نقش آب کی ناخواندگی


پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ کے حاشیے پر موجود نامزد شدہ وزیراعظم نے جیسے ہی ماسکو کی سرزمین پر قدم رنجہ فرمایا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرائن پر فوجی دھاوا بول دیا۔ جو قطعی طور پر غیر متوقع یا اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔ رواں صدی کی پہلی دہائی سے شروع ہوا یوکرائن کا بحران جس نہج پر پہنچ چکا تھا۔ کشیدگی کی بلند تر سطح پر روس کے پاس درپیش حالات سے نمٹنے کے لئے واحد لیکن قابل مذمت رستہ یہی بچا تھا کہ وہ جارحیت کا ارتکاب کر کے معروضی زمینی صورتحال میں بنیادی تبدیلی پیدا کردے شاید شاطر اور ذہین منصوبہ ساز روسی صدر پیوٹن منتظر تھا کہ جارحیت کے آغاز میں دنیا کا کوئی ایسا سربراہ اس کے ملک میں موجود ہو جو کچھ اسباب کی بنا پر اہمیت رکھتا ہو۔ پاکستان جنوب ایشیا میں ایک اہم عسکری اور نیوکلیائی قوت کا حامل ملک تو بہر طور ہے۔ لہٰذا وزیراعظم پاکستان کی ماسکو آمد پر ان  کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے روسی افواج نے یوکرائن پر جنگ مسلط کر دی۔ دونوں واقعات کے درمیان باہمی نسبتی تعلق کا اندازہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان اور جرمن وزیر خارجہ کے بیانات ہیں ثانی الذکر نے بڑی شائستگی کے ساتھ آج 25 فروری کے بیان میں وزیراعظم کے دورہ روس کو یوکرائن پر حملے کے ساتھ بریکٹ کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم کے دورے کے آغاز پر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ

” یوکرائن سے متعلق روسی عزائم اور امریکی خدشات و پالیسی کے متعلق پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے“ ۔ امریکیوں نے توقع ظاہر کی ضرورت تھی کہ ”پاکستان ایک ذمہ دار جمہوری ملک کے طور پر کسی آزاد ملک ہر جارحیت کی مذمت کرے گا یا اس کی حمایت کے تاثر پیدا ہونے سے اجتناب روا رکھے گا۔“

یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اسلام آباد نے دورہ روس کے لئے مخدوش اور متنازعہ حالات کا انتخاب کیوں کیا ہے؟ قیاس غالب ہے کہ دورہ سے قبل چین کی حکومت کے ساتھ باہمی مشاورت کی گئی ہوگی جو دورہ کرنے کے فیصلے کا موجب بنا تاہم یہ نقطہ بھی بہت بنیادی ہے آخری وقت پر دورے کا التوا بھی نقصان دہ ثابت ہوتا۔ لگتا ہے خارجہ پالیسی کے خد و خال طے کرنے والے صورتحال کا صحیح اور ممکنہ مضمرات کا جائزہ لینے سے قاصر رہے ہیں اسی طرح چین کی آشیرواد سے خارجہ تعلقات کا رخ مرتب کرنا بھی قابل افسوس پہلو ہے۔

تاہم چونکہ چین روس کی سفارتی سطح پر بالواسطہ حمایت کر رہا تھا تو وہ جنگ کی حمایت سے بھی گریزاں رہا ہے مگر اس حملے کو بلاجواز بھی سمجھ رہا ہے چینی حکام یوکرائن کے بحران کو سفارتی ذرائع و گفت و شنید سے حل کرنے میں مغرب کے سرد مہر رویے اور گریز پائی کو حملے کا جواز سمجھتا ہے تو ممکن ہے چین کی خواہش ’رضا مندی یا خوشنودی مخلوط رکھتے ہوئے اسلام آباد نے 23 فروری کو ماسکو جانے کا اٹل فیصلہ کیا ہو!

ماسکو سے واپسی کے بعد وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے آج پریس بریفنگ میں بتایا ہے کہ ماسکو جانے سے قبل وزیراعظم آفس میں دورے کی جزیات عوامل و عواقب پر غوروخوض کیا گیا تھا انہوں نے امریکی توقع کو معصومانہ سوال اور پاکستان کے انکار کو مودبانہ جواب قرار دیا ہے اس بیاں سے سطور بالا میں بیان کردہ قیاسات کی تائید ہوتی ہے یقیناً وزیراعظم آفس میں ہوئی بیٹھک میں دورے کے اغراض و مقاصد کا تعین بھی ہوا ہو گا بحران کی شدید نوعیت کا، مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات کے پس منظر میں اس کے امکانات، خدشات و ثمرات کا مکمل و مفصل تجزیہ کیا گیا ہو گا۔ چنانچہ جناب شاہ محمود قریشی کے بیان نے واضح کر دیا ہے کہ حالیہ دورہ باضابطہ خارجہ پالیسی کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ روس کے ساتھ دوستانہ سفارتی روابط بڑھانا

دوطرفہ اقتصادی تجارتی تعاون کو وسیع کرنا بہت ہی مثبت اور قابل قدر سوچ ہے تو بھی اس پر عمل کے لئے نامناسب وقت کا انتخاب ناقابل فہم ہے جبکہ روس اور مغربی بلاک کے بیچ کشیدگی تناؤ سرخ لکیر چھو رہی تھی

یہ قابل فہم تھا کہ روسی اقدام کے رد عمل میں مغرب و نیٹو جنگ میں نہیں کودیں گے کیونکہ وہ اس طرح کی مہم جوئی کے نقصانات و مضمرات سے بے خبر نہیں ہوسکتے البتہ غیر عسکری ردعمل سامنے آنا نوشتہ دیوار تھا،

کیونکہ سرمایہ دار مغرب اور سرمایہ دار مشرق (روس) کے درمیان فوجی تصادم کا میدان جنگ یوکرائن یعنی مغرب بننے جا رہا ہو تو مغربی بلاک ایسی جنگ کے بھیانک اور تباہ کن اثرات کی وجہ سے سے صرف نظر کرنے پر مجبور ہو کر رہ جائے گا۔ پیوٹن نے بھی فیصلہ کرنے میں مغرب کے ردعمل کی حدود و نوعیت کا مکمل ادراک رکھتے ہوئے یوکرائن کی زمینی فضائی اور سمندری حدود میں حملہ کا فیصلہ و منصوبہ بندی کی ہوگی لیکن حملہ کے لئے مناسب وقت کا انتخاب کسی خاص موقع تک موخر رکھا ہو گا اور وزیراعظم پاکستان نے کشیدگی کے ماحول میں ماسکو پہنچ کر اسے یہ موقع مہیا کر دیا۔

جن توقعات اور امیدوں کی بنیاد پر ماسکو جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا دورے میں ان کی پیشرفت پر بات چیت ضرور ہوئی ہوگی روسی قیادت نے امیدیں دلائی ہیں انہیں ادراک ہو گا کہ ان پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو گا، روسی حملے کے عالمی اور مغربی بلاک کے جوابی اقدامات نے روسی وعدوں اور اسلام آباد کی توقعات پر پانے پھیر دیا ہے روس سے مالی معاشی تعاون اور مختلف شعبوں بالخصوص توانائی میں سرمایہ کاری کا حصول عالمی سطح کی اقتصادی پابندیوں کے بعد ناممکن ہو گیا۔ کم از کم اس قضیہ کے حتمی حل تک۔ مغرب عسکری جارحیت کے خلاف اپنی اقتصادی طاقت بروے کار لایا ہے یہ اقدام تنازعہ کے فریقین پر جتنے منفی معاشی اقتصادی اثرات مرتب کرے اس سے کئی گنا زیادہ کمزور معیشت والے ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے ۔

جنگ کے بعد مغربی دنیا کے غیر عسکری ردعمل کے تناظر میں پاکستان کے مطلوبہ فوائد کا عملی حصول مشکل بلکہ ناممکن ہو گا۔ دورے سے قبل اس پہلو کو نظر انداز کر دینا سفارت و خارجہ تعلقات کی نزاکتوں سے مکمل لاعلمی یا تغافل کے زمرے میں آتا ہے۔ جناب شاہ محمود قریشی 25 فروری کو بھی اس خوش امیدی میں مبتلا نظر آئے کہ دورے کے نتیجے میں روس توانائی کے شعبے میں اور بالخصوص گوادر بندر گاہ پر ٹرمینل کے قیام اور دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرے گا۔

جبکہ مغرب جاپان اور دیگر عالمی معاشی قوتوں نے روس پر جو معاشی قدغنیں عائد کی ہیں ان کے بعد روس اور پاکستان کے درمیان معاشی تجارتی باہمی تعاون ممکن ہی نہیں رہا اس حوالے سے ایران پاکستان انڈیا پائپ لائن منصوبے کی مثال موجود ہے۔ امریکی پابندیوں کے باعث بھارت نے منصوبے پر عمل نہیں کیا تو خود پاکستان نے بھی ایرانی سرحد سے آگے گیس پائپ لائن بچھانے کا اپنے حصے کا کام انجام نہیں دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ دفاعی محکمے نے اس صورتحال میں دورے کے بارے کیا کردار ادا کیا ہے؟ جو قومی دفاع اور خارجہ پالیسی پر اپنے نقطہ نظر کے مطابق مکمل گرفت رکھتا ہے؟

ممتاز اطہر نے کہا تھا۔
پڑھا گیا نہ کسی سے جو نقش آب تو پھر!

جناب شاہ محمود فرماتے ہیں کہ پاکستان کسی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا اسی کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مارچ 22 میں بیجنگ میں افغان مسئلہ پر ہمسایہ ممالک کی کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ بھی شریک ہوں گے ۔ کیا یہ کانفرنس ایک نئے بلاک کی بنیاد نہیں بننے جا رہی؟

روسی جارحیت اگلے چند دن جاری رہے گی یوکرائن مفتوحہ ملک بن جائے گا تو روس وہاں اپنی من پسند حکومت قائم کر کے اپنی فوجوں کے انخلاء کے مغرب سے مشروط بات چیت کرے گا وہ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت ناممکن بنا دے گا یہی اس قضیے کا آخری نتیجہ ہو گا مغرب اس کا جلد حصول چاہے گا تاکہ روسی گیس اور توانائی کی معطل سپلائی بحال ہو۔ تو روس بھی اقتصادی پابندیوں کے فوری خاتمے کا خواہش مند ہو گا۔ یوں سرمایہ داری دو مختلف حلقوں کے بیچ ہونے والی حالیہ جنگ چھوٹے ممالک کی اقتصادیات تباہ کر کے ختم ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS