شدت پسندی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے


ایک ذہنی مریض بھیک مانگ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا تھا۔ اس کی بیوی نے اسی پریشانی کی وجہ سے علیحدگی اختیار کر لی ہوئی تھی۔ وہ رات کو گاؤں کی مسجد میں اپنی نیند پوری کرتا۔ انتہا پسند ہجوم نے 13 فروری کو اسے قرآن پاک جلانے کے الزام میں اینٹیں اور ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا اور لاش قریبی درخت پر لٹکا دی۔ پھر بھی انتقام کی آگ نہ بجھی تو جاتے جاتے اس مردہ لاش کی انگلیاں کاٹ دیں۔ اس انتہا پسندی کے واقعہ نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

یہ واقعہ ایک ذہنی معذور معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دوسرے انتہاپسندی اور شدت پسندی کے واقعہ نے ملک کی قومی سلامتی کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ابھی 6 دسمبر 2021 سیالکوٹ میں سری لنکا کے شہری کی وحشیانہ ہلاکت کا سانحہ اپنے منطقی انجام کو بھی نہیں پہنچا تھا کہ یہ دوسرا واقعہ سامنے آ گیا۔ حالانکہ سری لنکن شہری کی وحشیانہ ہلاکت پر حکومتی مشینری، عدلیہ، پولیس بلکہ مذہبی وزارت کے علاوہ تقریباً تمام مولانا حضرات نے بھی اس سانحہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعہ کو اسلام کے منافی قرار دیا۔

پولیس نے اس سانحہ میں ملوث لوگوں کو حوالات میں بند کر دیا اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی بھی شروع کر دی گئی مگر ابھی دو ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ 13 فروری کو خانیوال کا واقعہ سامنے آ گیا۔ لوگوں کے مشتعل ہجوم نے بغیر سوچے سمجھے اس ذہنی مریض کو جو امام مسجد کی پناہ میں تھا، زبردستی مسجد میں گھس کر پتھروں اور ڈنڈوں سے ہلاک کر کے اپنا مذہبی فریضہ پورا کیا۔ پولیس حسب معمول کبھی بھی وقت پر نہیں پہنچتی۔ جب کام تمام ہو جاتا ہے تو کارروائی پوری کرنے میں پھرتیاں دکھانا شروع کر دیتی ہے۔ یہاں بھی اس سانحہ میں ملوث لوگوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور شدید مذمت کی گئی۔

لمحہ فکریہ ہے کہ صدیوں سے پاک و ہند میں پائی جانے والی مذہبی شدت پسندی جس نے کبھی مذہبی جماعتوں تو کبھی حکومت کے سائے میں پرورش پاکر مضبوط جڑیں اختیار کر لی ہیں۔ اتنی جلدی کیسے کمزور پڑ سکتی ہے۔ شدت پسندی معاشرے میں اس قدر سرایت کر گئی ہے خانیوال کے واقعہ کے دوسرے دن 14 فروری کو لاہور کے علاقے ایل ڈی اے کوارٹرز کے رہائشی مسیحی نوجوان پرویز مسیح، جس کی ویڈیو گیم کی دکان تھی، ایک معمولی جھگڑے پر دکان پر موجود مسلم نوجوانوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پرویز مسیح کو اینٹوں اور ڈنڈوں سے ہلاک کر دیا اور موقع پر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔

بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور انتہا پسندی قومی سلامتی کے لیے انتہائی حساس مسلے ہیں۔ شدت پسندی کا ذمہ دار مذہب مخالف سرگرمیوں اور بین الاقوامی حالات و واقعات کو ٹھہرانا اس وقت عقلمندی نہیں ہو گا۔ بلکہ اس انتہا پسندی اور شدت پسندی کا بیج جو ضیاء الحق نے مذہبی جماعتوں کو خوش کرنے کی غرض سے بویا تھا، اب ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر جو ستم ضیاء الحق نے کیا وہ 95 A۔ B کو 295 C میں تبدیل کر کے عوام کو توہین رسالت کے قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ترغیب فراہم کی۔

کیا ہی اچھا ہوتا اگر حکومت دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی بجائے اپنے ملک اور قومی سلامتی کی طرف توجہ دیتی۔ وزیراعظم صاحب کو بھی حالات و واقعات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اسلامو فوبیا کی رٹ لگانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی لانے اور جہالت سے باہر نکلنے کے لئے راس قدم اٹھاتے، ایسے صحت مند کھیل اور پروگرامز منعقد کراتے جو معاشرے کو دوبارہ محبت و بھائی چارے کی طرف لے جاتے۔ کچھ فوبیا زدہ لوگ ایسے بھی ہیں جو اگر کوئی ملک دہشت گردی کی روک تھام کے لئے راس قدم اٹھاتے ہیں تو اسے دعوت اسلام دے ڈالتے ہیں۔

ہم اسلامو فوبیا کا ذمہ دار امریکہ اور یورپ کو ٹھہراتے ہیں جبکہ خود ہمارا ملک مذہبی فوبیا میں دھنستا جا رہا ہے۔ اس وقت بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی سرکوبی کی انتہائی ضرورت ہے۔ ملکی قوانین بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ ملک میں رہنے والے ہر شہری کو بلا امتیاز حقوق حاصل ہوں۔ قانون، جہاں معاشرے کی فلاح و بہبود، عوام کا تحفظ اور جرائم کی روک تھام کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس خطہ میں رہنے والے لوگوں کی تہذیب و تمدن، مذاہب، اقدار و مزاج، معاشرتی ہم آہنگی اور یکجہتی کا خیال رکھتا ہے۔ وہیں بین الاقوامی قوانین کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت نے اپنی ضرورت کے تحت آئین میں ترامیم کیں۔ اب تو سعودی عرب نے بھی اپنے قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ مگر پاکستان اب بھی تشدد و انتہا پسندی کے مصائب کی وجہ سے دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس کے سماجی و سیاسی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ صرف امن ہی ہم آہنگی لا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS