیچ کا موجد بھی تھا ( نے اڑنے والا کبوتر ایجاد کیا۔ اس کے بعد بہت سے خودکار آلات بنے جن میں انسان کی طرح چلنے والی گڑیا اور کینیڈا کے بھاپ سے کام کرنے والے نائٹس قابل ذکر ہیں

Stream Powered Robot
Stream Powered Robot

دنیا کا پہلا روبوٹ ’یونیمیٹ‘ 1950 کی دہائی میں ایک امریکی سائنسدان نے ایجاد کیا جسے دستی کاموں پر استوار صنعتوں میں زیادہ کامیابی نہ مل سکی۔ ’جوزف اینجلبگر‘ نے یونیمیٹ کا پیٹنٹ خرید کر اسے بہتر کیا اور پہلی روبوٹ بنانے والی کمپنی بنائی جس کی وجہ سے آج انہیں ’فادر آف روبوٹکس‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ روبوٹ کے مضمون پر پہلی تحقیق 1958 میں سٹانفورڈ یونیورسٹی میں شروع ہوئی جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو کسی جسمانی وجود میں ٹیسٹ کرنا تھا۔ اس کے نتیجے میں ’شیکی‘ روبوٹ متعارف کروایا گیا جو حرکت کر سکتا تھا، اپنی ’آنکھوں‘ سے دیکھ سکتا تھا اور اپنے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق اپنی حالت بھی بدل سکتا تھا۔ آدھ صدی پر محیط سائنسدانوں کی تحقیق کی بدولت آج کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں انسان کی مدد کے لئے روبوٹس موجود ہیں

سائنسدانوں کے مطابق ہم چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہے ہے اور روبوٹس اس کا ایک اہم حصہ ہیں۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق روبوٹ کے کاروبار کی مالیت 55.8 بلین ڈالر ہے جو کہ 10.5 فیصد اضافے کے ساتھ 2026 تک 91.8 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان کی زیادہ تعداد گاڑیاں بنانے والی صنعتوں میں کام کر رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں 120 ملین سے زیادہ روبوٹس ہیں جن کی تعداد 2026 تک 5 بلین سے تجاوز کر سکتی ہے۔

Shakey the robot-Probably the first mobile robot
Shakey the robot-Probably the first mobile robot

اس حیران کن تعداد اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کی بدولت سائنسدان آج کل پانچویں صنعتی انقلاب کے خاکے پیش کر رہے ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کے مطابق یہ انقلاب 2 اور کچھ کے مطابق 4 دہائیوں دور ہے۔ ان تمام خاکوں میں انسان اور روبوٹ دو بنیادی جزو ہیں جن کے اردگرد تمام صنعتیں کھڑی کی جائیں گی۔ سائنسدانوں کی بڑی تعداد روبوٹس کو صنعتوں اور تجارتی سرگرمیوں کے علاوہ انسان کی روزمرہ زندگی کا اہم جزو بنتا بھی دیکھ رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اگلی دہائی کے آغاز میں کم و بیش ہر گھر میں ایک روبوٹ ہو گا

روبوٹکس ان دنوں مقبول ترین موضوعات تحقیق میں سے ایک ہے اور بہت سے ترقی یافتہ ممالک اس کی مد میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ آج کے روبوٹس کی زیادہ تعداد انسانوں کے کام کو آسان کرنے، مشکل اور اکتا دینے والے کاموں کو خودکار بنانے اور ناقابل رسائی اور مہلک جگہوں میں کام کرنے کے لئے دستیاب ہیں۔ حالیہ اور مستقبل کی تحقیق پیداوار، انتظام اور ترسیل میں انسانوں کی مداخلت کو کم کرنے اور روبوٹس کو زیادہ ذمہ داریاں دینے پر مرکوز ہے مصنوعی ذہانت سے لیس ایسے روبوٹس پر کام ہو رہا ہے جو نچلے عہدے کے کارکن کی طرح فیصلے لے سکیں گے۔ ایسی صنعتیں بنائی جا رہی ہیں جن میں روبوٹس کی کثیر تعداد مل جل کر افرادی قوت کی طرح کام کرے گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی، طلب و رسد میں اضافے اور مزدوروں کی تنخواہوں اور مراعات کی بدولت بہت سی کمپنیاں دستی کاموں کے لئے انسانوں پر روبوٹس کو ترجیح دے رہی ہیں

روبوٹس کے اس بڑھتے رجحان کو کم کرنے اور انسانوں کو کام کے لئے ترجیح دلوانے کے لئے کچھ روبوٹ مخالف تنظیمیں بھی سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق روبوٹس مزدوروں کا معاشی قتل کر رہے ہیں اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے بہت سے لوگ بیروزگار ہیں۔ دوسری طرف روبوٹسٹ ) روبوٹ بنانے والے سائنسدان ( اس کے دفاع میں بڑھتی ہوئی روبوٹ مارکیٹ اور ان میں کام کرنے والے ملازمین کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مستقبل میں بھی روبوٹس انسانوں کے ماتحت ہی کام کریں گے اور انسان ہی کلیدی ذمہ داریاں ادا کریں گے لیکن ان کی نوعیت بدل جائے گی۔ اب انسانی کارکن زیادہ تکنیکی اور ہنرمند کاموں پر مامور ہوں گے جبکہ روبوٹ ان کے حصے کا مشکتی کام کریں گے

ایسے جدید اور تیزی سے بدلتے مستقبل میں انسانوں کو بھی بدلنا ہو گا اور روزگار کے حصول کے لئے خود کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ پاکستان کی زیادہ تر آبادی ہاتھ سے کام کر کے اجرت کماتی ہے اور بیرون ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم پاکستانیوں کی کثیر تعداد بھی ایسے ہی کاموں پر مامور ہے۔ ترقی یافتہ خاص طور پر کم آبادی اور زیادہ اجرت والے ممالک میں ایسے لوگوں کے بیروزگار ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور پاکستان میں مقیم بیرون ملک روزگار کے خواہاں حضرات کے امکانات بھی مخدوش ہیں۔

ایسے میں ہمیں اپنی کثیر اور جواں سال آبادی کی جدید تعلیم اور ہنرمندی کا مناسب بندوبست کرنے کی خاطر خواہ ضرورت ہے تا کہ وہ مستقبل میں روزگار کے لئے مقابلہ کرسکیں۔ اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کے اگلی 2 سے 3 دہائیوں میں بے ہنر اور بنیادی تعلیم یافتہ افراد کے لئے روزگار حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو سکتا ہے

Facebook Comments HS